اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کے اشارے
26 مارچ 2018

اٹھارہویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کیبنٹ ڈویژن نے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو وزارتیں ختم ہوئی ہیں وہ بوقت ضرورت بحال کی جاسکتی ہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو مزید اختیارات ملے۔ جس کے نتیجے میں سندھ میں قوم پرست تحریک کمزور ہوئی۔ بلوچستان میں بعض دیگر معاملات کے باوجود سیاسی حوالے سے یہی صورت حال وہاں بھی نظر آتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بلوچستان سیاسی طور پر خصوصی توجہ مانگتا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہاں پر یہ اقدامات کرنے کے بجائے سیاسی عمل کو روک دیا گیا ہے۔
اس آئینی تریم کو ختم کرنے کی پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور ترمیم کو ترتیب دینے والے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے مخالفت کی ہے۔اس موضوع پر اگرچہ نواز لیگ تاحال خاموش ہے۔ تاہم رضا ربانی کا ماننا ہے کہ یہ ترمیم ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی ایوارڈ ملک کو بچانے اور 1971ء کے بعد جو کچھ بچ گیا ہے اس کو مضبوط کرنے کے لئے بہترین ہے، ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے انتظامات 1971ء میں نہیں تھے جس کی وجہ سے بنگال کا سانحہ درپیش آیا۔
قومی اسمبلی نے یہ ترمیم 8 اپریل 2010ء کو قومی اسمبلی نے منظور کی تھی جسے سینیٹ نے 15 اپریل کو پاس کیا۔ اس ترمیم نے پاکستان میں نیم صدارتی نظام کی جگہ پر مکمل پارلیمانی طرز حکومت قائم کیا جس کے بعد صدر یک طرفہ طور پر منتخب حکومت نہیں توڑ سکتا۔ اس ترمیم کے ذریعے پختونخوا صوبے کو نام ملا۔ جنرل پرویز مشرف نے آئینی اور سیاسی نظام کو جنرل ضیاء کے نظام میں تبدل کر دیا تھا، وہ واپس سویلین اور منتخب اداروں کے پاس آگیا۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن کو موثر کردار دیا گیا۔ چھوٹے صوبے جنہیں ہمیشہ وفاق سے شکایت رہتی تھی ان کی شکایا ت کا بڑی حد تک ازالہ کیا گیا۔ پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اس ترمیم کو پیپلزپارٹی کے دور حکومت کا بہت بڑا کارنامہ قرار دیتے رہے ہیں۔ جس میں نواز لیگ نے بھی اپنا رول ادا کیا۔ ایک لحاظ سے اگر اس ترمیم پر عمل ہو جائے تویہ ترمیم ملک کے نظام کی مکمل کایا پلٹ ہے۔
اٹھارہویں ترمیم ایک وسیع ترمیم ہے۔ ضخامت کے لحاظ سے آئین کا ایک تہائی حصہ ہے۔ جس کے تحت 17 وزارتیں، اور ڈویزن ختم کی گئی۔ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ لسٹ جو کنکرنٹ لسٹ کے طور پر پہچانی جاتی ہے اس کو بھی ختم کردیا گیا۔ 61 ملازمین فالتو قرار دے کر صوبوں کو دیئے گئے، اور اسی طرح سے وزارتوں ، اختیارات، ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اربوں روپے بھی صوبوں کو منتقل کئے گئے۔ اس ترمیم کا مرکزی نکتہ اختیارات کے ارتکاز کو ختم کرنا یا اختیارات کی صوبوں کو منتقلی ہے۔ سابق چیئرمین رضا ربانی کی سربراہی میں 26 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے طویل اور تفصیلی بحث اور غور وغوص کے بعد اس ترمیم کو دو بڑی پارٹیوں یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کے سربراہوں کے سامنے رکھا، ان کی منظوری کے بعد یہ ترمیم متفقہ طور پر پارلیمنٹ سے منظور کردی گئی۔ اس ترمیم پر کلی طور پر کبھی بھی عمل نہیں ہوا۔ ایک بے اختیار کمیٹی عمل درآمد کے لئے بنائی گئی لیکن وہ صحیح طور پر ترمیم پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔ اس ترمیم پر کلی عمل کی راہ میں وفاقی بیوروکریسی بھی رکاوٹ رہی ہے۔ رضا ربانی نے اس ترمیم کی منظوری کے دو سال بعد خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رتمیم کو ختم کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ باوجود اس کے کہ صحیح طور پر عمل کرنا ابھی باقی تھا لیکن ترمیم کے فوائد بھی ہوئے۔ ایک تصویر کچھ اس طرح ابھر کر سامنے آ ئی کہ زیادہ وسائل رکھنے والا اور بہتر حکمرانی والا صوبہ پنجاب ترقی کرنے لگا۔ دوسرے صوبے اس کے لئے تیار ہی نہیں تھے۔ اس ترمیم پر دلی طور پر نہ صرف عمل نہیں کیا گیا بلکہ عوام میں قبولیت کے لئے بھی کچھ نہیں کیا گیا۔
اس ترمیم کی حساسیت کا اداروں کوتب پتا چلا جب مختلف کریمنل قوانین یعنی کریمنل کوڈ، کریمنل پروسیجر اور قانون شہادت بھی صوبائی اختیار میں چلے گئے۔ یعنی ملک میں بیک وقت ایک ہی محکمے یا ادارے کے لئے پانچ قانون ہیں۔ دنیا بھر میں اس طرح کئی ممالک میں ہے۔ خود امریکہ جو دنیا کا طاقتور اور بڑی جمہوریت سمجھا جاتا ہے وہاں بھی 52 ریاستوں میں مختلف قوانین ہیں۔ جب تک ارتکاز اختیار عملی طور پر ختم کرنے کا بندوبست ہو تب تک معاملات مشترکہ مفادات کی کونسل کے حوالے رہے۔تاہم یہ کونسل اپنا بھرپور رول ادا نہ کر سکی۔ پیپلزپارٹی ترمیم کے بعد اس آسرے پر رہی کہ بعض ضروری اقدامات نواز لیگ کرے گی۔ لیکن یہ اقدامات نواز لیگ کا ایجنڈا نہ بن سکے۔ اور بعد میں وہ سیاسی اور آئینی بحران کی لپیٹ میں آگئی۔ جس کی وجہ سے اس اہم معاملے پر توجہ نہیں دے سکی۔
اس ترمیم کے پیچھے دراصل بڑے صوبے کے تسلط کا خوف تھا۔ یہی کہ وفاق زیادہ مداخلت نہ کر سکے۔ یہ ایک رکاوٹ تھی جو کہ پنجاب اور مارشل لاء کو روک سکتی تھی۔ لہٰذا اس ترمیم میں سویلین اختیار کی بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل پیچیدہ نکتہ تھا۔
آئینی طور پر وفاق سے مالی معاملات لے لئے گئے۔ صوبوں کو زیادہ ذمہ داریاں دی گئیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہ اختیارات اور ذمہ د اریاں استعمال نہیں ہو سکیں۔ سندھ کے ٹیکس کی وصولی کو بہتر کیا، پنجاب نے تعلیم پر زور دیا۔ خیبر پختوخوا نے قانون سازی کے میدان میں کچھ کیا۔ اس ترمیم کو صحیح طور پر عمل نہیں کیا جاسکا۔ اس کی ذمہ د اری سیاستدانوں پر آتی ہے۔ وہی اس ترمیم کو عملاً کمزور کرتے رہے۔ صوبوں میں صلاحیت نہیں کہ وہ ا س پر عمل کر سکیں۔
ملک میں جمہوریت کا کارواں تو چلتا رہا لیکن اس کو درپیش خطرات ختم نہیں ہوئے۔ عسکری حلقے یہ تاثر درست دے رہے ہیں کہ وہ دور ختم ہو گیا کہ اب براہ راست فوج اقتدار میں آئے۔ لیکن سیاسی نظام کو کنٹرول میں رکھنے اور ٹیلرڈ ڈیموکریسی دینے کی کوششیں ابھی اپنی جگہ پر ہو رہی ہیں۔ ایک نہ ختم ہونے والا بحران ملک کو لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ جس سے سویلین کی اتھارٹی مزید کمزور ہورہی ہے اور غیر سویلین ونگ کا کنٹرول سیاست اور انتظام کاری پر مضبوط ہو رہا ہے۔ منتخب ایوان اور حکومت کو فری ہینڈ نہیں۔ سیاست دانوں میں عدم اعتماد کی صورت حال ہے ۔آپس میں بھی اور اس حوالے سے بھی کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے؟ انتخابات وقت پر ہوں گے کہ نہیں ہوں گے؟ عسکری حلقوں کا طویل سایہ موجود ہے عدلیہ کے ساتھ گہرا رابطہ ہے۔ یہ دونوں چیزیں ملک کے آئندہ سیٹ اپ پر اثر انداز ہونگی۔ اس وقت بھی ملک کے قانون نافذ کرنے والے اور تفتیشی ادارے عسکری حلقے کے ماتحت ہیں۔
عسکری حلقوں کے حوالے سے یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم نے ملک کو خصوصاً معاشی پالیسیوں کے حوالے سے کنفیڈریشن بنا دیا ہے۔ میگا پروجیکٹس موٹر وے، میٹرو بس بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام پر پیسے ضایع کئے جارہے ہیں۔ اس طرح کا تصور ملک میں نیا نہیں۔ ماضی میں جنرل ملک کے معاشی و سیاسی مسائل حل کرنے کے نام پر اقتدار میں آئے۔ لیکن پانچ دس سال کے بعد جب اقتدار چھوڑا تو مسائل جوں کے توں رہے۔ بلکہ مزید پیچیدہ ہوئے۔
یہ ترمیم پارلیمنٹ نے متفقہ طور پرمنظور کی تھی۔ اس کے بارے میں اس طرح کی رائے تعجب خیز ہے۔ عملی طور پر اس ترمیم نے فیڈریشن کو مضبوط کیا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی کو ختم کیا ہے۔ وحدانی طرز حکومت اور اختیارات کے ارتکاز کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوئے بلکہ پیچیدہ بھی ہوئے۔اس ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اور یہ کوشش آئینی نہیں ہوگی۔ اس معاملے پر عسکری اور سویلین ایک دوسرے سے دور کھڑے ہیں۔ سینیٹ اور اس ایوان بالا کے چیئرمن کے انتخابات سے طے ہو گیا کہ نواز شریف اور نواز لیگ کو آئندہ سیاسی منظر نامے میں جگہ نہیں ملے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے حوالے سے ایک مزید بات سامنے آئی ہے کہ حکمران جماعت عدلیہ اور عسکری حلقوں کے سیٹ اپ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سویلین اور عسکری حلقوں کے درمیان دوری کسی طور پر بھی فائدے مند نہیں اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
نیا ڈاکٹرائن ملک کے مسائل کا نہ فوری حل ہے اور نہ ہی طویل مدت کے بعد۔ معیشت قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ لیکن جمہوری عمل بھی ضروری ہے جو ملکی سلامتی اور معاشی ترقی کے لئے از حد ضروری ہوتا ہے۔ اس جمہوری عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے فلٹر لگا کے چلتے رہنے دیا جائے۔


ای پیپر