قومی بیانیہ !!
26 مارچ 2018

ملک کے طول و عرض میں قوم کے بڑے " بیانیہ بیٹھک" لگا رہے ہیں۔ بات چل نکلی ہے کہ ہمارا قومی بیانیہ "اسلامی جمہور" ہے پاکستان کے قائم ہونے کا مقصد پاکستانیوں سے زیادہ دشمن قوتوں نے سمجھا اور دشمنی میں مستعد رہیں۔ پاکستانی قوم کی اکثریت عملاً پاکستان کے قیام کے مقصد اور قومی بیانیہ سے نابلد رہی۔ یہ خواص کا کام ہوتا ہے کہ عوام کو ایک خاندان کی طرح نظریات کی ایک ڈور سے باندھ کر رکھے مگر یہاں تو ایک زمانے سے خواص عوام سے زیادہ پیدل ہیں۔ "اسلامی جمہور" کا مقصد ایک قوم جو طرح طرح کی جنگوں میں پڑی رہے "نہیں "ہے۔ اسلام تو ریاست کو عوام کی فلاح کا اولین ذمہ دار بناتا ہے یہی وجہ ہے کہ تاریخِ انسانی میں غیر مسلم تاریخ دان بھی اسلامی مملکتوں میں قائم رہنے والے عدل و انصاف کے قائل دکھائی دیتے ہیں سکندراعظم جسے تاریخ کا سب سے بڑا فاتح قرار دیا جاتا ہے اس نے اٹھارہ لاکھ مربع میل پر ریاست قائم کی جبکہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں بائیس لاکھ مربع میل پر محیط ریاست قائم ہوئی جسے نوع انسانی کی پہلی فلاحی ریاست بھی تسلیم کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد یہ ریاست شیرازہ بن کر بکھرنے کی بجائے تین براعظموں تک پھیل گئی۔ سلطنت عباسیہ میں سلطان بایزید کے بیٹے سلطان سلیم اول نے ملت اسلامیہ کو پچیس لاکھ مربع میل سے بڑھا کر پینسٹھ لاکھ مربع میل تک پھیلا دیا جبکہ اس نے محض نو سال حکومت کی اور اس کے بیٹے سلطان سلیمان نے چھپن سال تک فلاحی ریاست کے نئے ابواب رقم کیے اوراپنی حکومت میں عدل و انصاف کا علم اٹھائے رکھا یہاں تک کہ اسلامی مملکت تین براعظموں پر پھیل گئی۔ سلطان سلیمان کے دور میں ہی مغل بادشاہ اکبر ہندوستان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے شروع کر چکا تھا۔ اسلام کی اتنی طویل بادشاہت جو تقریبا آٹھ سو سال کی طویل مدت تک قائم رہی اس کاشیرازہ بکھرا جب بادشاہوں نے عدل چھوڑا۔ اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ظلم کو رواج دیا۔ اسلام گورننگ سسٹم پر اعتراض اور بحث نہیں کرتا لیکن عدل و انصاف میں کوتا ہی برداشت نہیں کرتا۔ عباسی سلطنت کے خلفاء اپنے حرم بڑھاتے اور عیش و عشرت کی طرف مائل ہوتے گئے اور انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا، بغاوتیں اور دشمن ریاستیں اپنے حربوں میں قائم ہوتی گئیں یہاں تک کہ 1923ء میں آخری ترک خلیفہ نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر سو سال کا ایک معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں تین براعظموں پر پھیلی اسلامی ریاست چالیس ریاستوں میں بٹ کر رہ گئی۔
مسلمانوں نے استبداد برداشت کیا مگر عدل سے انحراف کا وتیرہ نہ چھوڑا۔ تاریخ نے اپنے کو ایک بار پھر دہرایا اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست پاکستان کے ساتھ بھی پھر وہی ہوا، دو لخت ہو کر رہی۔ باقی ماندہ ریاست کے ساتھ حکمران طبقہ کیا کر رہا ہے۔ چور کا چوری سے جب تک کام چلتا ہے وہ ڈھٹائی سے چلاتا رہتا ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے چور کو نہ پکڑا جائے تو چوری کا ایک نیٹ ورک بن جاتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے چور خود چوری کرنا چھوڑ دیتا ہے اور چوری کرنے کے لیے ایسے ماہر ترین چوروں کا انتخاب کرتا ہے جو نہ صرف چوری کرنے میں ماہر ہوں بلکہ اپنے آقا کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ گویا ایک چھوٹی سی چوری جسے آسانی سے قانون کے شکنجے میں لیا جاسکتا تھا وہ اتنے انڈے اور بچے دیتی ہے کہ سارا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ پوری قوم کی وجۂ شہرت چوری ہو جاتی ہے۔ پاکباز لوگ شروع شروع میں فراموش کیے جاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً روپوش ہوجاتے ہیں۔ ہر قسم کی چوری کرنے والے ڈکیت ہر اہم عہدے پر بیٹھ جاتے ہیں اور چوروں کے راج میں سیدھے سادھے کام کاج کرنے والے شہریوں کو چوروں اور ان کی چوریوں کی عادت پڑ جاتی ہے گویا چوری معاشرت میں رچ بس جاتی ہے۔ قوم کا سرمایہ چوروں کے ہاتھ لگ جائے تو عوام پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ ان کے ذاتی اکاؤنٹس میں جاتا ہے البتہ جمہوریت کی ایک مجبوری ہے کہ چاہے ووٹ چوری ہی کرنے ہوں مگر الیکشن سے پہلے چار آنے عوامی پراجکٹس پر لگانے پڑتے ہیں۔ بیشک جتنے ہی بے ڈھنگے طریقے اختیار کیے جائیں سیورج کانظام ہو گلیاں یا سڑکیں انتخابات سے پہلے کاغذی مٹیریل سے سہی بنا دی جاتی ہیں چونکہ بنوانے والے کے ذہن میں اس کی مدت معیار تین سے چار ماہ سے زائد نہیں ہوتی۔ اس کا ٹارگٹ انتخابات ہوتے ہیں تو وہ کئی طرح کی چوری کرتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ان تمام عوامی پراجکٹس کا مقصد عوامی فنڈ عوام پر خرچ کرنا نہیں بلکہ اس انداز میں خرچ کرنا ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ ذاتی اکاؤنٹس میں جائے اور اس سرمایے کو عوام کے شناختی کارڈ یعنی ووٹ خریدنے پر خرچ کیا جاسکے۔ انتخابات کے وقت اکثر سیاسی ڈیروں پر ملنے والا کھانا خیر سے اسی قسم کے پروجکٹس سے حاصل کردہ سرمائے سے بنا ہوتا ہے۔ اور اگر سیاسی ڈیرہ حکومتی پارٹی کا نہ ہو تو یقین کیجئے وہ کھانے جو ایسے سیاسی ڈیروں پر کھلائے جاتے ہیں وہ سود سمیت عوام سے وصول کرلیے جاتے ہیں۔ بس ایک بار زندگی میں انتخابات جیتنے کی دیر ہے پھر عزت دار چوروں کی منڈی میں اپنا ریٹ لگوا کر بہترین عہدہ حاصل کرکے عوامی فنڈ لیے اور کاروباری منافعے کی ضربوں سے ضربیں شروع۔ انتخابات کے قریب عوامی فنڈ سے چوری کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سڑکیں گلیاں نالیاں غرض یہ کہ اکثر ترقیاتی کام جو عوامی نمائندگان اپنے فنڈز سے کرواتے ہیں چونکہ اس کا مقصد انتخابات میں فتح یاب ہونا ہوتا ہے تو ایسے ترقیاتی کاموں میں پائیدار مٹیریل کم اور عوام کو چونا زیادہ لگایا جاتا ہے۔ مگر چوری کا پیسہ اکٹھا ہوجائے تو اس نامراد دولت کی اپنی نحوست ہوتی ہے۔ اسے بچانے کے لیے حکمران ظلم اور استبداد پر مشتمل نظام کا ایک نیٹ ورک قائم کرتا ہے۔ ملک خداداد پاکستان میں یہ تمام تجربات بامِ عروج پر پایۂ تکمیل پائے ہیں۔ اشرافیہ نے ملک کو خوب لوٹا اور عوام پر ظلم اور جبر کے نئے باب رقم کیے ۔
اب سلطنت عباسیہ کے زوال اور طاغوت سے معاہدوں کے سو سال بعدایک طرف ترک صدر رجب طیب اردوان بار بار 2023ء کا حوالہ دے کر کہتا ہے کہ 2023ء کے بعد ترکی اتنا غیر موثر ترکی نہیں رہے گا تو دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست اور ایٹمی قوت میں قومی بیانیے کے ساتھ ساتھ احتساب کی بات چل نکلی ہے۔ یاد رکھئے اگر ہم نے چوری اور چوروں سے جان چھڑا کر عدل قائم کر دیا تو ملک خداداد پاکستان اور اسلامی ریاستوں کے زوال کو زوال ہوکر رہے گا اور عدل پر مبنی ترقی یافتہ معاشرہ قائم ہو کر رہے گا لیکن اگر چور بچ نکلا۔ عدل قائم نہ ہوا تو ہمارا قومی بیانیہ کچھ بھی ہو اشرافیہ اسے اپنی بدمعاشیوں سے ذاتی معاشی فلاح بہبود کے ایجنڈے پر قربان کرتے اور پاکستان کو بدنام کرتے رہیں گے۔


ای پیپر