کورونا وائرس اور ہمارے قومی رویئے
26 مارچ 2020 2020-03-26

گزشتہ تین مہینو ں کے دوران کورو ونا وائرس کے پھیلاو ء نے پوری دنیا کو ایک ہیجانی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔ اس وقت دنیا کے 196 ممالک میں اس وائرس نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیںاور پوری دنیا میں ایک اضطرابی کیفیت ہے کہ کس طرح اس برق رفتاری سے پھیلتے ہوئے جرثومے کا راستہ روک کر انسانیت کو اس عذاب سے چھٹکارا دلایا جا سکے۔ کورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں پاکستان بھی دنیا کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہے۔ گو کہ پوری دنیا کی طرح پاکستان کے عوام کیلئے یہ ایک مشکل گھڑی ضرور ہے لیکن اس موذی وائرس کے خلاف جنگ جیتنا نا ممکن نہیں ہے بشرطیکہ ہم اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لے آئیں۔ قوموں کی زندگیوں میں ایسے حالات ضرور آتے ہیں لیکن گھبرانے کی بجائے اسکا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہی قوموں کی طاقت اور شناخت کی دلیل ہواکرتی ہے۔ مملکت خداداد کیلئے یہ کوئی پہلی اور نئی چیلنج نہیں ہے بلکہ پاکستان کی پوری تاریخ ایسی آزمائشوں سے بھری پڑی ہے۔۲۰۰۵ میں جب ملک میں ہولناک زلزلہ آیا تو ملک کے طول وعرض سے لوگ جوق درجوق اپنے ہم وطنوں کی مدد کو پہنچے اور متاثرین کے گھروں میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کے انبار لگا دیئے۔ یہی غیور عوام ملک میں ۲۰۱۰ میں آ ئے سیلاب کی تباہ کاریوں کے خلاف اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی مدد کیلئے صف اول میں دیکھے گئے۔ اس ملک کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ یوں کھڑی رہی کہ دنیا داد دئے بغیر نہیں رہ سکی۔اس سے

پہلے پوری دنیا نے دیکھا کہ کہ ۲۰۰۹ میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں جب سوات اور پورے قبائلی علاقی جات سے لاکھوںفرزندان پاکستان کو اپنے ملک کی بقا کی خاطر اپنے ہی ملک میںبے گھر ہونا پڑا تو کس پامردی سے اس بہادر قوم نے اپنے گھرباراس کو پیش کردئے۔ خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے عوام کا جذبہ قابل دید تھا جنہوں نے اپنے نوالے متاثرین کو پیش کرکے انصار مدینہ کی یاد تازہ کردی۔عرض یہ کہ جب بھی اس قسم کے حالات وواقعات سے اس قوم کا واسطہ پڑا ہے اس بہادر قوم نے بڑی جرات اور پامردی کامظاہرہ کر تے ہوئے ان قومی المیوں کا سامنا کیا ہے۔ آج ہمیں ایک بار پھر اسی قوت کے ساتھ اتحاد واتفاق ، ملی یگانگت اور قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ملک کے ہر شہری کوکورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں بھرپور طریقے سے اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ دیکھنے میں آرہاہے کہ کچھ لوگ حکومت کی طرف سے آئی ہوئی ہدایات کو سنجیدہ نہیں لے رہے، کچھ حضرات تو سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف قسم کے غیر سنجیدہ پوسٹ شیئر کر کے اس صورتحال کو مذاق سمجھ رہے ہیں۔ کچھ حضرات نے اس کو اپنی انا کا مسلہ بنا یاہوا ہے تو کئی ایک نے ممبر ومحراب کا سہارا لے کرلوگوں کو اپنی دلیلوں کے ذریعے اس بات پر قائل کرنا شروع کردیاہے کہ یہ کورونا وائرس کے نام پر مذہب کے خلاف مغربی دنیا کی ایک نادیدہ سازش ہے۔ کئی ایک نے پرپیگنڈاشروع کیا ہے کہ یہ بین الاقوامی برادری سے پیسہ بٹورنے کیلئے حکومت کی ایک چال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں سیاست اور مذہب کی اپنے اپنے انداز میں تشریح کرنے کی بجائے حالات کی سنگینی کا ادراک کرکے نتائج کا سامنا کرنے کیلئے اپنے آپ کو تیارکرنا چاہئے۔اپنے محدود وسائل کے ساتھ جو بھی بن سکے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ اس کے لئے ہمیں اس وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے جب تک خدا نخواستہ ہمارا کوئی عزیز ، رشتہ دار اس جان لیوا وائرس کی بھینٹ چڑھ جائے۔ اس آفت خداوندی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم سے جتنا ہوسکے ہم اللہ تعالی کے سامنے سربسجود ہوکراپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ لیکن یہ عمل انفرادی طور پر بھی ممکن ہے۔ حضورؐ کا معمول تھا کہ جب کبھی ایسی صورتحال بنتی تو رات کی تاریکی میں لمبے لمبے نوافل پڑھتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفا ر کی دعائیں مانگتے۔ حضورؐ کی سیرت طیبہ پر نظر ڈالنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بھی ایسی حالات میں احتیاطی تدابیر پر زور دیاہے کیونکہ اسلام میں جان ومال اور اولاد کی حفاظت انسان کا فرض اولین ہے۔ اس لئے ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اپنے قومی رویوں میں تبدیلی لائیںحکومت کی طرف سے دیے جانے والے احکامات کو ہوا میں نہ اڑائیں بلکہ ان احکامات پر پوری طرح سے عمل کرکے حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ احتیاط اور صرف احتیاط ہی اس وائرس کے خلاف جنگ جینتے کا واحد حل ہے۔دنیا کے حالات اور خصوصامغربی دنیا اور امریکہ کے حالات ہمارے سامنے ہیں اگر وہ اپنے بھرپور وسائل کے باوجود اس جنگ کے خلاف کچھ کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے تو ہم اپنے محدود وسائل کے ساتھ یہ جنگ اتنی آسانی سے کیسے جیت سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنی قوت ایمانی کے ساتھ ساتھ مثبت سماجی رویوں کے ساتھ اس جنگ کے خلاف میدان میں اتریں گے تو انشاء اللہ فتح ہماری ہی ہوگی۔


ای پیپر