نام نہاد جمہوریت کی مسخ شدہ آئیڈیالوجی
26 مارچ 2018 2018-03-26


مفادات کے رشتے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں کاٹا تو جاسکتا ہے توڑا نہیں جاسکتا ۔
زرداری اور شریفوں کا گٹھ جوڑ ’’ریکنسلیشن ‘‘کے نام پر اٹوٹ انگ کا وہ آئینہ ہے جس میں دو پارٹیوں کی جمہوریت کے جعلی تضاد اور لوٹ مار کا عکس واضح نظر آتا ہے۔ایوان بالا میں اپنے لیڈر آف دا ہاؤس کے انتخاب کا جعلی پرچار اور پروپیگنڈہ عوام کے کان سن سن کر پک گئے ۔
کئی روز تک’’ پرائی جنج میں احمق ناچے ‘‘کے مصداق زرداری کے حواریوں نے جیت کے جشن کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے کی بھر پور ریہرسل کی عوام کے اذہان میں اس حقیقت کے ادراک کے باوجود کہ اگر صادق سنجرانی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے تو ایم کیو ایم نے اسے ووٹ کیوں دیا زرداری کے یارسلیم مانڈوی والا کو پرچی ڈالنے سے گریز کیوں کیا ؟اور اب اس سچ کے چہرے سے جھوٹ کا نقاب بھی اُتر چکا کہ لیڈر آف داہاؤس پیپلز پارٹی کا ہے تو ایوان بالا میں لیڈر آف دا اپوزیشن شیریں رحمان کو بنانے کیلئے اتنی تگ و دو کیوں ہوئی ؟ایک گھاگ سیاستدان کی جعلی دانش عوامی حلقوں میں عیاں ہو چکی رائے ونڈ کے مکینوں اور نواب شاہ کے باسی کے درمیاں عہدو پیماں پر چڑھا خول اس ناٹک کو نہیں چھپا سکتا جس نے عوام میں مسٹر ٹین پرسینٹ کی اصطلاح متعارف کرائی دو پارٹیوں کی قدم قدم پر بکھری کرپشن کی داستانوں سے کسے نا آشنائی ہے ؟
شریف ،پارسا اور نیک بن کر اقتدار کے ایوانوں میں دندنانے والوں کو کون نہیں جانتا کہ کرپشن چھپانے کی تشہیر میں بھی کرپشن کی دیواریں اونچی ہوتی گئیں ۔
عوام کی خدمت کرنے والے ایک خادم کے تصویری اشتہارات پر عدالت عظمیٰ نے پابندی لگا کر اپنے فیصلہ میں ثابت کر دیا کہ نیک نامی ،خیرات اور عوامی فلاح کی سکیموں کے نام پر کالے دھن کو سفید نہیں کیا جاسکتا میڈیا کو خرید کر کمیشن اور کک بیکس کے چہرے پر نقاب ڈالنا اب ممکن نہیں ،منی لانڈرنگ سے لیکر سستی روٹی کے تندوروں ،لیپ ٹاپ ،پیلی ٹیکسی ،آشیانہ ہاؤسنگ سکیموں میں کرپشن کی ہولی میں ہاتھ رنگنے والے عوام کے خادم نہیں ہوتے ،کون نہیں جانتا کہ پس پردہ زرداری ،شریف گٹھ جوڑ محض اقتدار میں عوام کی درگت بنانے کا ہتھیار رہا تاکہ سند رہے ۔2013کے الیکشن میں زرداری نے بستر علالت پر پڑے عمران کو یہ باور کرایا کہ یہ آر اوز کا الیکشن تھا جس میں نواز شریف کی جیت عوام کے حق خود ارادیت پر ڈاکہ ڈال کر ہموار کی گئی ’’یہ ووٹ کو عزت دو ‘‘ کی تذلیل ہے عمران جب اس سچ کو لیکر عوام کی عدالت میں پہنچا تو زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے والوں نے 70کھانوں پر بٹھا کر رام کر لیا عوام کے ساتھ حاکم زرداری کے فرزند ارجمند کا اس سے بڑا فراڈبھلا اور کیا ہوسکتا ہے ؟سیاست کے ڈاکٹر کی اس ذہنی افلاس کے کیا کہنے کہ صادق سنجرانی کے اپنی پارٹی سے وابستگی کے دعوے پر فتح کے شادیانے بجانے کے باوجود اپوزیشن کے بنچوں کا انتخاب کرلیا بلوچ کا کوئی حواری بتائے کہ بلوچستان کے ایک بلوچ کی ذات کی نفی کہاں کی دانش ہے؟غربت اور بد حالی میں دھنسے خطے تھر سے جس تعلیم یافتہ کماری کو منتخب کراکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی اس کا غربت سے کیا تعلق وہ تو این جی اوز کے سرمائے کے ساتھ جڑا ہوا ایک قابل فخر حوالہ ہے ۔
کسے ادراک نہیں کہ شریفوں کے پانچ سالہ دور اقتدار میں نواب شاہ کا بلوچ بھٹو کی پارٹی کو سول آمریت کی غلاظت صاف کرنے کیلئے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا رہا ،عوام کے استحصال کے باوجود نام نہاد جمہوری فضیلت پر دھواں دار بھاشن دینے میں لگا رہا ۔
جاوید اقبال چیمہ کا موقف بڑا واضح ہے کہ شوگر ملز مافیا جس کے سرپرست زرداری اور شریف ہیں نے گنے کے کاشتکاروں کی دانستہ تذلیل اور جان بوجھ کر معاشی استحصال کیا سندھ میں 19شوگر ملوں کا مالک کون ہے اور پنجاب میں شوگر ملز کس کی ملکیت ہیں ؟عدالتی احکامات پر بند کی گئی اپنی شوگر ملز کو چلوانے کیلئے کسانوں کے جعلی نمائندے کھڑے کئے گئے اور دیہاڑی پر افراد کو جعلی کسان بنا کر احتجاج کرایا گیا یہ کام مافیاز کے ہوتے ہیں فریب کی اسی مالیاتی جمہوریت پر عمران نے لعنت بھیجی جس کی منڈی میں مفادات کی وفاداریاں تک بک جاتی ہیں ، چھانگا مانگا کا بازار سجتا ہے عوامی نمائندگی کا تاج سجاکر جن ایوان نشینو ں نے اپنی نشستوں کو پارلیمنٹ کا نام دیا وہ طاقت اور سیاست کی دولت کی لونڈی کا سب سے بڑا گھنٹہ گھر ہے۔
جہاں منافقانہ اور منجھے ہوئے انداز میں کرپشن کا دفاع ہوتا ہو جہاں عوام کے ووٹ کے تقدس کو پاؤں تلے روند کر مفاداتی ترامیم کے خنجر سے عوامی خواہشات کا قتل ہو ،لوٹ مار کے سرمائے کا پنجہ عوامی نمائندگی کے چہرے سے عوامی خدمت کا جعلی نقاب نوچ لے ،جہاں کرپشن پر ایک بڑی عدالت سے نااہل شخص کو ایک وزیر اعظم اپنا وزیر اعظم قرار دے ،جہاں ایک بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ کرپشن پر ایوان زیریں سے نکالے گئے فرد کو قائد اعظم ثانی قرار دے جمہوریت کے چہرے پر اس سے بڑا کوئی طمانچہ رسید کیا جاسکتا ہے ؟نواب شاہ کے بلوچ اور رائے ونڈ کے شریف کو کون سمجھائے کہ امید کی خواہش ماند پڑنا شروع ہوجائے تو جمہور کیلئے لفظ جمہوریت گالی بن جاتا ہے پنجاب کی افسر شاہی نے اقتدار کی طوالت پر بر اجمان مسخ شدہ آئیڈیالوجی کی اطاعت کرلی اور اسی کرپٹ جمہوریت کے بطن سے احد چیمہ جیسے افراد پیدا ہوئے ۔
سپانسرڈ جلسوں میں کرائے کے لوگوں سے خطاب کسی طرح بھی عوامی عدالت سے خطاب نہیں ہوتا بے ہنگم اور لغو سیاسی شور میں مایوس کن سکتے کی طوالت دم توڑ چکی ۔
عقل و خرد سے معذور نام نہاد دانشوروں کی عوامی حلقوں میں یہ باور کرانے کیلئے سانسیں پھول رہی ہیں کہ عدالتی نااہل کا بیانیہ مقبول ہو رہا ہے ؟وہ بتائیں کہ کونسا سا بیانیہ ؟غدار وطن شیخ مجیب الرحمان بننے کی خواہش یا عدلیہ اور پاک فوج کے خلاف اعلان بغاوت ؟ کیا سیاست دو خاندانوں کی وراثت ہے ؟بلاول بلوچ کو یہ استحقاق کس نے دیا کہ حافظ سعید کوالیکشن نہ لڑنے دیا جائے کیا بلاول بلوچ کی حب الوطنی کو حافظ سعید کی حب الوطنی کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے؟


ای پیپر