جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
26 مارچ 2018

پھر وہی بات دہراؤں گا ، پاکستانی عوام کو سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ وہ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان صاحب کا اصل مقصد سمجھیں۔ اس دانائی کے سمندر میں غوطہ لگا کر تہہ آب میں پڑے ان چمکتے موتیوں کی خوبصورتی دیکھنے کی کوشش کریں۔مگر ان عقل کے اندھوں کو تو پانی کی سطح پر کائی ہی نظر آرہی ہے۔ ان کا سمندر کے نیلے پانیوں سے کیا تعلق ، تہہ میں پڑے خزانوں سے ان کا کیا کام۔ ہر طرف فضول سا شور مچایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ پی ٹی آئی کی نازک ڈالیوں سے لٹکے نئے پاکستان کے امیدوار ابھی خان صاحب کی شادی کے زلزلے سے سنبھلنے ہی پائے تھے ، ناسمجھ عوام کو اس شادی کے ثمرات سمجھانے میں مصروف تھے کہ انہیں معلوم ہوا ، جس شاخ نازک کو تھامے وہ لٹک رہے ہیں اس پر ڈاکٹر عامر لیاقت ، عمران خان کے ساتھ بیٹھے دل کی باتیں کرنے میں مصروف ہیں۔ کچھ بے چارے اس نئے صدمے سے زمین پر گر گئے اور خان صاحب کے قصیدے پڑھنے سے تائب ہو گئے جبکہ باقی ابھی تک گنگ ،حیران و پریشان عامر لیاقت کے استقبال کے لئے الفاظ ڈھونڈ رہے ہیں۔ مگر لفظ ہیں کہ اس بار تو ساتھ چھوڑ ہی گئے ہیں۔ وہ الفاظ جو گالیوں کی شکل میں قطار اندر قطار ہاتھ باندھے مودب کھڑے ہوتے تھے اب کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ اب تو بس یہی امید ہے کہ خان صاحب کی کرشماتی شخصیت ، ان کی خوبصورتی ، قد و قامت ، ان کا جدا انداز ، ان کا ماضی ، ہسپتال ، ورلڈ کپ ، بیانات اور ان کا نیا پاکستان جلد چاہنے والوں کو اس صدمے سے باہر نکال دے گا۔ اور پھر علیم خان ، نذر گوندل ، جہانگیر ترین ، فواد چوہدری ، عامر لیاقت ، عمران اسماعیل ، نعیم الحق ،عون چوہدری اور عمران خان ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک بار پھر ریت کے گھروندے بنانے میں مصروف نظر آئیں گے اور ان کے چاہنے والے ان کی غلاظت کو عطر ثابت کرتے۔
کچھ عاقبت نااندیش ڈاکٹر عامر لیاقت کا پرانا ویڈیو کلپ اٹھا لئے جہاں وہ فرما رہے تھے ’’تحریک انصاف والو میں160آپ کا پیچھا کروں گا ، مگر میں آپ کی طرح گھٹیا اور بے غیرت نہیں ، بتائیں گے ہم کہ کتنا گندا ، گھناؤنا ،گھٹیا چہرہ ہے تحریک انصاف کا۔ غلیظ چہرہ جو اپنی ماؤں کو گالیاں دیتے ہیں‘‘۔
کسی دل جلے نے کہا کہ یہ تو سال ڈیڑھ سال پرانا کلپ ہے تو نئے پاکستان کے مخالفین ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو بدنام کرنے کیلئے ان کا تازہ صرف چند دن پرانا ویڈیو کلپ ڈھونڈ لائے ’’سب سے پہلے میں ان صاحب کی بات کر لوں جو کہتے ہیں کراچی لاوارث نہیں ہے ، پہلے تو سمجھ لیں کہ قرآن کا اصول ہے ، وہ الگ بات ہے کہ آپ عدت کے دوران بھی نکاح کر سکتے ہیں۔ آپ اپنا نیا پاکستان اور نیا اسلام لانا چاہتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے ، عدت کے دوران نکاح نہیں ہوتا ، لیکن اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ کراچی کے بھی لیڈر آپ بن جائیں تو کراچی کے لیڈر آپ نہیں بن سکتے۔ آپ میانوالی کے بن سکتے ہیں ، آپ لاہور کے بھی لیڈر نہیں ہیں۔ آپ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ بھی نہیں بن سکے ،وہ بھی آپ نے بنایا ہے ، وہاں پر بھی
آپ کو ادھر کے لیڈر کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا‘‘۔
ایک اور موقع پر فرماتے ہیں’’اصل میں مٹھائیاں اس لئے یاد آتی ہیں وہ شادیوں کے بارے میں بہت سوچتے ہیں ، جو انسان شادی کے بارے میں سوچتا ہے اسے مٹھائیاں بہت یاد160آتی ہیں۔ شاید پھر کوئی دھرنا ہو جائے گا ، وہ دھرنا کا مقصد ہی شادی سمجھتے ہیں کیونکہ دھرنے کے بعد شادی ہو جاتی ہے اور چونکہ انہوں نے آج تک ہیٹرک نہیں کی ہے کرکٹ میں۔ تو وہ ہیٹرک کرنا چاہتے ہیں لیکن شادی میں وہ ہیٹرک نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہ طلاق میں ہیٹرک کرسکیں گے۔ تو اس لئے انہیں مٹھائیاں پسند ہیں۔عمران خان کے تو اقتدار حوالے بھی نہیں کرنا چاہیے۔ صبح کچھ ہوتے ہیں ، شام کچھ ہوتے ہیں۔ اچانک ان کی رائے بدل جاتی ہے‘‘۔
آپ نے اکثر وہ منظر دیکھا ہو گا جب پیر کے سامنے بڑے بڑے جلالی مرید بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ عمران خان صاحب کے بارے میں جتنا ہم جانتے ہیں وہ بڑے بااصول ، اکڑ ، انا ، عزت ، غصے اور غلط بات کیخلاف ڈٹ جانے والے انسان ہیں۔انہیں کسی عوامی جلسے میں کارکنوں پر بھی اکثر غصہ آجاتا ہے ، پریس کانفرنس میں رپورٹر بھی زیر عتاب آ جاتے ہیں۔کرکٹ کے زمانے میں ان کے ساتھی کھلاڑیوں پر غصے کے کئی قصے بیان کئے جا سکتے ہیں۔ بے مروتی میں بھی کافی مشہور ہیں۔ اپنے گورا سٹائل انداز زندگی میں بھی وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی مہمان گھر ملنے آجائے تو اسے بیٹھا چھوڑ کر کتے کے ساتھ واک کرنے چلے جاتے ہیں۔ مہمان سامنے بیٹھا ہے اور ناشتہ آ گیا ہے تو اسے صلح تک نہیں مارتے۔ اکثر ان سے ملنے والے چائے پئے بغیر ہی گھر کو لوٹ جاتے ہیں۔ سوچئے ایسے شخص کو کوئی لعن طعن کرے ، انتہائی غلیظ زبان استعمال کرے ، اس پر ذاتی حملے کرے۔ اس پر عدت کے بغیر شادی کرنے کا الزام لگائے ، اس کی جماعت کو گھٹیا اور ذلیل کہے تو کیا وہ اسے ساتھ والی نشست پر بٹھا سکتا ہے۔؟ اور جس عمران خان کو پورا پاکستان جانتا ہے وہ کبھی بھی عامر لیاقت کو جادو کی جبھی نہ ڈالتے۔ مگر جب پیروں کا حکم ملتا ہے تو عمران خان جیسے جلالی مرید بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ جس کو جان سے مارنے پر دل کرے اس کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے اس کیلئے بانہیں پھیلانے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں ، چہرے سے چاہے جتنی مرضی بے چارگی اور نفرت کا اظہار ہو مگر ملک و قوم کی بہتری کیلئے اور پیروں کیلئے تو ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا
جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
عوام کو سمجھنا چاہیے کہ بابے اور پیر آنے والے امتحانات کی تیاریوں میں مشغول ہیں۔ سینٹ انتخابات میں (ن) لیگ کو مات دینے کے بعد اب ٹارگٹ ہے اگلے عام انتخابات۔ مقصد ہے ووٹ کے تقدس کا نعرہ لگانے والوں کو فنا کرنا۔ میدان جنگ سجنے والا ہے ، تبدیلی کا دور چل رہا ہے اور ٹیمیں تیار ہو رہی ہیں۔ ایسے موقع پر ڈاکٹر عامر لیاقت سے بڑا کھلاڑی کہاں سے مل سکتا تھا۔ ایسا کھلاڑی جو دین و دنیا ہر دو میدانوں کا شہسوار ہو۔ دعاؤں کے ساتھ ساتھ دوا کا استعمال بھی جانتا ہے جہاں ضرورت ہے چڑھ دوڑے اور جہاں حکم ملے لیٹ جائے۔ ایسے جری جوان کیلئے پی ٹی آئی کے دروازے نہیں کھلے بلکہ پی ٹی آئی کیلئے اقتدار کے دروازے کھل گئے ہیں۔ اور بقول عامر لیاقت کے اب ان کی ڈولی پی ٹی آئی میںآ گئی ہے اور ان کی لاش ہی یہاں سے نکلے گی۔ جبکہ ہمارا خیال ہے یا تو اس آخری معرکے میں عامر لیاقت کی لاش پی ٹی آئی سے نکلے گی یا پھر خدانخواستہ عامر لیاقت و ہمنوا کی وجہ سے پی ٹی آئی کی لاش پاکستان سے نکلے گی۔ اللہ ہمارے بابوں اور پیروں کی حفاظت فرمائے۔


ای پیپر