کورونا سے خوف نہیں صرف احتیاط
26 مارچ 2020 2020-03-26

کرونا وائرس نے ان ممالک میں زیادہ تباہی پھیلائی ہے جہاں اس وائرس سے بچائو کے لیے تدابیر نہیں کی گئی یا پھر اس وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا مگر ان تما م باتوں کے باوجود کروناوائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے، کرونا سے متاثرہ بہت سے وہ ملک جن میں اٹلی، امریکا،سوئزر لینڈ ،سپین، ایران اور چین جیسے ممالک شامل ہیں،جبکہ پاکستان کو ملاکر کل متاثرہ ممالک کی تعداد دوسو کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ اٹلی یورپین ممالک میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آچکاہے جہاں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تبدیل ہوچکی ہے، ایسے مغربی ممالک شروع شروع میں کروناو ائرس کے مریضوں کو نزلے اور زکام کا مریض سمجھتے رہے یہ وہ ممالک ہیں جن کی صحت کی سہولیات پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہیں ،مگر آج یہاں کی عوام ہی نہیں بلکہ ان کے ڈاکٹر جو ان کے مسیحا ہیں وہ بھی شدید خوف میں مبتلا ہیں ،کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ کرونا وائرس چین سے پہلے امریکا میں رونما ہوا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر چین کے وزیرخارجہ کے ترجمان لیجائن ثاائونے لکھا کہ امریکا میں2019 میں زکام سے تین کروڈ چالیس لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں سے بیس ہزار افرا د کی اموات ہوئی ۔اگر امریکا میں گزشتہ ستمبر کرونا وائرس کا آغاز ہوگیا تھا تو اب تک کتنے افراد اس وائرس میں مبتلا ہوچکے ہونگے ؟۔

لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے برعکس چھبیس فروری کو کرونا کا پہلا کیس جب پاکستان میں سامنے آیا تو اس وقت یہ طے پاگیا تھا کہ اب ہمارے سماجی فاصلوں کو دورکرنے کا وقت آگیاہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ شاید ہم نے اس وائرس کو اس قدر سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہم نے وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کی جانب سے دیئے گئے مشوروں پرنظم وظبط کا مظاہرہ نہیں کیاجس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ ہم اپنے اپنے گھروں میں مقید ہوکر رہ گئے ہیں جو فی الحال اس قوم کو اس مہلک بیماری سے بچانے اور ملک میں افراتفری پھیلانے اور خود کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنے کا بہترین طریقہ ہے اور کرونا وائرس سے بچائو کا ایک بہترین حل بھی ،کیونکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے یہ بات واضح کردی تھی کہ کروناوائرس سے جنگ حکومت نہیں قوم جیت سکتی ہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ وزیراعظم تمام تر اقدمات کی خود نگرانی کررہے ہیں اورعوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ لیکن ان تمام تر باتوں کے باجوود مشکل ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے حکومت نے اس آفت سے بچنے کے لیے ٹھوس اورمشکل ترین فیصلے کیے ہیں یہاں تک اس ملک میں قانون سازی کے اہم ترین ادارے سینٹ سیکرٹریٹ تک کو حکومت نے بند کردیاہے،بلکہ یہ عمل تو کوئی حیثیت نہیں رکھتا اس بات کے آگے کہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ بیت اللہ کے صحن میں طواف کا عمل روکا گیا ہو،دنیا بھرکی مساجد میں ہونے والے خطبات اور نمازوں کو محدود کردیا گیا ہو،اور جب دنیا بھر کے علماء کرام، سائنس دان ، سیاستدان دانشور حضرات اس وائرس کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہو اور بار بار یہ ہی کہہ رہے ہوکہ اپنے اپنے گھروں میں رہ کر احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو پھرماننے یہ ناماننے کا کونسپٹ کہا رہ جاتاہے ،کیونکہ یہ وہ وائرس ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتا یہاں تک کہ مذاہب کی پہچان بھی نہیں کرتا جوصرف اور صرف انسانیت کا دشمن بناہوا ہے، اس وقت جس صورتحال کا سامنا ہے یہ کوئی خشک سالی، سیلاب، زلزلہ یا کوئی طوفان نہیں ہے بلکہ ایک ایسی وبائی بیماری ہے جس سے پہلے ہمارا کبھی واسطہ نہیں پڑا ہے،یہ خوش آئند عمل ہے کہ جب سے کورونا شروع ہوا ہے تب سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کام کر رہی ہیں، موجودہ صورتحا ل میں ہمیں کسی بھی قسم کی کوئی سیاست نہیں کرنی چاہیے، ہمیں ایک جان ہوکر اس آفت کا مقابلہ کرنا ہوگا، لہذاسندھ حکومت سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں تک جہاں کہیں یہ میری تحریر پہنچے ان لوگوں سے اپیل ہے کہ براہ کرم وہ اپنے اپنے گھروں میں رہیں ، بلاوجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں ہوٹلوں میں نہ جائیں ، مارکیٹوں میں نہ جائیں ، ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اورگلے ملنے سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ ہینڈسینیٹائز اور ماسک کا استعمال کریں اس کے علاوہ اپنے اہلخانہ سے بھی کہیں وہ ایک دوسرے سے کچھ دور ہوکر بیٹھیں یعنی وہ تمام احتیاطی تدابیر جو صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو بتائی جارہی ہیں ان پر مکمل عمل درآمد کو یقنی بنایا جائے ،اور کوشش کریں کہ اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے توبہ استغفار کا عمل زیادہ سے زیادہ کریں کیونکہ یہ خدائی آفت ہے جو یقینی طورپر اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اس لیے کوشش کرے کہ اللہ سے گڑگڑا کر اپنی گناہوں کی معافی مانگیں علاوہ ازیں اس وقت صوبائی اور وفاقی حکومتیں اپنا اپنا کام کر رہی ہیں ، ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں مگرمسئلہ یہ ہے کہ کرونا اتنی بڑی وبا ہے کہ اس کو کنٹرول کرنااتنا آسان نہیں ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقدامات اس طرح سے نہیں ہو سکے جیسے ہونے چاہئے تھے،لیکن اگر عوام ہمار ا ساتھ دیگی تو انشاء اللہ ہم اس مسئلے کو ضرورکنٹرول کر لیں گے میں ان دنوں خود اپنے دوستوں کو یہ پیغام دے رہا ہوں کہ ہم نے ساری زندگی سیاست کی ہے لیکن اس ایشو پر کوئی سیاست نہیں ہوگی کیونکہ زندہ رہیں گے تو سیاست بھی ہو گی، وفاق سندھ سمیت تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے میں خود بھی کورونا سے بچائو کے لئے سندھ حکومت کے ساتھ کھڑا ہوں، جب کہ ہمیں اس مشکل کی گھڑی میں تما م ڈاکٹرز ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جو انسانیت کو اس وبا سے بچانے کے لیے اپنی زندگیاں دائو پر لگابیٹھے ہیں،اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں یہ وبا آگے چل کر کیا شکل اختیا رکرتی ہے مگر اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم ایک قوم بن کر ضرور اس وبا سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ورنہ اٹلی جیسے ممالک ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں جن کی لاپرواہی کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ آج ان کے ہسپتالوں میں تو دور کی بات وہاں کے قبرستانو میں بھی لاشوں کی تدفین کے لیے جگہ باقی نہ بچی ہے، لہٰذا خدارا اس کروناوائرس کو مذاق نہ سمجھا جائے بلکہ ایک سنجیدہ قوم بن کر اور نظم وضبط کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اس آفت کا مقابلہ کیا جائے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ قدرتی آفات کے ساتھ حکومتیں نہیں قومیں لڑا کرتی ہیں، اور آج وہ دن آگیاہے کہ بحیثیت ایک قوم ہم سب کو کرونا وائرس کا مقابلہ کرنا ہے۔


ای پیپر