الحاق قلات سے بلوچ ناراض کیوں؟
26 مارچ 2018 2018-03-26

برصغیر سے اگست 1947ء میں قانون آزادی ہند 1947 کے تحت برطانیہ کی واپسی پر برطانوی راج کے تحت سینکڑوں نوابی ریاستیں ان تمام ماتحت اتحاد اور دیگر معاہدوں جو برطانوی راج کے ساتھ کیے گئے تھے سے مکمل آزاد ہو گئیں۔ وہ نو آزاد ریاستوں بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کے لیے آزاد تھیں۔ بصورت دیگر انکو یہ اختیار بھی تھا کہ وہ دونوں سے علیحدہ خود مختار ریاست کے طور پر رہیں۔ صرف دو نوابوں نے اگست 1947ء کو آزادی کے بعد پہلے مہینے میں پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ لیکن مسلم اکثریتی آبادی کی ریاستوں میں سے زیادہ تر نے ایک سال کے اندر پاکستان کے ساتھ الحاق کر کیا۔ ریاست ہنزہ اور ریاست نگر سب سے آخری ریاستیں تھیں جنہوں نے 1974ء میں پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ خانیت قلات 15 اگست 1947ء سے 27 مارچ 1948ء تک آزاد ریاست کے طور پر قائم رہی اور اس کے بعد اس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ بلوچستان ریاستی اتحاد جنوب مغربی پاکستان کے علاقے میں 3 اکتوبر 1952ء اور 14 اکتوبر 1955ء کے درمیان موجود رہا۔ یہ اتحاد ریاست قلات ، ریاست خاران، ریاست لسبیلہ اور ریاست مکران کے درمیان قائم ہوا اور اس کا دارالحکومت قلات شہر تھا۔ 14 اکتوبر 1955ء یہ خانیت ختم ہو گئی اور یہ مغربی پاکستان میں شامل ہو گئی۔
’’ قلات ‘‘بلوچستان کاایک اہم ترین حصہ ہے پاکستان کی سب سے بڑی کمشنری بھی ہے۔ بلوچستان کے مغرب میں ایران اور افغانستان کی سرحدیں ہیں اورجنوب میں بحیرہ عرب کاوسیع و عریض ساحل ہے۔ برطانوی راج میں بلوچستان میں چار خودمختارریاستیں قائم تھیں،ان میں قلات سب سے بڑی ریاست تھی۔قیام پاکستان کے پہلے سے بعد تک قائداعظم ؒ مسلسل بلوچستان کے دورے کرتے رہے اور خوانین سے ملاقاتیں اور ان ریاستوں کے دربارعام سے خطاب بھی کرتے رہے۔اس مسلسل تگ و دوکے نتیجے میں 18مارچ 1948کوبلوچستان کی تین ریاستوں خاران، لسبیلہ اور مکران نے الحاق پاکستان کااعلان کردیا۔27مارچ کو خان آف قلات بذات خود کراچی میں تشریف لائے ،قائداعظم ؒ سے ملاقات کی اور آخری ریاست، ریاست قلات کابھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ الحاق کااعلان کردیا۔
خانِ قلات نے خود مختار بلوچ ریاست کے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انیس سو سینتالیس میں ریاست کا ایک آئین بنایا جس کے تحت دو ایوانوں پر مشتمل پارلیمان بنائی گئی۔ فروری اور مارچ انیس سو اڑتالیس میں حسب معمول سبی دربار منعقد ہوا۔ خانِ قلات کا دارالحکومت سبی سے دس میل کے فاصلے پر ڈاڈرھا تھا۔ وہاں پاکستان سے الحاق کے لیے قائداعظم کی خانِ قلات سے بات چیت ہوئی لیکن ناکام ہوگئی۔تاہم کچھ پس و پیش کے بعد خانِ قلات نے الحاق کا اعلان کردیا جسے قوم پرست او بلوچ سردار تسلیم نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ الحاق فوجی کارروائی کی دھمکی دے کر کرایا گیا۔
قلات نیشنل پارٹی اور قلات کی پارلیمان نے قلات کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کی۔ تاہم کوئٹہ کے سردار اسے درست تسلیم کرتے ہیں۔ قلات کے سردار آج تک یہ کہتے ہیں کہ یہ الحاق جبری تھا اور ہمارا خواب ہے کہ سارا بلوچ علاقہ آزاد ہو گو قلات کے سردار عملی سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔ اب خانِ قلات احمد یار خان کا پوتا قلات کا سردار ہے۔بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں پر قوم پرست سیاسی تحریکوں میں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول میں تشدد کا رجحان دیگر صوبوں کے قوم پرستوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔پاکستان کے قیام کے بعد قلات ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق ہی نے بلوچ سرداروں، نوابوں اور سیاسی دانشوروں میں پاکستان کے خلاف مزاحمتی تحریک کے بیج بو دیئے تھے جو آج تک مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ بلوچ قوم پرست حلقوں کا کہنا ہے کہ خان آف قلات کا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ پاکستان کے دباؤ کا نتیجہ تھا جس کے خلاف احتجاج کے طور خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے تھے اور یہ بلوچ حقوق کے لیے پہلے مسلح جدوجہد تھی۔کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ نیشنل فرنٹ اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ہر سال ستائیس مارچ یعنی یوم الحاق پاکستان کے حوالے سے احتجاجی ریلیاں نکا لتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بلوچستان اور قلات کا الحاق زبردستی کیا گیا ہے۔ ناراض بلوچوں کا ایک طبقہ وہ ہے جو پاکستان کو اپنا ملک لیکن بلوچستان کو اپنا وطن سمجھتا ہے۔ یہ پاکستان سے نہیں، پاکستان کے حکمرانوں سے ناراض ہے۔ اس کے نزدیک بلوچستان کی صوبائی خودمختاری ہی اسکے مسئلے کا واحد حل ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ بنگالی بھی یہی چاہتے تھے، پنجاب سندھ اور خیبرپختونخوا کے لوگ بھی یہی چاہتے ہیں، خود ہمارے آئین میں بھی اسکی ضمانت موجود ہے۔ مگر بدقسمتی سے اسلام آباد کے قتدار پر جو بھی براجمان ہوتا ہے وہ ملک کے تمام اختیارات پر قبضہ کرلیتا ہے کسی دوسرے کو شریک نہیں ہونے دیتا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان ایک بار دولخت ہوچکا ہے۔ اب یہ سوچ بدلنا ہوگی۔
بلوچ قوم بلوچ سیاستدان اور بلوچ دانشورسب کا اصرار ہے کہ قلات ایک الگ ملک تھا۔ ہندوستان کا حصہ کبھی نہیں رہا۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت بلوچستان کے مسئلے پر 4اگست 1947ء کو دہلی میں جو گول میز کانفرنس ہوئی اور جس میں وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن، قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان اور خان قلات میر احمد یار خان بھی شریک تھے۔ اس نے متفقہ فیصلہ دیا تھا کہ 15اگست کوریاست قلات کی وہ خودمختار حیثیت بحال ہوجائے گی جو اسے 1838ء میں انگریزوں کی دستبرد سے پہلے حاصل تھی۔ اس روز انہی لیڈروں کے دستخطوں سے ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں پاکستان نے قلات کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا تھا۔ یہ اسی معاہدے کا نتیجہ تھاکہ میر احمد یار خان نے 15اگست کو قلات کی آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ قلات کا پرچم لہرایا گیا اور نمازجمعہ میں ان کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ پھر خان قلات نے قلات کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا تشکیل دے کر ستمبر میں ان کا پہلا اجلاس طلب کیا جس نے اعلان آزادی کی توثیق کی۔ یہ بعد کی بات ہے کہ بعض عوامل کی وجہ سے خان قلات نے اپنی پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود پاکستان سے الحاق کا معاہدہ کر لیا جسکی رو سے قلات کو مکمل خود مختاری دی گئی تھی۔
قلات کے عوام اس ملک خداداکے ساتھ اپنی جذباتی وابستگیاں قائم کر کے اپنے اسلام کی یادتازہ کرسکتے ہیں اور اپنے دیندار حکمرانوں کے نقش قدم پر چل کر اس ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پوری آزادی کے ساتھ اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔27مارچ ہر سال آتاہے،اس دن کویوم الحاق پاکستان کی یاد میں یوم تشکرکے طورپر منایاجائے اور اہل قلات اس دن کے حوالے سے اپنی نسلوں کو باورکرائیں کہ پاکستان کے قیام سے الحاق تک ان کی تاریخی کاوشیں اس کا حصہ ہیں اورپاکستان صرف ہندوستانی مسلمانوں کانہیں بلکہ کل امت مسلمہ کی امانت ہے جس کی حفاظت کے فیصلے آسمانوں سے صادرہوتے ہیں۔


ای پیپر