کارگل، سینیٹ چیئرمین، نیب کا سترہ سالہ کردار
26 مارچ 2018

سابق ڈکٹیٹر پاکستان آئے گا یا نہیں اس کا فیصلہ مشرف نے ہی کرنا ہے۔ ٹائمنگ دیکھے گا مگر اب تو عدالتوں نے انہیں مفرور قرار دے دیا ہے اور خود مشرف کے بنائے ہوئے ادارے ’’ نیب ‘‘ نے بھی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا معاملہ کھول دیا ہے۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے 23 مارچ کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سری لنکن صدر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی، جنرل زبیر محمود حیات، سپہ سالار قمر جاوید باجوہ، ایئر چیف مجاہد انور اور نیول چیف ظفر محمود کی موجودگی میں جو تقریر کی اس میں جہاں انہوں نے مسلح افواج کی اہلیت کے حوالے سے دشمن کو للکارا وہاں مقبوضہ کشمیر کی بھی بات کی مگر موقع دیکھتے ہوئے صدر ممنون نے عدلیہ کے فیصلوں پر بھی چلتے چلتے تبصرہ کر دیا اور نام لیے بغیر انہوں نے انصاف پر لب کشائی کی۔ مسلم لیگ یا نواز شریف کے حوالے سے انہوں نے اعلیٰ عدلیہ اور نیب کے بارے سوال اٹھایا ’’انصاف پر کسی کے تحفظات ہیں تو دور ہونے چاہئیں‘‘۔ اعلیٰ عدلیہ میں نوا زشریف اور ان کی جماعت کے مقدمات ایک ایک کر کے کھل رہے ہیں۔ اُن کے خلاف فیصلے آ رہے ہیں۔ نیب کا ادارہ نامکمل اور ضمنی ریفرنس احتساب عدالت کو بھیج رہا ہے۔ مگر ’’بابا رحمت‘‘ نے آئین کے آرٹیکل 184کی کلاز تھری کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے جو مقدمات سننے شروع کیے ہیں اس میں ایک تاثر یہ جا رہا ہے کہ پنجاب حکومت کی دس سالہ کارکردگی نشانے پر ہے۔ اب تو پاپولر سیاست دانوں کی طرح چیف جسٹس نے انفرادی معاملات سننا شروع کیے ہیں تو سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کے نام ایک پوسٹ نظر سے گزری، پڑھ کر افسوس ہوا۔ اپیل کی گئی تھی ’’میرے گھر کی تیسری منزل پر سرکاری نلکے کا پانی نہیں جاتا مدد کر یں‘‘۔ایسی پوسٹ چیف جسٹس کے نام لکھنا نامناسب ہے البتہ اس سے یہ سوچ سامنے آ رہی ہے کہ جیسے چیف جسٹس نے جوڈیشل ایکٹوازم کے نام پر جو نشانہ لیا ہے وہ عوام اور قانون سے محبت کرنے والوں کو پسند نہیں آیا۔ پھر چیف صاحب نے تو صوبہ خیبر پختونستان اور بلوچستان کو ایسے ہی نظر انداز کر دیا ہے۔ یہ تاثر ہے مگر ’’بابا رحمت‘‘ تو 21 کروڑ کی آبادی کا ’’منصف اعلیٰ‘‘ ہے۔ وہ تو ایک ہی آنکھ سے سب کو دیکھتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب افتخار محمد چودھری سیاسی میدان میں آئے اور اپنی ایک جماعت بنائی، اب اُن کو اندازہ ہوا ہو گا کہ کورٹ نمبر ایک میں بیٹھ کر عوام کے سوالوں کا جواب دینا اور اُن کے مسائل حل کرنا کتنا مشکل کام ہے۔ اب چیف جسٹس محترم میاں ثاقب نثار نے تسلیم کر لیا ہے کہ ’’قانون پر چلنا پڑتا ہے لا محدود اختیارات ہیں نہ ہر معاملے میں مداخلت کر سکتا ہوں‘‘۔ مگر یہ ضرور ہے کہ آپ نے پرانے مقدمات نمٹانے کا جو کام شروع کیا ہے اس میں ایسے نامور لوگوں کی رٹ پٹیشنیں بھی شامل ہیں جواب اس دنیا میں نہیں رہے۔ آپ نے اصل کام کی طرف اپنی نظر عنایت فرمائی ہے نیب کے ادارے کی طرف بھی توجہ دیں۔ ان کے معاملات کو دیکھیں، تحقیقاتی افسروں کا میلان ، ان کی آمدن اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کریں، ماضی کے کس کس چیئرمین نے اچھے خاصے مقدموں کو خراب کیا وہاں نیب سے پوچھا جائے کہ قوم کے 60 ملین ڈالر کس کے اکاؤنٹ میں چلے گئے دسمبر 2009ء میں قائم مقام اٹارنی جنرل شاہ خاور نے نیب کی طرف سے سوئس بینک اکاؤنٹس سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تھی جس کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کے 6 غیر ملکی بینک اکاؤنٹس میں ایک کروڑ 31 لاکھ 13 ہزار ڈالر موجود تھے۔ نیب کی رپورٹ کے مطابق آصف زرداری کی 5 کمپنیوں اور بینظیر کے ایک اور اکاؤنٹ میں 4 کروڑ 63 لاکھ 43 ہزار 353 ڈالر موجود تھے۔ حقیقت یہ ہے 6 ارب سے زائد کی اس رقم کی مالیت سے آصف زرداری اور بینظیر بھٹو انکار کرتی رہی تھیں مگر جب ’’این آر او‘‘ ہوا تو یہ رقم اکتوبر 2007ء کے بعد فوری اکاؤنٹس سے نکل گئی۔ اس کے بعد نیب بھی متحرک نہ رہی بلکہ ایک چیئرمین نیب فصیح بخاری نے صدر سے مل کر چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ہٹانے کا منصوبہ بنایا مگر چیئرمین نیب کو خود جانا پڑ گیا۔ مارچ 2010ء میں نیب کے ایک پراسیکیوٹر سید حسن رضا بخاری نے اس بنیاد پر اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا کہ نیب کی متعلقہ عدالتوں میں اہم حکومتی شخصیات کے خلاف انہیں پیروی کا موقع دیئے بغیر ہی نیب ہیڈ کوارٹر کی تیار کردہ رپورٹوں پر ان سے زبردستی دستخط کرانے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے ۔ ان میں صدر آصف علی زرداری، رحمان ملک اور نصرت بھٹو سے متعلق ریفرنس بھی شامل تھے جن کے لیے سید حسن رضا بخاری پراسیکیوٹر مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ڈی جی نیب نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ بیگم نصرت بھٹو کی طلبی کے نوٹس معطل کرانے کے لیے نیب عدالت میں درخواست دائر کریں۔ جس پر انہوں نے معذرت کی کہ ملزم کے ایما پر درخواست دائر کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ سید حسن رضا بخاری نے جو الزامات لگائے تھے، اس کی تحقیق کیسے ہوتی ملزم تو صدر پاکستان کے اعلیٰ منصب پر فائز ہو چکا تھا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے تمام مقدمات اپنے دور میں ہی ختم کرانے کا منصوبہ بنایا گیا حتیٰ کہ کوٹیکنا کا مقدمہ جس طرح ختم ہوا، وہ کہانی دلچسپی سے خالی نہیں۔ پرانے مقدمات بھی اوپن ہونے چاہئیں مگر زرداری اور بھٹو خاندان کے خلاف اب یہ نہیں ہو گا کیونکہ دھمکیاں دینے والی پی پی پی قیادت نے اب اسٹیبلشمنٹ کے حق میں یوٹرن لے لیا ہے۔ اب پرویز مشرف کا معاملہ بھی کھل گیا ہے۔ نیب کو چاہیے کہ 12لاکھ 1999ء کے فوراً بعد کے وہ گوشوارے سامنے رکھے جو مشرف نے خود ظاہر کیے تھے اور یہ دستیاب بھی ہیں۔ آمدن جتنی ایک ایمان دار افسر کی ہونی چاہیے تھی وہ تھی۔ جب چیئرمین نیب مشرف کی آمدن جواب کئی اربوں میں ہے کا حساب لگائے تو چک شہزاد کی سرکاری زمین پر مشرف کے قانونی یا غیر قانونی قبضے کا معاملہ ضرور اٹھائے اس کی ساری تفصیل سپریم کورٹ کے کورٹ نمبر ایک میں بھی پیش ہو چکی ہے۔ وہاں اس امر کا اندازہ لگانے کے لیے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اپنے دشمن کی طرف اس لیے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا تھا کہ وہ ’’معاہدہ لاہور‘‘ کر کے کشمیر کا تنازع حل کرے مشرف نے مس ایڈونچر کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف، وزیرخارجہ سرتاج عزیز اور وزیر امور کشمیر عبد المجید ملک کے علم میں لائے بغیر کارگل میں ایک جنگ چھیڑ دی۔ قبضہ ہو بھی جائے کیا۔ یہ محدود جنگ تھی۔ قبضہ کے بعد یہ مکمل جنگ ہونے جا رہی تھے ادھر سے تو کسی کی مکمل جنگ کی تیاری نہیں تھی جب مشرف نے سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کیا اس سے پہلے وزیراعظم سے چھپایا گیا دنیا کو تو یہ کہا کہ یہ فریڈم فائٹر کا کام ہے ہمارا اس سے تعلق نہیں۔ کارگل پر امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل انتھونی زینی، خود امریکی صدر بل کلنٹن، کلنٹن کے مشیر بروس ریڈی، لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے کارگل جنگ پر اپنی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے، کیا ’’بابا رحمت‘‘ اس کا نوٹس لے گا کہ کارگل کی چوٹیوں سے جب دنیا نے پاکستان کے افسروں اور سپاہیوں کو اترنے اور چوٹیاں خالی کرنے پر مجبور کیا تو اس میں کتنے سو آفیسر مارے گئے اصل تعداد قوم کے سامنے لائی جائے۔ پھر مشرف سے پوچھا جائے کہ یہ تو 12 اکتوبر 1999ء کے ’’ کو‘‘ کے لیے تھا۔ مشرف کو یہ بتانا پڑے گا کہ جب وہ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے امریکہ کے دوست بن گئے تو انہوں نے سی آئی اے کے ہاتھوں 350 سے زائد دہشت گرد فروخت کیے یہ رقم کدھر اور کہاں گئی۔ حقیقت یہ تھی پاکستان کا مرتبہ آئین توڑنے والے مشرف نے نواز شریف کو 12 اکتوبر کو کیوں ہٹایا اور اُن پر ہائی جیکر کا مقدمہ بنایا صدر بل کلنٹن نے مشرف پر واضح کر دیا تھا نواز شریف کو سزائے موت نہیں دی جانی چاہیے۔ بالآخر نواز شریف کی برطرفی کا سبب بننے والا یہ مقدمہ جولائی 2009ء میں جب نواز شریف جلا وطنی ختم کر کے پاکستان آئے سپریم کورٹ کے جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے ختم کر دیا۔ یہ مقدمہ ختم کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ مان لیا تھا کہ ’’میاں نوازشریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے حوالے سے مشرف کی بد نیتی کا ثبوت بھی فراہم ہو گیا ہے ۔ مندرجہ بالا معاملات کو کمیشن کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کا بحیثیت چیئرمین انتخاب جمہوریت پر حملہ ہے۔ کے پی کے کا ایک ہارنے والا امیدوار ان لوگوں سے کروڑوں کی رقم واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے جن کا تعلق تحریک انصاف سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کئی ایم پی ایز نے دو دو امیدواروں سے پہلی ترجیح کی رقم وصول کی تھی۔ یہ معاملہ بلوچستان میں (ن) لیگ کی حکومت کے خاتمہ سے اٹھایا جائے ۔ وزیراعظم کا بھی یہ مطالبہ درست ہے کہ چیئرمین نیب کی عزت اس لیے نہیں کہ انہیں ووٹ خرید کر چیئرمین بنایا گیا۔ محترم جناب چیف جسٹس صاحب یہ قوم کی بڑی خدمت ہو گی اگر یہ سارے سوال آپ حل کر دیں۔


ای پیپر