روٹھے رب کو منانا اب اتنا آسان بھی نہیں !
26 مارچ 2020 2020-03-26

کورونا وائرس کو دنیا محض ایک وائرس سمجھ رہی ہے، اِس وائرس سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنے پر زوردے رہی ہے، اِس کی ویکسین نکالنے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھی ہے، ممکن ہے اِس کی کوئی ویکسین، اِس کا کوئی علاج ڈھونڈ لیا جائے، پر یہ اصل میں اللہ کا اِک عذاب ہے جس کے واضح اشارے مقدس کتابوں خصوصاً قرآن مجید میں موجود ہیں، سو یہ عذاب اللہ کی رحیمی اور کریمی کے باعث ٹل بھی گیا، اپنی بداعمالیوں کے نتیجے میں آنے والے کس کس عذاب کو دنیا روکے گی ؟، کس کس عذاب کی ویکسین تیار کرے گی؟، کس کس کا علاج ڈھونڈے گی؟ علاج صرف ایک ہے، ہرقسم کی منافقتوں سے پاک ہوکر اللہ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلا جائے۔ کرونا نامی اِس عذاب کی زد میں تقریباً 196ممالک اب تک آچکے ہیں، جو ممالک اِس عذاب کی زد میں نہیں وہ اِس کے خوف کی زد میں ہیں، خوف بھی عذاب ہی کی اِک قسم ہوتی ہے، ایک خوف محبت کا ہوتا ہے، صرف یہ خوف عذاب نہیں ہوتا، رحمت ہوتی ہے، اگر محبت پاک ہو، میرے نزدیک سب سے بڑا خوف ، محبت کا خوف ہے، میں ”مسلمانوں کی بات کرتا ہوں، میں اپنی بات کرتا ہوں، ہمارا خیال تھا یہ عذاب چائنہ تک رہے گا، کیونکہ وہ اللہ کو نہیں مانتے، یہ عذاب ہم تک نہیں آئے گا جو اللہ کو مانتے ہیں، اللہ کی نہیں مانتے، ہم اِس یقین میں مبتلا رہے اللہ چونکہ اپنے بندوں سے سترماﺅں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے وہ بھلا ہمیں کسی عذاب میں کیسے مبتلا کرسکتا ہے؟ ہم نے یہ نہیں سوچا اپنے بندوں سے سترماﺅں سے بڑھ کر پیارکرنے والا رب جب اپنے بندوں کے ساتھ ظلم ہوتے ہوئے دیکھتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے انسان قدرت کے باقاعدہ مقابلے پر اُتر آیا ہے، انسانوں کی منافقت عروج پر ہے، سب سے بڑی خوبی ”جھوٹ“ کو وہ کوئی خرابی یا گناہ ہی تصور نہیں کررہا، اُس کے نافرمانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، انسانوں کے ظلم کی زد میں اُس کے وہ نیک، پاکیزہ، صابر اور شاکر لوگ بھی آتے جارہے ہیں جن سے واقعی وہ سترماﺅں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے، پھر اُس کا غصہ اِس حدتک بڑھ جاتا ہے وہ مختلف اقسام کے عذاب نازل کرتا ہے، وہ طاقت کے نشے میں بُری طرح مبتلاانسان نما بھیڑیوں کو اِن عذابوں کے ذریعے احساس دلاتا ہے ” اصل طاقت صرف اُس کی ہے“، جس کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتا، یہ ہمارے ساتھ تب ہوا جب اللہ کی اپنے ساتھ بے پناہ محبت کے خوف سے ہم عاری ہوگئے، دنیا میں امریکہ کو سپرپاور سمجھا جاتا ہے، یہ سپرپاور بھی آج اللہ کے عذاب میں مبتلا ہے اور سرنگوں ہے، چین اپنے آپ کو امریکہ سے بھی بڑی ” سُپرپاور“ تصور کرنے لگا تھا۔ کرونا عذاب شروع ہی وہاں سے ہوا، اُس کا غرور بھی خاک میں مل گیا،اللہ کے سچے ماننے والوں کو اپنا غلام بناکر رکھنے والے تمام ممالک کا تکبر خاک میں مِل گیا،.... جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ہم سمجھتے تھے ہم چونکہ ”مسلمان“ ہیں، ہمارا حکمران بڑا”دیانتدار “ ہے، اِس لیے ہم اِس عذاب سے بچے رہیں گے، ہمارا یہ یقین ہماری اِس ذہنیت کے مطابق کسی حدتک بھی تھا ہم وہ لوگ ہیں جو کسی عزیز کے جنازے میں اِس پختہ یقین کے ساتھ شرکت فرماتے ہیں” یہ تو مرگیا ہے، ہم نے نہیں مرنا“ ....ہماری منافقت اور گناہوں کے حوالے سے ہمارے حوصلے دن بدن بلند ہوتے جارہے ہیں، شاید اِسی لیے ہم پر کرونا سے پہلے اِک عذاب پاکستانی حکمرانوں کی صورت میں بھی موجود ہے، کوئی اچھا حکمران ہمارے مقدر میں لکھا ہی نہیں جارہا، ہمیں اِس کا مستحق ہی نہیں سمجھا جارہا، پر اب یہ ہوا ہماری ان گنت بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ صرف ہم سے ناراض نہیں، اب کرونا وائرس کی صورت میں جو عذاب چائنہ سے نکل کر آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، تو یہ راز ہم پر کُھلااللہ پوری دنیا سے ناراض ہے۔ ہونا بھی چاہیے، اللہ کی عظمت دیکھئے اُس نے خود کو صرف اپنے ماننے والوں کا رب قرار نہیں دیا، وہ ” رب العالمین“ ہے، جو اُسے مانتے ہیں وہ اُن کا بھی رب ہے، جو نہیں مانتے اُن کا بھی ہے۔ اِس سے بھی بڑھ کر اُس کی عظمت یہ ہے جو اُسے نہیں مانتے اُ نہیں اُس نے ہرلحاظ سے اُن سے کہیں زیادہ نوازا جو اُسے مانتے ہیں، چائنہ، امریکہ جیسے ممالک کو کیا کچھ نہیں دیا اُس نے؟؟؟ اتنا کچھ دیا وہ خود کو ”سُپرپاور“ قرار دینے کے قابل سمجھنے لگے، پر دنیا میں جہاں ظلم ہوا، جہاں بربریت ہوئی، امریکہ اور چائنہ نے اُس کے خلاف کوئی مو¿ثر

کردار ادانہیں کیا، اُس پر دونوں ممالک کسی نہ کسی حوالے سے اِس بربریت کی حوصلہ افزائی کرتے رہے، تماشا دیکھتے رہے، منافقت کرتے رہے، ....سو، رب ظالموں کے مقابلے میں اللہ نے مظلوموں کی ُسن لی ہے تو ظالموں کو فرار کا کوئی راستہ ہی نہیں مِل رہا ۔ ”سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں“ ....اللہ دنیا سے اتنا ناراض ہے اُس نے دنیا سے اپنے گھر میں عبادت کی توفیق بھی چھین لی ہے، خانہ کعبہ کا طواف رُک گیا، روضہ رسول پر حاضری رُک گئی۔ اللہ کی ناراضگی کی حدیہ ہے حالیہ اطلاعات کے مطابق اِس برس حج بھی شاید نہ ہوسکے، اللہ نے باقاعدہ طورپر دنیا کو خصوصاً اپنے جعلی ماننے والوں، اور اپنی نہ ماننے والوں کو یہ پیغام دیا ” تمہاری عبادتوں کی صورت میں تمہاری منافقتوں کی مجھے کوئی ضرورت نہیں“.... اُس نے ہم سے ہمارے ”ملاوٹی عبادتیں“ چھین لیں، اب ہم چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دے رہے ہیں۔ کیونکہ موت سامنے کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ دل مگرہمارے اب بھی نہیں پھر رہے، ....اگلے روز ایک شرابی قلم کار بڑے فخر سے بتارہے تھے ” اُنہوں نے شراب چھوڑ دی“ .... میں نے ازرہ مذاق وجہ پوچھی، فرمانے لگے ” کچھ ٹیسٹ کروائے تھے، جگر اور گردے بُری طرح متاثر ہورہے تھے، میں اِس خوف سے چھوڑ دی کہیں یہ مکمل طورپر خراب نہ ہوجائیں “ .... میں نے عرض کیا ”آپ نے جگر اور گردوں کی خرابی کے خوف سے چھوڑی، کاش آپ خوف خدا سے چھوڑتے، اِس لیے چھوڑتے یہ ہمارے دین میں حرام ہے، آپ کو اِس کا اجر بھی ملتا، اِس حوالے سے ماضی بھی آپ کا دُھل جاتا۔ گردوں اور جگر کا کیا ہے، وہ تو شراب چھوڑنے کے باوجود بھی خراب ہوسکتے ہیں، اور ہاں ملاوٹ صرف ہماری عبادتوں میں نہیں ہمارے اعمال میں، ہماری نیتوں میں بھی اس حدتک بڑھ گئی ہے کہ ہمارے ”توبہ“ تک اِس سے پاک نہیں رہی، اب جبکہ موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، اِس کے باوجود پاک نہیں رہی، ....ہمارے آنسوﺅں کی حیثیت اب شاید اللہ کے نزدیک کسی ”گندے نالے“ میں بہنے والے پانی کی طرح ہے، خصوصاً ایسے آنسو، ایسی آہ وزاریاں جو گناہوں سے توبہ سے زیادہ، جو اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرنے سے زیادہ غلیظ سیاسی وغیر سیاسی حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بہہ رہے ہوں، .... ایسے ”ملاوٹی آنسوﺅں“ سے تو عذاب ٹلنے والے نہیں، .... آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کورنا کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے !!


ای پیپر