دشمن کے بچوں کا بھی بھلا سوچنے والے لوگ
26 مارچ 2018 2018-03-26

سیانے کہتے ہیں کہ اگر آپ کوئی بھی کام نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ کریں تو کائنات کی تمام قوتیں آپ کی مددگار ہو جاتی ہیں اور پھر جس کے نتیجے میں کامیابی آپ کا مقدر ٹھہرتی ہے ۔ ہمارے معاشرے میں جہاں مایوسی اور نا امیدی کے بے شمارواقعات سننے کو ملتے ہیں وہاں امید اور روشنی پھیلاتی ایسی حقیقی داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ جس کی وجہ سے کئی عشروں سے میرے ملک میں چھائے اندھیرے ختم ہو رہے ہیں اور جس کی جگہ روشنی ہے جو چار سو پھیلتی چلی جا رہی ہے ۔ بقول درویش خدا صوفی بر کتؒ ، وہ وقت قریب ہے جب پاکستان کی ہاں اور ناں میں اقوام عالم کے فیصلے ہو نگے ۔ انشا ء اللہ وہ وقت آہی جا ہتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ نیکی اور اچھائی برائی کے مقابلے میں بڑھتی جا رہی ہے اور میں جس کا گواہ ہوں۔
قارئین کرام !اللہ کریم نے جہاں میرے ملک کو کئی قسم کے خوبصورت موسم، معدنیات اور کئی طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے وہاں کئی ایسے خوبصورت لوگ بھی میرے ملک میں بستے ہیں جو دولت، طاقت اور عزت ہونے کے باوجود بھی فرعونی رستے کے مسافر نہیں بنتے بلکہ انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ ملک اور یہاں بسنے والے غریب ، لاچار اور مفلوک الحال لوگوں کی امداد اور بہتری کے لئے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک شخص کا نام سہیل حبیب تاجک ہے جس کا شمار محکمہ پولیس کے تیزی سے ناپید ہوتے نیک اور ایماندارافسروں میں ہوتا ہے ۔ ان کا یہ بھی کمال ہے کہ اپنی پوری سروس کے دوران جہاں بھی گئے نیک نامی اور اچھے کاموں کی داستان چھوڑ کر آئے۔ بطور ڈسٹرکٹ پولیس افسر جن اضلاع میں ذمہ داریاں سر انجام دیں وہاں جرائم ریٹ صفر رہ گیا اور خصوصیت یہ ہوتی کہ ہر شہری کے لئے دفتر کے دروازے کھلے ہوتے جہاں یہ صبح و شام کی پروا کئے بغیر اپنی اپنی درخواستیں پیش کرتے اور فوری ان پر عملدرآمد بھی ہوتا تھا۔
بطور ڈسٹرکٹ پولیس افسر رحیم یار خان ، علاقے میں امن وامان کی فضا کو دوبارہ قائم کر نے کا سہر ابھی ان کے سر سجتا ہے ۔ سہالہ کالج جہاں تعینات افسران اپنی جیبیں بھرنے اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر نے سے ہی باز نہیں آتے تھے وہاں کالج کی بلڈنگ بھوت بنگلے کا منظر پیش کررہی تھی اور جہاں بظاہر پولیس ملازمین کی تربیت ہوتی تھی لیکن حقیقت یہ تھی کہ نہ وہاں کلاس رومز اس قابل تھے اور نہ ہی انسٹرکٹر جو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ملازمین کو تربیت فراہم کر سکتے ۔پورے پنجاب سے تربیت حاصل کرنے آئے ملازمین جو یہاں رہائش پذیر ہوتے ، ان کی رہائش گاہیں اور کچن دیکھ کر کہانیوں میں پڑھی فرنگیوں کی جیلوں کی یادیں تازہ ہو جاتی تھیں۔ بطو ر کمانڈنٹ کچھ ہی دنوں میں وحشت اور خوف کی علامت سمجھی جانے والی سہالہ کالج کی بلڈنگ کی ازسر نو تزئین و آرائش کی گئی، رہائشگاہوں اور کچن کو تین ستارہ ہوٹل کے مطابق تیار کرایا گیا جبکہ ملازمین کی استعداد کار کو بڑھانے اور انہیں دور حاضر کے تما م تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے تربیت کا ایسا شاندار منصوبہ متعارف کرایا جس کی وجہ سے کچھ ہی دنوں میں حیرت انگیز نتائج دیکھنے کو ملے۔ اس کے علاوہ کئی دانشوروں اور ماہر نفسیات کے لیکچرز اور سیشنز منعقد کرانے کا آغاز بھی ان کا کارنامہ ہے ۔
قارئین کرام !جب سے تاجک صاحب کی ریجنل پولیس افسر ڈیرہ غازی خان تعیناتی ہوئی ہے تب سے اس سے منسلکہ علاقے جو ڈاکوؤں ، دہشت گردوں اور اشتہاریوں کی وجہ سے خوف اور دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے ، امن سکون اور محبت کا گہوارہ بنتے جا رہے ہیں ۔جن علاقوں میں صبح کے وقت سفر کرنے سے خوف آتا تھا اب وہاں رات کے وقت بغیر خوف و خطر سفر کیا جا سکتا ہے ۔ وہ ڈاکو، چور اور اشتہاری جو پولیس کو کچھ سمجھتے نہیں تھے اب وہ خود گرفتاریاں پیش کر رہے ہیں ۔ یہ انقلابی تبدیلی کیسے ہوئی ؟ اس کے پیچھے سہیل حبیب تاجک کی وہی انسانی ہمدردی اور لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کر نے کا جذبہ ہے جس کی بدولت کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں اور اشتہاریوں کے بچوں کے لئے سکول کا آغاز کیا گیا ہے جہاں پڑھانے والے بھی سکول ملازمین ہیں ۔ حکومت سمیت بڑے بڑے فنڈز ڈکار نے والی این۔جی۔اوز کو جس کی ہمت نہیں ہوئی وہ کام یہاں کے ریجنل پولیس افسر نے کر دکھایا ہے اور جس کے انتہائی مثبت نتائج مل رہے ہیں ۔
قارئین کرام !جہاں پنجاب پولیس میں بے گناہوں کا ان کاؤنٹر کر نے والے قصور پولیس کے جلاد ، فر عونی نشے میں مست معصوم بچی کو مو ٹر سائیکل سے اٹھا کر زمین پر پٹخنے والا سیالکوٹ پولیس کے سب انسپکٹر شامل ہیں وہاں سہیل حبیب تاجک جیسا نیک ، ایماندار اور لوگوں کا بھلا چاہنے والا افسر بھی موجود ہے جو دشمنوں کے بچوں کا بھی بھلا سوچتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسے خوبصورت لوگوں کی وجہ سے ہی محکمے کی عزت اور یہ دنیا قائم ہے۔


ای پیپر