جوڈیشل مارشل لاء کے مطالبے کی تکرار ۔۔۔!
26 مارچ 2018

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ جناب شیخ رشید احمد جنہوں نے چند روز قبل چیف جسٹس آف پاکستان سے ملک میں تین ماہ کے لیے جوڈیشل مارشل لاء لگانے کا مطالبہ کیا تھا نے ایک بار پھر ارشاد فرمایا ہے کہ احسان سمجھیں کہ ابھی مارشل لاء کے ساتھ جوڈیشل کا لفظ لگایا ہے ، آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا! شیخ رشید احمد جو چونکا دینے والے بیانات دینے اور نرالی پیش گوئیاں کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اُن کا جوڈیشل مارشل لاء کے نفاذ کا مطالبہ ہی کچھ کم نہیں تھا کہ اب انہوں نے اس سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر یہ معنی خیز بیان دے دیا ہے کہ احسان سمجھیں کہ مارشل لاء کے ساتھ جوڈیشل کا لفظ لگایا ہے آگے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ گویا شیخ رشید احمد یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ جوڈیشل مارشل لاء سے بڑھ کر اگلے اقدام یعنی حقیقی مارشل لا کے نفاذ کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا پھر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ شیخ رشید احمد کی اپنے اس معنی خیز مطالبے سے مراد کچھ بھی ہو لیکن ایک جینوئین سیاسی رہنما کی طرف سے اس طرح کا مطالبہ بڑا عجیب لگتا ہے۔ کیا شیخ صاحب کو علم نہیں کہ وفا ق اور صوبوں میں قائم حکومتوں کو اپنی آئینی میعاد پوری کرنے میں تقریباً دو ماہ رہ گئے ہیں ۔ اس کے بعد اگلے پینتالیس دنوں میں نگران حکومتوں کے تحت ملک میں عام انتخابات کا انعقاد آئینی ضرورت ہے ۔ اب اس سے ہٹ کر کسی اور راستے کو اختیار کرنے کی تلقین کرنا کہاں کی آئین اور قانون کی پاسداری ہے۔ مان لیا کہ سیاست میں اپنی موجودگی، اہمیت اور حیثیت کا احساس دلانے کے لیے اس طرح کے انوکھے بیانات اور آئینی اور قانونی حکومتوں بالخصوص وفاق میں قائم مسلم لیگ ن کی حکومت جس کے شیخ رشید احمد شدید مخالف چلے آ رہے ہیں کے خاتمے کی انوکھی پیش گوئیاں کرنا شیخ رشید احمد کی مجبوری ہے ورنہ اُن کی سیاسی جماعت عوامی مسلم لیگ جس کے وہ سربراہ ہیں اور جسے حقیقی معنوں میں تانگے کی پارٹی کہا جاسکتا ہے اور جس کی قومی اسمبلی میں صرف ایک نشست ہے کو کون پوچھتا ہے۔ شیخ رشید احمد اس طرح کی درفنطنیاں چھوڑ کر اپنی نام نہاد سیاسی بصیرت کا تاثر ہی نہیں قائم کرتے ہیں بلکہ مقتدر حلقوں سے اپنی نیازمندی اور قربت کا گہرا تاثر اُبھارنے کی کامیاب اداکاری بھی کرتے ہیں۔
شیخ رشید احمد کے تین ماہ کے جوڈیشل مارشل لاء کے مطالبے یا دوسرے لفظوں میں درفنطنی کو تمام قومی سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں نے آئین سے متصادم قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جنابِ شیخ کا جوڈیشل مارشل لاء کا مطالبہ اُن کے اپنے ذہن رسا اور اپنی سوچ و فکر کا نتیجہ ہے یا انہوں نے یہ مطالبہ کچھ مخصوص حلقوں یا نادیدہ قوتوں کے ایما پر کیا ہے۔ شیخ رشید احمد کے حالیہ برسوں میں سیاسی کردار اور تحرک کا اجمالی سا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس میں جہاں سنسنی خیزی اور چونکا دینے والے بیانات اور کمالات کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے وہاں یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ وہ ایک مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا رہے ہیں جس کے تحت مسلم لیگ ن کی حکومت اور شریف برادران کے اقتدار کا خاتمہ اُن کی اولین ترجیح رہی ہے اور ا س کے لیے اگر کوئی ماورائے آئین راستہ اختیار کرنا پڑے تو وہ بھی جناب شیخ کے نزدیک جائز اور مباح ہے اس کے ساتھ مقتدر حلقوں سے قربت کے تاثر کو بھی وہ اپنی حیثیت کا لوہا منوانے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ شیخ رشید احمد کی طویل سیاسی زندگی کے اُتار چڑھاؤ کی تفصیل میں جانے کا یہاں موقع نہیں لیکن کچھ باتوں کے تذکرے سے جناب شیخ کے موجودہ کردار کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
شیخ رشید احمد گزشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے کے آخری برسوں میں جب صدر ایوب خان کے خلاف احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو طلباء سیاست میں نمایاں ہوئے۔ گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹوٹ راولپنڈی (جہاں میٹرک کے بعد ڈپلومہ کورسز میں داخلہ دیا جاتا تھا) کی سٹوڈنٹ یونین کے جنرل سیکرٹری اور وہاں سے گارڈن کالج میں طالب علم لیڈر کے طور پر شیخ رشید احمد خاصے متحرک رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں وہ حکومت کے مخالف سیاسی رہنماؤں کے ایما پر جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے وہاں ان سیاسی رہنماؤں سے اپنی خدمات کانقد صلہ سکہ رائج الوقت کی صورت میں وصول کرتے رہے۔ بھٹو کے خلاف احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو وہ قومی اتحاد کے اہم رہنما ائیر مارشل اصغر خان مرحوم جو راولپنڈی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے کے پُر جوش حامی کے طور پر ’’راشہ ، راشہ اصغر خان راشہ ‘‘ کے نعرے بلند کیا کرتے تھے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے تو انہوں نے اعلان کیا کہ اُن کی نظریں تختِ لاہور (پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ) پر ہیں لیکن وہ چند دن بعد منعقد ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں PP-2 راولپنڈی سے چوہدری مشتاق حسین مرحوم کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوئے۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تو جلد ہی اُن کا شمار اسلامی جمہوری اتحاد کے قائد اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہونے لگا۔ اس دوران پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف اُن کی قابلِ اعتراض تقاریر کے بعض ذومعنی جملے پیپلز پارٹی کے حلقوں کو کافی گراں گزرتے رہے۔ 1990ء کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ وفاقی کابینہ کے رُکن بنے ۔ 1993ء کے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف کے قابلِ اعتماد ساتھی کے طور پر انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی ۔ 1997ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعدوہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت میں ایک بار پھر وفاقی وزیر بنائے گئے۔ اکتوبر 1999ء میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کے اقتدار کو ختم کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو شیخ رشید احمد بھی بتدریج اپنی وفاداری کا محور میاں محمد نواز شریف کی بجائے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کو جنہیں وہ سید مشرف کہہ کر پکارا کرتے تھے بنا لیا۔ اکتوبر 2002ء کے عام انتخابات میں انہوں نے میاں محمد نواز شریف کے نام پر ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے دوحلقوں سے کامیابی حاصل کی لیکن جلد ہی پرویز مشرف کی حکومت میں وفاقی وزیر کا منصب سنبھال لیا۔اس طرح اُن کی راہیں مکمل طور پر مسلم لیگ ن اور میاں محمد نواز شریف سے جُدا ہو گئیں۔ 2008ء کے عام انتخابات میں انہیں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم مئی 2013ء کے عام انتخابات میں راولپنڈی کے حلقہ NA-55 سے وہ کامیاب رہے ۔ اُن کی کامیابی جہاں تحریکِ انصاف کے تعاون کی مرہون منت تھی وہاں اس میں مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کی نااہلی اور اُن کے مقابلے میں موزوں اُمیدوار سامنے نہ لانے کا بھی بڑا عمل دخل تھا۔ مسلم لیگ ن چند ماہ بعد ہونے والے متوقع عام انتخابات میں شیخ رشید احمد کے مقابلے میں راولپنڈی کے اس حلقے (سابقہ NA-55 اور نئی حلقہ بندیوں کے تحت NA-62 ) سے کوئی نیا اور جاندار اُمیدوار سامنے نہیں لاتی تو شیخ رشید احمد ایک بار پھر کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں البتہ مسلم لیگ ن کی طرف سے اگر ڈاکٹرجمال ناصر جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ ، سماجی اورسیاسی رہنما کو جو وسیع سیاسی روابط ہی نہیں رکھتے بلکہ خدمتِ خلق کے حوالے سے بھی نیک نامی سمیٹے ہوئے ہیں کو اُمیدوار بنایا جاتا ہے تو پھر شیخ رشید احمد کو پچھلے قدموں پر لوٹنے کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ خیر یہ بعد کی بات ہے ذکر شیخ رشید احمد کے جوڈیشل مارشل لاء کے مطالبے کا ہو رہا تھا۔
اچھا ہوا چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے شیخ رشید احمد کے جوڈیشل مارشل لاء کے نفاذ کے مطالبے کے غبارے میں سے یہ کہہ کر ہوا نکال دی ہے کہ جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں صرف جمہوریت چلے گی۔ لاہور میں ایک سکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب چیف جسٹس نے کہا کہ میرے ہوتے ہوئے آمرانہ نظام نہیں آسکتا ۔ صرف قانون کی حکمرانی ہو گی۔ کسی غیر آئینی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ملک میں صرف ایک ہی طرزِ حکومت ہے اور وہ جمہوریت، جمہوریت اور صرف جمہوریت ہے، ملک نے آئین کے تحت ہی چلنا ہے ۔ جو بھی حکومت آئے وہ آئین کے تحت کام کرے۔ جناب چیف جسٹس کے اس دوٹوک اعلان کے بعد شیخ رشید احمد کے جوڈیشل مارشل لاء کا پتا تو کٹ گیا ہے لیکن شیخ رشید احمد سے یہ بعید نہیں کہ وہ کوئی اور در فنطنی سامنے لے کر آ جائیں۔


ای پیپر