Image Source : independent.co.uk

نیوزی لینڈ کے بعد امریکہ میں بھی ’’مسجد پر حملہ ‘‘
26 مارچ 2019 (00:09) 2019-03-26

کیلیفورنیا: امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک مسجد میں آگ لگانے کی کوشش کے واقعے پر تحقیقات کے دوران مسجد کی پارکنگ میں نیوزی لینڈ کی 2 مساجد پر ہونے والے حملے کا حوالہ سامنے آیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صبح سویرے 3.15 بجے کیلیفورنیا کے علاقے سین ڈیاگو میں قائم اسلامک سینٹر آف اسیسکون ڈیڈو میں پولیس اور فائر فائٹرز کو طلب کیا گیا۔ مسجد میں موجود نمازیوں کو دھواں نظر آیا جس کے بعد انہوں نے مسجد کی دیوار کے ساتھ لگائی گئی آگ کو مزید بھڑکنے اور فائر فائٹرز کے پہنچنے سے قبل ہی اپنی مدد آپ کے تحت بجھا دیا۔

تاہم پولیس کی تحقیقات کے دوران مسجد کی پارکنگ میں انہیں تازہ وال چاکنگ نظر آئی جس میں 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ میں ہونے والے حملے کا حوالہ دیا گیا تھا۔خیال رہے 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گرد نے فائرنگ کرکے 50 افراد کو شہید اور دیگر کو شدید زخمی کردیا تھا۔دہشت گرد نے حملے سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نفرت آمیز منشور بھی پیش کیا تھا۔

واضح رہے کہ وال چاکنگ میں استعمال کیے گئے الفاظ کو پولیس کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔ مسجد میں پولیس کی تحقیقات جاری ہونے کے باعث نمازِ فجر کو بھی منسوخ کیا گیا۔ایسکون ڈیڈو کے پولیس لیفٹننٹ کے مطابق آگ لگانے کے لیے کیمیکل مواد کا استعمال کیا گیا تھا۔آتشزدگی کی کوشش کرنے والے ملزمان کے حوالے سے اب تک کوئی علم نہیں ہوسکا ہے۔

مقامی پولیس کے ہمراہ ایف بی آئی کے ایجنٹ اور بیورو آف الکوحول، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوزوز نفرت آمیز جرائم اور آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ایسکون ڈیڈو کی اسلامی برادری کے ترجمان یوسف ملر کا کہنا تھا کہ ایسکون ڈیڈو کی اسلامی برادری کو چوکنا رہنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہر کسی کو خطرہ ہے، جب انہوں نے واقعے کو نیوزی لینڈ واقعے سے جوڑا ہے تو اس سے ہمارے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں کہ آگے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔


ای پیپر