مسٹر زرداری کا موجودہ پو لیٹیکل کیریئر
26 مارچ 2018

میں جب جناب زرداری کے ماضی اور حالیہ کیریئر پر نظر ڈالتا ہوں تو آج ایک بھی سیاستدان مجھے ان کا ہم پلہ دکھائی نہیں دیتا ۔ سب سے زیادہ آگاہی رکھنے والے سیاستدان ہیں۔ بینظیر بھٹو شہید سے نسبت ہونے سے پہلے وہ سیاست کی گلی میں نہیں آئے تھے پھر کیا ہوا کہ وطن عزیز کی اشرافیہ، بنیاد پرست اور دائیں بازو کا میڈیا، ملا ، سرمایہ دار ، صنعت کار ، تاجر ، ملٹری و سول بیورو کریسی ، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ غرضیکہ تمام بھٹو مخالف قوتیں حتیٰ کہ پیپلزپارٹی کے اندر اور بھٹو خاندان میں ان کی شدید مخالفت شروع ہو گئی۔ زرداری انتقام، دوستی، دشمنی سیاست اور وعدے ساتھ ساتھ نبھاتے رہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو پہلی بار حکومت ملی تو بیس ماہ کے اندر اندر ہی غلام اسحق خان نے زرداری پر الزامات لگا کر حکومت کو چلتا کیا، جب میاں صاحب کی حکومت توڑی تو بی بی شہید نے جناب زرداری کو نگران وزارت کا حلف اسحق خان سے دلوایا کہ دنیا دیکھے یہ الزام لگانے والا زرداری اُس کی ملکی وفاداری پر اعتماد کر رہاہے۔ بی بی صاحبہ کی دوسری حکومت میں لغاری کو صدر بنوانے میں جناب زرداری کی حکمت عملی جوڑ توڑ تعلق اور سیاست نے کرشمہ دکھایا مگر لغاری نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنی فطرت دکھائی۔ شہید بی بی کی حکومت توڑ دی اور زرداری کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ جناب زرداری نے اسحق خان،، لغاری، نواز شریف، مشرف سب کی حکمرانی میں جیل کاٹی اور جسٹس افتخار کی عدلیہ کا سامنا بھی کیا۔ نیب اور سول عدالتیں بھی دیکھیں۔ جیل سے باہر ہمیشہ وکٹری کے نشان اور مسکراہٹ کے ساتھ آئے۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد مشرف کا زرداری صاحب سے ملاقات کے لئے کوٹ لکھپت جیل کا دورہ طے تھا مگر فیصل صالح حیات اور نوروز شکور وغیرہ کا میزائل مارا گیا اور ایک ووٹ سے جمالی صاحب وزیراعظم بن گئے۔ جناب زرداری جیل سے باہر آئے تو چوہدری برادران نے ان کے داتا صاحب حاضری کے لیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ وہ ملک سے باہر چلے گئے جس دن انہوں نے محترمہ شہید کو دفنایا اس دن زرداری کا سب کچھ دفن ہو گیا تھا۔ بی بی کے خون اور کفن کو لوگوں نے ووٹ دیئے، زرداری اپنی حکمت عملی سے اپنا وزیراعظم، خود صدر اور اپنا چیئرمین سینٹ بنانے میں کامیاب رہے۔ اس دوران ایم کیو ایم کی حقیقت کو خوب ننگا کیا، رات کو راضی اور دن کو ناراض ، زرداری نے ہر سٹیک ہولڈر کو اس کی اوقات کے مطابق قیمت دی اور عدلیہ کو بھی آنکھ دکھائی۔ زرداری کے در پر چوہدری برادران بھی پائے گئے اُنہوں نے حسن سلوک سے انہیں گرویدہ بنایا۔ آئین بحال کیا، صدر کے اپنے ہاتھوں اختیارات پارلیمنٹ کو دیئے، دہشت گردی سے نمٹے، چائنہ کے درجنوں دورے کیے، امریکن مخالف لابی سے ان گنت ملاقاتیں کیں اور کسی ملاقات کی روئیداد باہر نہ آئی۔ چائنہ سے گوادر کا معاہدہ منظر عام پر آیا اور ایران سے گیس پائپ لائن کا بھی۔ میاں صاحب میثاق جمہوریت کے باوجود کالا کوٹ پہن کر عدالت پیش ہوتے رہے۔ زرداری نے 5 سال پورے کیے اقتدار آگے منتقل کیا۔ 2013ء میں وفاق میں انتخابی شکست کھا کر بھی سیاست میں رہے۔ ہر ایک کو للکارتے رہے۔ سب سے کم بولنے والا سیاست دان ہے مگر اپنی محفل میں کسی کو بولنے نہیں دیتا۔ زرداری کو گالی دینا رواج بن گیا مگر اس کی کریڈٹ شیٹ پر دیکھیں حب الوطنی، ذہانت، شجاعت، دوستی، دشمنی، وفا، صبر، استقامت، حکمت انتقام سب ساتھ ساتھ چلا۔ چائنہ کے ساتھ گوادر معاہدہ کیا۔ سی پیک کے بغیر گوادر چائنہ کے لیے فضول تھا۔ سی پیک کی تعمیر اور تکمیل کے لیے جناب زرداری کی شرط پاکستانی مین پاور اور ریسورسز تھے مگر یہ معاہدہ مکمل نہ ہوا۔ نواز حکومت نے چائنہ کی ہر شرط مان لی اور معاہدہ ہوگیا۔ بھٹو صاحب کے خلاف سازش میں انٹرنیشنل، امریکی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کا کلیدی کردار تھا۔ سعودیہ ان کا باقی معاملات میں اتحادی تھا۔ چائنہ کے ساتھ گوادر معاہدہ نے امریکہ، چائنہ اور انڈیا کو پاکستان میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ یہ معاہدہ خارجہ پالیسی میں امریکہ سے آزادی کا نقیب ٹھہرا۔ اس معاہدے کی پاسداری میں وطن عزیز کی فوج کو امریکہ سے سننا پڑا کہ ہم نے ان کو بہت ڈالر دیئے ہیں۔ زرداری نے نواز شریف کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اور ان کی حمایت کی جس کے نتیجے میں اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے اورآج نوا زشریف اپنے مکافاتِ عمل کے ساتھ اداروں کی مخالفت کا مزہ لے رہے ہیں۔ ایران سے معاہدہ کر کے سعودی شاہی خاندان کی طبیعت بھی صاف کی۔ انڈیا سے صلح مسئلہ کشمیر حل یعنی آزاد ہونے پر ہو سکتی ہے مگر سعودیہ ایران صلح ممکن نہیں۔ گویا زرداری نے سب کے حساب چکائے اور وطن کی خدمت بھی کی ۔
عمران خان کی تقریر زرداری کو گالی سے شروع ہوتی تھی۔ زرداری نے ہاتھ ملائے بغیر نیابتی تعلق سے ہی عمران خان کی سیاست خاک میں ملا کر پوری قوم کو دکھا دیا کہ یہ کیا ہیں اپنا چیئرمین سینیٹ لے آئے۔ زرداری کسی کو عہدہ دیتے وقت پروا نہیں کرتے جبکہ میاں صاحبان اور چوہدری برادران کو پٹواری کی تعیناتی بھی ’’اپنا آدمی ہے کہ نہیں‘‘ تسلی کر کے دینا ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی زرداری ہی بھاری نکلا۔ اگر کوئی اور بھاری ہوتا تو زرداری کے بغیر کام چلا لیتا یہ حقیقت ہے کہ جناب زرداری سب کچھ ہیں مگر عوام میں پاپولر اور رویے میں منافق نہیں ہیں ۔
البتہ جہاں اُنہوں نے بی بی صاحبہ کے بعد پیپلزپارٹی کو قائم رکھا وہاں اُن کی سربراہی پیپلزپارٹی پر بھاری بھی گزری ہے۔ کیونکہ ان کے خلاف پروپیگنڈا بہت ہوا۔ دراصل وطن عزیز کی سیاسی اور حکمرانی بساط پر مختلف مُہرے ہر وقت رہتے ہیں، ایک میگا تھیٹر ہے، سب کے سب اداکار جتے پڑے ہیں، ہر ایک کا کردار آج کے دور میں کلی طور پر قابل مذمت ہے اور نہ ہی قابل تعریف۔ اپنی اپنی فطرت اور بساط کے مطابق کردار ادا کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی جتنے بڑے اور جتنے سچے جذبوں والی جماعت تھی، اس کی قیادت پر تو بدعنوانی کا الزام بھی نہیں آنا چاہیے تھا۔ بھٹو صاحب اور بی بی صاحبہ کا آج تک نام باقی ہے تو دیانتداری اور ورکر سے محبت کی وجہ سے بلاول کو پی پی پی کے ورکر سے رابطہ رکھنا ہو گا اور بلاول کو اپنے نانا اور ماں کی سیاست کرنے کی آزادی دیئے بغیر بات نہیں بنے گی۔ بلاول ورکر سے رابطہ رکھتے ہیں مگر باقی قیادت رابطہ نہیں رکھتی اور رابطہ رکھے بھی کیوں کر کہ اس کا تو پیپلزپارٹی سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ وٹو، ملک عبدالرحمن ، بابر اعوان، مظفر ٹپی وغیرہ کا کیا واسطہ تھا۔ البتہ چوہدری منظور، چوہدری نوید، دانشور صحافی جناب اشرف شریف اور جناب بشیر ریاض جیسے لوگ پیپلزپارٹی کا اثاثہ ہیں۔ بلاول کو اپنے والد کے سیاسی دوستوں کے سائے سے بھی پرہیز کرنا ہو گا اور ورکر کے ساتھ وہ رابطہ بحال کرنا ہو گا جو ذوالفقار علی بھٹو صاحب اور محترمہ شہید کا تھا۔ کسی سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اپنے نانا کی اور والدہ کی تقریروں، جلسوں اور سوانح عمری کی ویڈیو ہی دیکھ لیں ، اندازہ ہو جائے گا جوڑ توڑ کی سیاست میں تو شوکت عزیز ، جمالی صاحب اور جونیجو مرحوم بھی وزیراعظم بن جاتے ہیں جبکہ لیڈر شپ اور مقبولیت کے لیے بھٹو صاحب اور محترمہ کی تقلید ضروری ہو گی۔ زرداری صاحب کی حکمت عملی سیاست میں کامیابی دلا سکتی ہے لیکن پیپلز پارٹی کی عوام میں مقبولیت ورکر سے رابطہ کے بغیر ممکن نہیں۔ بہر حال زرداری صاحب نے اپنے ہدف بھی پورے کیے مخالفین کے حساب بھی چکائے اور عمران کی میڈیسن کا کام بھی کیا۔ جس کے سائیڈ ایفکٹ سیاسی زاکر ڈاکٹر عامر لیاقت بھی ذائل نہ کر پائے گا۔ بھٹو مخالف قوتوں کے سامنے زرداری بڑی مزاحمت بھی ہیں۔ ویل ڈن مسٹر زرداری ۔


ای پیپر