آواز یہاں تک آئی ہے
26 مارچ 2018 2018-03-26

آصف زرداری کو پاکستانی سیاست کے پیچ و خم جاننے والے ایک گھاگ سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ کہاّ جاتا ہے کہ آصف زرداری نے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کو قائل کیا تھا کہ میاں نواز شریف کا مقابلہ ڈالروں کے ڈھیر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن کچھ واضح وجوہات کی بنا پر وہ عوام میں کبھی بھی مقبولیت حاصل نہیں کر سکے۔ ان کے مقابلے میں میاں نوازشریف کو پاکستان کی موجودہ سیاست کا انتہائی ہوشیار اور تیز ترین سیاستدان سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستانی سیاست ان کی ذاتی achievements سے بھری پڑی ہے ۔ عمران خان جیسا سیاسی بصیرت سے بے بہرہ اور حکمت عملی سے عاری شخص ایک اور جنم بھی لے کر آ جائے تو وہ میاں نواز شریف کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ آپ نے ملاحظہ کیاہوگا کہ میاں نوازشریف کے وزارت عظمیٰ اور صدارت مسلم لیگ (ن) سے فارغ ہونے کے بعد بھی جب کوئی ضمنی الیکشن ہوا تومسلم لیگ (ن) نے بہت بڑی لیڈ سے تحریک انصاف کو شکست دی، حتیٰ کہ ان کی پارٹی کے سب سے بڑے پہلوان جہانگیر ترین کے بیٹے کو بھی ہزاروں ووٹوں سے شکست ہوئی۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ہر الیکشن کے بعد ایک ٹوئٹ نمودار ہوتی تھی۔ بھلا وہ کیا تھی؟ ’’ روک سکو تو روک لو‘‘ اور پھر تمام تحریک انصاف سوگ میں ڈوب جاتی۔ دنیا کہہ اٹھتی کہ پاکستانی سیاست میں نواز شریف کا کوئی جوڑ نہیں۔اسی لیے آپ نے دیکھا ہوگا کہ میاں نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کے بعد بھی ،تحریک انصاف کی توقعات کے برعکس تمام electablesان کی پارٹی سے جڑے رہے، کیونکہ سب کو نظر آتا تھا کہ اگلا الیکشن بھی مسلم لیگ (ن) ہی کا ہے ۔
خانصاحب نے تو کئی دفعہ کھلے عام چوہدری نثار علی خان کو تحریک انصاف جوائن کرنے کی درخواست کی۔لیکن چوہدری صاحب جو بہت سیاسی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں ، نے اسے درخور اعتنا ء نہیں سمجھا۔ وہ پاگل ہیں ایک بے منزل کارواں میں شریک ہو جائیں۔لیکن ایسے میں آصف زرداری سیاست پاکستان کے آسمان پر نمودار ہوئے۔ انھوں نے مایوسی کا شکار حکومت بلوچستان پر توجہ دی۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی لیکن اس کے ارکان مسلم لیگ کی بے اعتنائی اور اپنے وزیراعلیٰ کے رویہ اور حرکات سے خاصی حد نالاں اور مایوس تھے۔زرداری صاحب کی کایاں نظروں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی ٹھانی۔ان تمام مایوس ارکان کو یکجا کرکے اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔اور پھر مسلم لیگ(ن) کو چلتا کرنے کا عمل شروع ہوگیا۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں نے بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ وزیراعظم پاکستا ن شاہد خاقان عباسی،میاں نواز شریف کی ہدایت پر، بنفس نفیس کوئٹہ پہنچے لیکن بات اب ان کے بس کی نہیں تھی۔ آصف زرداری کا جادو چل چکا تھا اورمسلم لیگ (ن) کی حکومت تاریخ کا حصہ بن گئی۔
اس کے بعد اگلا مرحلہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا تھا۔میاں نواز شریف جو ہوشیاری میں پاکستانی سیاست کے اندر کوئی ثانی نہیں رکھتے نے ہمت نہ ہاری اور ایک نئی خوبصورت چال چلی۔ زرداری صاحب کو ایک پیشکش کر دی کہ رضا ربانی ایک بہترین چیئرمین سینیٹ ثابت ہوئے ہیں اگر پیپلز پارٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے انہیں نامزد کرتی ہے تو مسلم لیگ (ن) اپنا امیدوار ان کے مقابل نہیں لائے گی۔اس ملک کی دوسری سب سے بڑی پارٹی کو کیا دلکش دانہ ڈالا جا رہا تھا۔گھر بیٹھے دوسری دفعہ چیئرمین سینیٹ پلیٹ میں رکھ کر پیش کی جا رہی تھی، لیکن دراصل دو مقاصد حاصل کرنے کی سبیل کی جارہی تھی۔پہلا اہم مقصد تو یہ تھا کہ پیپلز پار ٹی کو یہ تحفہ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا جائے جو موجودہ حالات کی اہم ضرورت ہے ۔دوسرا بڑا اور اہم ترین مقصد یہ تھا کہ اگلے الیکشن سے پہلے آئین اور قوانین میں مجوزہ ترامیم جن کے ڈرافٹ پہلے سے تیا رہو چکے تھے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سیمنظور کروا کے موجودہ عدلیہ اور مخالف قوتوں کو ایسا سبق دیا جائے جو ان دونوں کو دہائیوں یاد رہے۔ جسکے بعد کوئی قوت مسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ کو چھیڑنے کی جرات نہیں کریگی۔
زرداری صاحب پچھلے تمام عرصہ میں رضا ربانی اور میاں نواز شریف کی ذہنی ہم آہنگی کا مشاہدہ کرچکے تھے لہذا انھوں نے برملا اس تجویز کو رد کردیا،حالانکہ ان کا معصوم فرزند( بدایوں کا للا ) اور پارٹی کی اکثریت اس تجویز کو ایک نعمت سمجھ رہی تھی۔ لیکن اگر لیڈر عام افراد کی سوچ کا حامل ہو تو پھر لیڈر کیونکر۔زرداری صاحب نے تو پہلے ہی سے مسلم لیگ (ن) کا چیلنج کر رکھا تھا کہ اگلا چیئرمین سینیٹ بھی انھی کا ہوگا۔ اس دوران عمران خان نے اعلان کردیا کہ اگلا چیئرمین بلوچستان سے ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے عمران خان کی پارٹی کے سینیٹرز نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو تو ووٹ نہیں دینے تھے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو۔ زرداری صاحب کو تو آگاہی تھی کہ تحریک انصاف کے ووٹوں کے بغیراپنا چیئرمین نہیں لایا جا سکتا۔لہذا انھوں نے عمران خان کی تجویز کو بہتر گردانااور بلوچستان کے آزاد گروپ سے مل کر صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کردیا۔ زرداری صاحب کا اپنی پارٹی کا چیئرمین سینیٹ نامزد نہ کرنے کا فیصلہ ایک بڑا فیصلہ تھا۔ انھوں نے اپنے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار سلیم مانڈوی والا کو بلوچستان گرو پ کے پینل کا حصہ بناتے ہوئے اسے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد کردیا۔اور پھر ساری دنیا کے سامنے ووٹنگ ہوئی ۔ صادق سنجرانی مسلم لیگ (ن) سمیت سارے لوگوں کی امیدوں سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) اپنا ڈپٹی چیئرمین بھی منتخب نہ کراسکی اور اسے ایک کمیٹی بنانی پڑ گئی جو یہ دیکھ رہی ہے کہ ان کے اور ان کے اتحادیوں کے ووٹ کہا ں چلے گئے۔مسلم لیگ (ن) نے اس روز روشن کی طرح شفاف اور جمہوری انداز میں منعقد الیکشن کے نتائج کو خوش دلی اور عالی ظرفی سے قبول کرنے کی بجائے ہارس ٹریڈنگ کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا۔میاں نواز شریف نے بجائے صادق سنجرانی کو مبارک باد دینے کے یہ کہنا شروع کردیا، کہ یہ سنجرانی کون ہے ، اس کی حیثیت کیا ہے ۔پہلے تو سینیٹ الیکشن میں چوہدری سرور کی پنجاب سے جیت نے مسلم لیگ (ن) کی جیت کا مزہ کرکرا کردیا تھا لیکن سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں شکست نے تو مسلم لیگ (ن) کو وہ دھچکا دیاکہ چیخ و پکار آج تک ختم نہیں ہو پائی اور نہ یہ ہضم ہو پا رہی ہے ۔مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے مستقبل کی ساری پلاننگ اور امیدوں کو اس شکست نے بھسم کرکے رکھ دیا ہے ۔ ان کی طرف سے تو ٹوئٹ تیار پڑی تھی کہ ’’ روک سکو تو روک لو ‘‘۔لیکن اس شکست نے تو پوری دنیا کو کچھ اور پیغام دیا۔کل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی امریکہ کا دورہ کرنے کے بعد اس کے نتائج بارے میاں نواز شریف کو بریفنگ دینے کے لیے جاتی عمرہ حاضر ہوئے۔ وہاں سے وہ ننکانہ صاحب کے علاقہ میں ایک پل کے افتتاح کے لیے پہنچے جہاں تقریب کے بعد انھوں نے فرمایا کہ صادق سنجرانی کے لیے ووٹ خریدے گئے۔ انکی عوام میں عزت نہیں۔ نیا متفقہ چیئرمین لایاجائے۔ چیئرمین سینیٹ کا ایسا انتخاب ملک کے لیے بے عزتی کا مقام ہے ۔وزیراعظم کا یہ بیان سن کر لوگ جو پہلے ہی ان کی شخصیت سے مایوس تھے اور
مایوس ہوئے۔نہ جانے انہیں کس نے لوگوں کی عزت جانچنے کا ٹھیکیدار بنا دیا ہے ۔ پہلے تو انہیں اپنے دامن میں جھانکنا چاہیے۔ سارا ملک جانتا ہے ہے کہ ایل این جی کے معا ملات میں ان پر کرپشن کے بڑے سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں۔ ان الزامات سے کلیئر (clear) ہوئے بنا وہ کیسے دنیا کے دورے کرتے پھرتے ہیں ۔شیخ رشید کی اس سلسلے میں درخواست نیب کے ادارے میں پڑی ہوئی ہے ۔ وہ آج کل میاں نواز شریف کے ایک کارندے کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ اپنی حیثیت کے پیش نظر وہ آج تک اپنے آپ کو وزیراعظم نہیں مانتے ۔انہیں اپنے اٹھائے حلف کا بھی خیال نہیں آتا۔صادق سنجرانی ایک منتخب شدہ چیئرمین سینیٹ ہیں ۔پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اگر پہلی دفعہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سینیٹ کا چیئرمین بن گیا ہے تو آپ کبھی اس کی حیثیت پوچھتے ہو اور کبھی اس کی عزت کے متعلق بات کرتے ہو۔کیا اس ملک میں ارب پتی ہی عزت والے ہوتے ہیں۔اصل میں سینیٹ میں شکست کی چوٹ کچھ اتنی ظالم اور شدید تھی کہ ابھی تک درد میں کمی نہیں ہوئی۔سچ ہے اس چوٹ کی آواز یہاں تک آئی ہے ۔


ای پیپر