کورونا بمقابلہ جاہلیت
26 مارچ 2020 2020-03-26

پاکستانی قوم کی زندہ دلی اور مہمان نوازی کی مثالیں یوں تو ہمیشہ سے ہی موجود ہیں مگر کورونا کے استقبال کے جو مناظر ایشیا اور خصوصاً پاکستان میں دیکھے گئے انکی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ فروری میں کورونا کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے تو حکومت نے سکولوں میں چھٹیاں دے دیں۔ سکول بندہوئے تو ہماری زندہ دل عوام کو تفریح منانے کا موقع مل گیا، کسی نے مری کو رخ کیا تو کوئی مقامی تفریح گاہوں پر پہنچ گیا۔ حکومت نے مجبوراًتفریحی مقامات وپارکس بھی بند کر دئیے اور شہریوں سے گھر وں میں رہنے کی اپیل کی مگر یہ تو پاکستانی عوام ہیں۔تفریح گاہیں نہ سہی شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس تو کھلے ہیں نہ گھر کیوں بیٹھیں ؟کسی کو ریسٹورنٹس یا شاپنگ مالز نہیں جانا تو کوئی بات نہیں سڑک پر گشت، لانگ ڈرائیو، گلی محلوں میں گروپس کی شکل میں کھڑے ہو کر گپ شپ لگانا یہ سب بھی ہمارے پاکستانیوں کی تفریح میں ہی آتا ہے۔اس زندہ دل قوم کے بچوں کی سنیے، سکول سے چھٹیاں ہیں تو کیا ہوا محلے کے بچوں کے ساتھ اکٹھے ہو کر کرکٹ نہ کھیلا تو کھانا کیسے ہضم ہو گا ۔ منچلوں کی رودادیں تو چھوڑ ہی دیں کوئی ٹک ٹاک پر پاؤں سے سلام کرنے کا طریقہ بتا رہاہے تو کوئی کورونا پر لطیفے بنانے میں مصروف ہے ۔ ایسی غیر سنجید ہ قوم کو تو شائد قیامت کے مناظر بھی خوف نہ دلا سکیں لیکن انتہائی قابل افسوس رویے اوروہ سوچ دیکھ کر حیرانی ہوئی جو مشکل کی اس گھڑی میں وہ نقطے ڈھونڈ رہی ہے جنھیں بنیاد بنا کر تفرقہ پھیلایا جا سکے ۔مولانا طارق جمیل کی جانب سے دعا پر تبصرے ، وبا کی صورتحال میں سلام کو جائز یا ناجائز قراردینے پر بحث، الکوحل والے سینیٹائزر کے حلال یا حرام ہونے کے فتوے اور سینکڑوں ایسے سوال جواب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش

کر رہے ہیںجو ہمارے بیمار ذہن معاشرے کی تصویر واضح کر رہے ہیں ۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی کہیں ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے تھے جب دوڑ ٹیکنالوجی کی ہے ، جب دوڑ دنیا کی معشیت کنٹرول کرنے کی ہے جب دوڑ دینا کے تھنک ٹینکس پر حکومت کرنے کی ہے مگر ہم اس دور میں بھی اس دوڑ کہ آخر میں ہیں نہ درمیان میں اور نہ ہی شروع میں۔ بطور قوم ہم آج بھی ظاہری سہاروں کے پیچھے لگ کر اپنا اصل بھول بیٹھے ہیں۔ ہم زبان سے تو کہتے ہیں اللہ پر توکل ہے، رزق اسی نے دینا ہے مگر ایمان کا یہ حال ہے کہ مہینوں کا رزق ذخیرہ کرنا چاہتے ہیں ۔ بحث یہ کرتے ہیں کہ مساجد بند کرنے کی اجازت ہے یا نہیں مگر عام دنوں میں خالی مساجد کسی کو نظر نہیں آتیں ۔ بحث یہ بھی کرتے ہیں کہ مصافحہ کرنا سنت ہے یا نہیںمگر عام دنوں میں بھی مصافحہ اپنے برابر یااپنے سے اوپر کے لوگوں سے کرتے ہیں ۔ کیا کسی نے دیکھا ہے مالکان کو ملازموں سے مصافحہ کرتے ؟ کیاکبھی دیکھا ہے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین سے کسی کو گلے ملتے ؟ کیا دل مانتا ہے کبھی سینیٹری ورکرز سے ہاتھ ملانے کو ؟ یقیناََ نہیں تو پھر اس منافقت کی ضرورت کیا ہے آخر؟میں نے ایک اینکر کو مولانا طارق جمیل سے یہ سوال پوچھتے سنا کہ آگے عید آنے والی ہے کیا مسلمانوں کو کورونا کی صورتحال میں عید کی مبارکباد کے لئے گلے ملنے کی اجازت ہو گی ۔ پھر اگلا سوال یہ داغا گیا کہ کیا عید پر گلے ملنا سنت ہے یا نہیں ۔ کیا واقعی میں یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب ہمیں علماء کرام سے جاننے کی ضرور ت ہے ؟ ایک اور واقع سن لیںاسلام آباد کے پمز اسپتال سے جمعہ کے روزکورونا قرنطنیہ میں رکھے گئے دو مریض غائب ہو گئے ۔انتظامیہ ڈھونڈتی رہی مگر مریض 1گھنٹے بعد خود ہی آ گئے ۔ استفسارکیا گیا تو جواب ملا کہ ہم باجماعت نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے گئے تھے ۔نماز جمعہ کے فرض کی ادائیگی کے لئے ہمارے معزز مریضوں نے سینکڑوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا بھی اپنا فرض ہی سمجھا۔ حضرت علی ہجویری اپنی کتاب کشف المعجوب میںلکھتے ہیں کہ دنیا کی نظر میں3طرح کے لوگ صوفی سمجھے جاتے ہیں ۔ ایک وہ جو اللہ کا نیک بندہ ہے مگر دنیا اسے نہیں جانتی ہے۔ دوسرا وہ جو اللہ کے نزدیک ہے اور دنیا بھی اسے جانتی ہے اور عزت و احترام دیتی ہے ۔تیسرا وہ جو اپنی ظاہری شخصیت کی بنیاد پر دنیا کی نظر میں اللہ کا نیک بندہ ہے مگر اسکا ظاہر و باطن مختلف ہے ۔دنیا ایسے بندے کو نیک سمجھ کر عزت و تکریم دیتی ہے مگر اسکاباطن ظاہری اعمال سے مختلف ہیں ایسے شخص کے لئے منافق کا لفظ استعمال ہو اہے ۔ہماری قومی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی رہنمائی کے لیے تیسری قسم کے صوفی حضرات پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ حالانکہ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے انسان کا بہترین استاد اسکے اپنے اندر موجود ہے ، صیح اور غلط کیا ہے اس کی آوازہمارے اندرضمیر کی صورت میں موجود ہے ۔ایک دور تھا جب لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے پیروں اور فقیروں کے پاس جاتے تھے ۔ جعلی پیروں اور بابوں کے بارے میں رائے بدلی تو اس پیشے نے اپنا روپ بدل لیا اور آج وہی سوچ موٹیویشنل سپیکرز کا روپ دھار کر نوجوان نسل کو ورغلا رہی ہے ۔ محبوب آپکے قدموں میں سے لے کر کامیاب زندگی کے 100 راز تک کا سفر شائد دیکھنے والوں کوکئی برسوں تک کا لگے مگر یقین مانیں یہ وہی رکشہ ہے جو بس سٹیشن کے گول چکر پر گھوما کر پورے پیسے وصول کرتا ہے ۔ اسی لئے ہوش کے ناخن لیں اور کورونا سے ہی سبق سیکھ لیں جو آنکھ سے نظر نہیں آتا لیکن عالمی طاقتوں کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ جس طرح کورونا سے بچاؤکا واحد حل(سیلف آئسولیشن ، ہاتھ دھونا ، ماسک پہننا اور پانی پینا) آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے بالکل اسی طرح آپ کی رہنمائی اور آپ کا استاد بھی آپ خود ہیں لہٰذا صوفیاء کرام کی تیسری قسم سے جان چھڑائیں اور اپنا راستہ خود بنائیں۔


ای پیپر