غرناطہ کے غدار
26 مارچ 2020 2020-03-26

بیٹے کی باپ کے خلاف بغاوت کی خبر نے حملہ آور فرڈینڈکو نیا حوصلہ دیا وہی لشکر جو شکست کھا کرسامان چھوڑ کر فرارہو رہا تھا اُس نے اپنی سپاہ کو اکٹھا کیا اور مالقہ پر زوردار حملہ کر دیا دونوں فوجوں میں گھمسان کا رَن پڑا مگر ابوعبداللہ کی تجربہ کاری کے آگے مسیحی فوج ٹھہر نہ سکی لیکن بدقسمتی ابھی تاک میں تھی عین اُس وقت جب دشمن فوج کے پائوں اُکھڑنے لگے تو ابو عبداللہ نے اپنے باپ کی فوج پر پشت سے حملہ کر دیا اور والد کو میدانِ جنگ میں مارنے کی کوشش کی تاکہ تخت چھن جانے کا امکان ہی نہ رہے یہ صورتحال بہت پریشان کُن تھی مگر جرنیل نا موافق حالات دیکھ کر حوصلہ نہیںچھوڑتے بلکہ ڈٹ جاتے ہیں یہی کچھ سلطان ابوالحسن نے کیا بیٹے اور دشمن کے حملے کا بیک وقت مقابلہ کیا اور نہ صرف دشمن کے دانت کھٹے کردیے بلکہ بیٹے کو بھی واپس غرناطہ کی طرف دھکیل دیا۔

ابو عبداللہ نے سازشیوں کے اُکسانے پر جوش میں آکر تخت تو سنبھال لیا لیکن حکمت وتدبر سے عاری تھا ایک طرف دشمن تھے تو دوسری طرف والد کی سپاہ سے خطرہ تھا ابوعبداللہ اور فرڈینڈ کے لشکر کا لوسینے نامی جگہ پر ٹکرائو ہوگیا جس میں اُسے شکست ہوئی اور ابوعبداللہ کو فرڈینڈ گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے جاتا ہے جو بیٹا اقتدار کے لیے حالات کی نزاکت کی پرواہ نہیں کرتا اور باپ کے مقابلے میں آجاتا ہے اُس پر کوئی اعتبار نہیں کرتا مگر فرڈینڈ ابواعبداللہ کو یقین دلاتا ہے کہ تم ہی غرناطہ کے اصل حکمران ہو مجھے تمھاری حکمرانی پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ میں تو غرناطہ کاتمھیں حکمران بنانے کے لیے تمہاری مددکرنا چاہتا ہوں لیکن تمہارااوالد اورچچا تمھیں آسانی سے اقتدار نہیں دے گا اگر غرناطہ کا حکمران بننا چاہتے ہوتو اپنا لائحہ عمل تیارکر لو میں ہر طرح کی مدد کو تیار ہوں ابو عبداللہ باتوں میں آجاتا ہے اور اقتدار واپس لینے کے لیے غوروفکرمیں لگ جاتا ہے ۔

سگے بیٹے کی بغاوت کا سلطان ابو الحسن نے سخت صدمہ لیا بھوکا پیاسا رہنے سے لاغر ہوگیا اور گوشہ نشین ہو گیا اسی دوران فالج کی بیماری اُسے آگھیرتی ہے وہ حکمرانی سے کنارہ کش ہوتے ہوئے اپنے بھائی محمدبن سعد الزاغل کو غرناطہ کا حکمران بناکرفرڈینڈسے مقابلے کی ہدایت کرتا ہے الزاغل ازسرے نو افواج کی تیاری

کی طرف دھیان دیتا ہے نئے اور مضبوط ہتھیاروں سے لیس کرتا ہے جرأت مند اور ذہین شخص کے اقتدار میں آنے سے رعایابھی اچھا اثر لیتی ہے جس کی وجہ سے رعایا اور فوج نئے عزم و حوصلے سے اپنے حکمران کی قیادت میں ریاست کے تحفظ پر تیار ہوجاتے ہیں ۔

فرڈینڈ کوباربار میدان میں شکست کی بنا پر یقین ہوجاتا ہے کہ جب تک مسلمانوں میں پھوٹ نہ ڈالوائی جائے کامیابی کا کوئی امکان نہیں وہ ابوعبداللہ کے ذہن میں اقتدار چھیننے کا خناس ڈال کر قید سے رہاکردیتا ہے ابوعبداللہ بار بار کی وعدہ خلافی سے بھی سبق حاصل نہیں کرتا اور اپنے چچا اور والد کے خلاف ہونے والی سازشوں میں آلہ کاربن جاتا ہے وہ مالقہ پہنچ کر لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ آپ اگر میراساتھ دیں تو مسیحی آپ پر آئندہ کبھی حملے نہیں کریں گے بلکہ میں آپ کی مسیحیوں حملہ آوروں سے صلح بھی کر اسکتا ہوں جس سے آپ امن و سکون سے رہ سکتے ہیںہر روز ہونے والی لڑائیوں سے تنگ لوگ چکنی چپڑی باتوں میں آگئے کی جس کی بنا پر مالقہ جیسا علاقہ ابواعبداللہ کے اثر میں آگیا لوگ اُس کے احکامات تسلیم کرنے لگے اور غرناطہ کے دائرہ اثر سے باہر ہو گئے ابوعبداللہ نے دوسری چال یہ چلی کہ لوسے کا قلعہ دینے کی صورت میں اپنے چچا سے مل کر فرڈینڈ سے مشترکہ مقابلے کی تجویز دی چچا اپنے بھتیجے پر اعتبار کر لیتا ہے قلعہ ملتے ہی ابوعبداللہ اپنے اتحادی فرڈینڈ کو لوسے آنے کی دعوت دیتا ہے غداری کی پاداش میں مالقہ کے لوگ اپنے حکمران ابو عبداللہ کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں ہرطرف افراتفری پھیل جاتی ہے صورتحال بگڑتی دیکھ کر فرڈینڈ مالقہ کا محاصرہ کرلیتا ہے تاکہ مالقہ اور غرناطہ کے لوگ ایکا نہ کر سکیں مالقہ کے لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر الزاغل مددکرنے آتا ہے مگر موقع کی تاک میں بیٹھا ابو عبداللہ فوری غرناطہ پہنچ کر تخت سنبھال لیتا ہے جس پر الزاغل ناراض ہوکر فرڈینڈ کو اپنی حمایت کا یقین دلا کر غرناطہ پر حملے کی شہ دیتا ہے اِس طرح غرناطہ کے غدار مل کر اپنوں کی تباہی کا سامان کرتے ہیں۔

فرڈینڈ موقع ضائع نہیں کرتا اور ابوعبداللہ سے غرناطہ کی چابیاں طلب کرتا ہے جس پر ابوعبداللہ بھونچکا رہ جاتا ہے اور ساراماجرارعایا کو سناتا ہے لوگ آخری دم تک لڑنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں سخت لڑائی ہوتی ہے جس کے دوران اہلِ غرناطہ کو نہ صرف فتح ملتی ہے بلکہ مزید کئی اہم علاقے اُن کے قبضے میں آجاتے ہیں مگر یہاں چچا اپنے بھتیجے کے خلاف غداری کے لیے پیش ہوجاتا ہے الزاغل اور فرڈینڈ مل کر غرناطہ پر حملے کرنے لگتے ہیں اور غرناطہ کی ریاست کے مضافات کے تمام چھوٹے چھوٹے قلعوں پر قبضہ کر لیتے ہیں جس کے بعد ایک بار پھر فرڈینڈ اپنی خصلت ظاہر کرتا ہے اور غرناطہ کا تخت دلانے کا وعدہ پورا کرنے کی بجائے الزاغل کو اسپین سے نکل جانے کا حکم دیتا ہے جس کے بعد وہ مراکش چلا جاتا ہے اور تاریخ کے اوراق میں گم نامی کا شکار ہوکر موت کو گلے لگاتا ہے ٹھہریے ابھی ایک غدار انجام کو پہنچاہے دوسرے کا انجام بھی پڑھ لیں ۔

1492 ء میں فرڈینڈ اور ملکہ ازابیلا نے موسم گرما آتے ہی غرناطہ کا محاصرہ کر لیا مگراہلِ غرناطہ کو شمال کی جانب سے پہاڑی سلسلے سے کمک پہنچتی رہی لیکن برفباری کی وجہ سے جب راستے مسدود ہوگئے تو شہرمیں کھانے پینے کی اشیا کی دستیابی مشکل ہو گئی جس پر ابو اعبداللہ پریشان ہوگیا اور اپنے سپہ سالار موسیٰ بن ابی غسان سے مشورہ طلب کیا اُس نے آخری سپاہی تک لڑنے کی تجویز دی لیکن بزدل ابوعبداللہ لڑنے پر آمادہ نہ ہوا وہ صُلح کرکے رعایتیں حاصل کرنے کا متمنی تھا اِ س دوران غرناطہ کے وزیرِ اعظم ابوالقاسم نے حملہ آور فوج سے سازباز کے لیے بات چیت شروع کردی جس پر ابو عبداللہ بھی رضا مند ہوگیااور بات چیت کے نتیجے میںحملہ آوروں نے ابوعبداللہ کو البشرات کے علاقے میں جاگیر لینے اور بدلے میں غرناطہ کی سربراہی چھوڑنے پر آمادہ کر لیا 2جنوری 1492ء کو ابوعبداللہ نے غرناطہ کی چابیاں اپنے ہاتھوں سے فرڈینڈ اور ملکہ ازابیلا کو پیش کیں جس کے ساتھ ہی بڑے پادری نے الحمرا پر لہراتا اسلامی پرچم اُتارکر صلیب کو لگادیا یہ اِس امر کا اعلان تھاکہ آٹھ سوسالہ اسلامی حکمرانی ختم ہو چکی اِس طرح مسلمان اپنے ہی وطن میں اجنبی بن گئے۔

غرناطہ کے غدار اقتدار کی خواہش میں خاک کا رزق بن گئے لیکن یہاں میرا قارئین سے سوال ہے کہ مذکورہ بالا داستان میں ہمارے لیے کوئی عبرت کا پہلو ہے؟ وطن کے خلاف اغیار کا آلہ کار بن کر کچھ حاصل ہوسکتا ہے؟دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں اپنے وطن کو نقصان پہنچاکر تحسین یا تکریم ملتی ہے؟اگر وطن کے خلاف کام کرنے سے تحسین یا تکریم کی بجائے ذلت ورسوائی ہی حصے میں آتی ہے توآئیے پھر عہد کریں اپنے وطن کی حفاظت و سالمیت کے لیے ذاتی، نسلی ،لسانی اور علاقائی مفاد بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے کیا فرماتے ہیں آپ ؟ (ختم شد)


ای پیپر