پی ایس ایل ۔۔۔پاکستان کی جیت
26 مارچ 2018 (19:06) 2018-03-26

عثمان یوسف قصوری:جن ممالک میں کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں ہسپتال ویران ہوتے ہیں۔ چند برس قبل پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں ہوتا تھا۔ کرکٹ جو ہمارا پسندیدہ ترین قومی کھیل ہے، اس کے حوالے سے تمام ترین سرگرمیاں بام عروج پر تھیں لیکن پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی دُشمن قوتوں نے اسے اپنا خصوصی ٹارگٹ بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان میں دہشت گردی اور قتل وغارت گری کا بازار گرم کیا، جس کا سب سے بڑا مقصد ملک بھر میں خوف وہراس کی فضا پیدا کر کے تمام تر مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو مفلوج کر کے رکھ دینا تھا۔ طے شدہ امر یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی وخوشحالی میں بیرونی سرمایہ کاری کا رول نہایت اہم ہوتا ہے اور غیرملکی سرمایہ کار اُن ممالک میں پیسہ انوسٹ کرتے ہیں جہاں امن وامان کی صورتحال بہت زیادہ اچھی ہو۔

دُشمن اپنے ایجنڈے میں بہت حد تک کامیاب رہے اور غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے کترانے لگے۔ بھارت جو ہمارا ازلی دُشمن ہے وہ بھی ہمارے خلاف ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حقیقی معنوں میں کہا جائے تو ملک بھر میں آگ اور خون کے ہولناک کھیل کا اصل ذمہ دار بھارت ہی ہے۔جس نے 2009ءمیں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں حملہ کر کے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا دروازہ بند کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ گزرتے وقت کے ساتھ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد بھی مل چکے ہیں کہ جن حملہ آوروں نے لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ کیا اُنہیں ہدایات افغانستان میں موجود بھارتی سہولت کاروں سے مل رہی تھیں۔ دراصل کرکٹ ایک ایسا معروف بین الاقوامی کھیل ہے جو ایشیائی ممالک میں عموماََمعیشت کے لےے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چونکہ بھارت اور دیگر دُشمن قوتوں کا اصل مقصد پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانا تھا۔ خوش قسمتی سے سری لنکن ٹیم کے ارکان جانی نقصان سے تومحفوظ رہے لیکن پاکستان کے دُشمن اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ہمارے کھیلوں کے میدان اور سٹیڈیم ویران ہو گئے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اپنے آفیشلز بھیجنے جبکہ غیرملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ایک ورلڈکپ کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہونا تھا، جس سے سکیورٹی رِسک کی وجہ سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستان نے اپنی کوششیں جاری رکھیں لیکن آئی سی سی مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا۔


نجم سیٹھی کی خدمات
نواز حکومت نے نجم سیٹھی کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ بنایا تو سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکاءاشرف نے سپریم کورٹ میں اُن کی تقرری کو چیلنج کردیا کہ نجم سیٹھی کو غیرقانونی طور پر چیئرمین بورڈ لگایا جارہا ہے اور وہ اس عہدے پر تعیناتی کے اہل ہیں اور نہ ہی وہ کرکٹ بورڈ کو انہیں قبول کرے کیونکہ وہ کرکٹ کے حوالے سے بھی کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔ جس پر سپریم کورٹ نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ شہریار خان کو چیئرمین کرکٹ بورڈ لگا دیا۔ دوسری جانب نواز شریف حکومت نے نجم سیٹھی کو چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کا عہدہ دے دیا۔ نجم سیٹھی نے پاکستان سپرلیگ (PSL) کے حوالے سے ہوم ورک شروع کردیا۔ انہوں نے تمام تر پیپرورک مکمل کرنے کے بعد جب اس کا آئیڈیا پیش کیا تو ملکی وغیرملکی سطح پر کہا جانے لگا کہ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوں گے اور نہ ہی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ دوبارہ بحال ہو پائے گی۔ لہٰذا پی ایس ایل کا باقاعدہ آغاز 2016ءمیں ہوا اور اس منصوبہ کو کامیاب بنانے میں سب سے اہم کردار پاک فوج اور رینجرز نے ادا کیا۔ جو اس حوالے سے مکمل سکیورٹی پلان تشکیل دیتی ہے جبکہ پولیس افسر اہلکار اور دیگر ادارے بھی اسی کو فالو کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کھلاڑیوں کو صدارتی لیول کی سکیورٹی مہیا کی جاتی ہے۔گو کہ ناقدین پی ایس ایل کے انعقاد کروانے کے طریقہ کار اور نجم سیٹھی کی شخصیت کو ہدفِ تنقید بناتے رہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کا کریڈٹ بھی دیتے ہیں کہ ان کی مثبت کاوشوں سے پی ایس ایل کا انعقاد ممکن ہوا۔


پی ایس ایل 3.... ایک سرسری جائزہ
2016ءمیں شروع ہونے والے پی ایس ایل کا رواں برس سیزن تھری اپنے انتہائی عروج پر پہنچا ہوا ہے۔ اس کے دو پلے آف میچز لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے اور آج اس کا فائنل کراچی سٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے، چنانچہ ہم اپنے قارئین کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لےے پی ایس ایل سیزن تھری کا تفصیلی جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے دلچسپ ریکارڈز کیا ہیں؟ بہترین کھلاڑی اور باﺅلرز کون کون سے ہیں؟ پاکستان کے نئے اُبھرتے ہوئے کھلاڑی کون ہیں؟ کیا اس سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل سکیں گے؟ نجم سیٹھی کی کاوش کس قدر کارگر رہی اور سب سے اہم چیز یہ کہ اس کے پاکستانی معیشت پر کس قدر مثبت اثرات رونما ہوں گے؟


پی ایس ایل 3میں ٹیموں اور کھلاڑیوں کے ریکارڈز
سب سے پہلے ہم دلچسپ ریکارڈز قائم کرنے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں کا ذکر کریں گے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ 14 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست جبکہ لاہور قلندرز 6پوائنٹس حاصل کر کے سب سے نیچے رہی۔ کامران اکمل نے پی ایس ایل تھری کی واحد سنچری اور 4نصف سنچریاں بنائیں۔ اس طرح وہ دس میچز کھیلنے والے کھلاڑیوں کے اوسط رنز میں بھی نمبرون رہے۔ کامران اکمل نے سیریز میں سب سے زیادہ 36 چوکے بھی لگائے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے شین واٹسن نے سب سے زیادہ 22چھکے لگائے۔ ملتان سلطان نے کراچی کنگز کے خلاف سب سے زیادہ رنز بنائے جو کہ 188تھے۔ ایک اننگز میں سب سے کم سکور لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کے خلاف کیا، 100رنز بنانے والی لاہور قلندرز پشاور زلمی کے ہاتھوں 10وکٹوں سے شکست کھانے پر مجبور ہوئی۔ سب سے زیادہ مجموعی سکور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز کے درمیان میچ میں بنایا گیا جو کہ 355تھا۔ اسی طرح لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلے جانے والے میچ میں سب سے کم سکور 204بنایا گیا۔ رنز کے حساب سے کوئٹہ گلیڈی ایٹر نے کراچی کنگز کے خلاف سب سے زیادہ رنز سے فتح حاصل کی جو 67رنز تھے۔ پشاور زلمی کو وکٹوں کے حساب سے سب سے بڑی فتح ملی جو کہ 10وکٹوں سے تھی۔ سب سے زیادہ ایکسٹرا سکور دینے کا منفی ریکارڈ بھی لاہور قلندر کے حصہ میں آیا جس نے کراچی کنگز کو 19 سکور تحفتاً دےے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیوک رونکی نے سب سے تیزترین نصف سنچری بنائی۔ بہترین بلے بازوں میں لیوک رونکی، کامران اکمل اور بابراعظم جبکہ فہیم اشرف، عثمان شنواری اور وہاب ریاض بہترین باﺅلرز کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔


اُبھرتے ہوئے نئے پاکستانی کھلاڑی
پاکستان کے اُبھرتے ہوئے کھلاڑیوں میں بہترین باﺅلرز سلمان ارشاد نے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے باﺅلنگ کروائی اور شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹرز کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ پی ایس ایل کی سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ اس نے پاکستان کے نوجوان اور ٹیلنٹڈ کرکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کے کھل کر اظہار کرنے کا موقع دیا۔ قبل ازیں پی ایس ایل ون اور پی ایس ایل ٹو میں بھی بہت سے باصلاحیت کرکٹرز اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ پی ایس ایل تھری میں بھی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والے جن کرکٹرز کے روشن مستقبل کی نوید سنائی جارہی ہے۔ان میں راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے دائیں ہاتھ کے فاسٹ باﺅلر 22 سالہ سلمان ارشاد اس وقت پی ایس ایل میں تمام نوجوان کرکٹرز میں سے سب سے زیادہ توجہ حاصل کےے ہوئے ہیں۔ رواں برس لاہور قلندرز نے جب نئے ٹیلنٹ کی تلاش میں آزادکشمیر کا رُخ کیا تو سلمان ارشاد نے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کی باﺅلنگ کروا کر کوچ عاقب جاوید کو بہت متاثر کیا، چنانچہ لاہور قلندرز نے سلمان ارشاد کو آسٹریلیا جانے والی رائزنگ سٹار ٹیم میں شامل کیا جہاں عمدہ باﺅلنگ کے مظاہرہ پر نیوساﺅتھ ویلز کے ہاکس بیری کلب نے اُن سے تین ماہ کا معاہدہ کرلیا ہے۔ انہوں نے بے حد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس میں ایک ہیٹرک بھی شامل تھی۔ لاہور قلندرز نے انہیں نوجوان کیٹگری میں شامل کیا۔


شاہین شاہ آفریدی کو لاہور قلندرز نے انڈر19 کرکٹ ٹیم میں سے لیا۔ شاہین شاہ نے گزشتہ برس اس وقت بہترین پرفارمنس دکھائی جب انہوں نے اپنے اوّلین فرسٹ کلاس میچ کے آر ایل کی طرف سے کھیلتے ہوئے راولپنڈی کی دوسری اننگز میں صرف 31رنز دے کر 8وکٹیں حاصل کیں جو پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی باﺅلر کی اپنے پہلے میچ میں بہترین کارکردگی ہے۔ خیبرایجنسی سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے فاسٹ باﺅلر شاہین شاہ آفریدی کے بڑے بھائی ریاض آفریدی بھی ایک ٹیسٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ شاہین آفریدی نے گزشتہ برس بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ڈھاکہ ڈائنامائٹس سے بھی معاہدہ کیا تھا۔


صاحبزادہ فرحان علی دائیں ہاتھ کے بیٹسمین ہیں۔ عمدہ کارکردگی پر اسلام آباد یونائیٹڈ نے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ رواں برس قومی ایک روزہ میچز کے ٹورنامنٹ میں انہوں نے ایک سنچری اور 4 نصف سنچریوں کی مدد سے 454رنز بنائے۔ ان کا تعلق چارسدہ سے ہے اور اب تک انہوں نے 9 ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جن میں ان کی دو نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں وہ 17 ون ڈے میچوں میں دو سنچریاں، سات نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔ وہ 12 فرسٹ کلاس میچز بھی کھیل چکے ہیں جن میں ان کی سات نصف سنچریاں شامل ہیں۔


خوش دل شاہ پشاور زلمی کی ایمرجنگ کیٹگری میں شامل ہیں۔ 23سالہ خوش دل شاہ کا تعلق بنوں سے ہے۔ رواں برس قومی ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے 4 نصف سنچریاں بنائیں۔
19سالہ ابتسام شیخ کا حیدرآباد سندھ سے تعلق ہے۔ وہ لیگ بریک گگلی باﺅلر ہیں اور انہوں نے اسی برس فرسٹ کلاس اور ون ڈے کرکٹ شروع کی ۔
19سالہ فاسٹ باﺅلر سمین گُل کا تعلق جمرود سے ہے اور وہ فاٹا اور یوبی ایل کی جانب سے کھیلتے ہیں، وہ اب تک صرف تیرہ فرسٹ کلاس میچز میں 15 کی اوسط سے 62 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جن میں 44رنز کے عوض آٹھ وکٹوں کی بہترین انفرادی کارکردگی بھی شامل ہے۔ پشاور زلمی کے کوچ محمد اکرم نے ان دونوں کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی پر ٹیم میں شامل کیا۔


کرکٹ میچز کے کامیاب اِنعقاد میں پاک فوج کا کردار
اس سیریز کو کامیاب بنانے میں سب سے بڑا ہاتھ پاک فوج، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے جو معاملے کی نزاکت کے عین مطابق سکیورٹی پلان ترتیب دے کر نہایت سختی اور جانفشانی سے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوتے ہیں۔ کرکٹ بورڈ کے آئیڈیا کو عملی جامہ پہناناسکیورٹی فورسز کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھلنے کو ہیں۔ اس سلسلے میں ورلڈ الیون ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرچکی ہے جس کے بعد نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ پُرامن حالات اور آئی سی سی کی کاوشوں کی بدولت عالمی کرکٹرز پاکستان آکر کھیلنے پر آمادہ ہوئے۔ سب سے پہلا قدم پاکستان میں کم ازکم ایک میچ کا انعقاد کرنا تھا جو پی ایس ایل ٹو کی صورت میں کامیابی سے ہوا جس پر دیگر ممالک کے کرکٹ بورڈز اور آئی سی سی کے سکیورٹی ماہرین نے مثبت رپورٹس دیں جس کے باعث ورلڈ الیون کے دورہ کا عملی طور پر انعقاد ممکن ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون کے حالیہ دورہ کے بعد عالمی ٹیم 2018ءاور 2019ءمیں بھی پاکستان کا دورہ کرے گی۔ حالات بتدریج بہتر ہونے کے ساتھ اُمید ہے کہ دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان آکر کھیلیں گی۔


معاشی استحکام کا ذریعہ
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پی ایس ایل کے پلے آف میچز اور فائنل میچ کا انعقاد ملک کی کمزور معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو گا، جس کے باعث نہ صرف ملک میں پیسہ آئے گا بلکہ سپورٹس ٹورازم کو بھی فروغ ملے گا۔ ان میچز میں اربوں روپے کی سرکولیشن ہو گی جس سے حکومت کو بھی بھاری ریونیو حاصل ہو گا۔ پی ایس ایل فائنل میچ دُنیا کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانے کا باعث بنے گا۔ جس کے ذریعے غیرملکی سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام جائے گا اور وہ یہاں سرمایہ کاری کرنے پر مائل ہوں گے۔ فائنل میچ کے دوران ہوٹلز، سپورٹس، ٹیکسٹائل ویئر اینڈ اسیسریز، ایڈورٹائزنگ، ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کا کام خاص طور پر بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ دیگر کئی شعبے بھی اس سے فیض یاب ہوں گے۔ لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا۔ اس عمل کو سپورٹس ٹورازم کہا جاتا ہے جو نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح کی مثبت سرگرمیاں نہ صرف حکومتوں کا ریونیو بڑھاتی ہیں بلکہ میزبان ملک کی تہذیب وثقافت کو بھی پروموٹ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ اس طرح کے غیرمعمولی ایونٹس شہریوں کی روٹین تبدیل کر کے رکھ دیتے ہےں اور اُن میں جوش و خروش دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ فوڈ آئٹمز شرٹس، کیپ اور دوسری اسیسریز کا بڑے پیمانے پر کاروبار ہوتا ہے۔ ٹکٹوں کی فروخت سے بھی حکومت کو بھاری منافع حاصل ہو گا، دُنیا میںسالانہ بنیادوں پر ایسے ہزاروں ایونٹس منعقد ہوتے ہیں اور ہر ترقی یافتہ ملک کی اوّلین کوشش ہوتی ہے کہ اُن کی میزبانی اُسے ملے تاکہ معاشی بہتری کے ساتھ ساتھ ثقافت کو بھی پروموٹ کیا جاسکے۔ معاشی ترقی وخوشحالی کا راز امن وامان کی بہترین صورتحال میں پنہاں ہے۔


پاکستان سپر لیگ کو مزید بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
آخر میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی خدمت میں پی ایس ایل کی بہترین کے لےے چند تجاویز دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ دراصل ڈرافٹنگ اور کھلاڑیوں کے سلیکشن کے حوالے سے چند تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ اس وقت قریب 600 کھلاڑیوں کا پول ہے جس میں سے فرنچائزز اپنی مرضی کے کھلاڑی منتخب کرتی ہیں، اسی لےے ٹاپ ٹی ٹونٹی پلیئرز کے بجائے فرنچائزز غیرمعروف اور ریٹائرڈ پلیئرز کو منتخب کر لیتی ہیں۔ پی سی بی کو چاہےے کہ اس پول کو محدود کردیں تاکہ پی ایس ایل میں دُنیا کے بہترین کرکٹرز ایکشن میں نظر آئیں۔ کمار سنگاکارا، شین واٹسن، کیون پیٹرسن، کیرن پولارڈ، مصباح الحق، محمد سمیع جیسے ریٹائرڈ پلیئرز کی بجائے اے بی ڈی ویلیئرز، ہاشم آملہ، ڈی کوک، سٹیوسمتھ، گلین میکس ویل جیسے پلیئرز شامل ہوں تو شائقین کی دلچسپی پی ایس ایل میں مزید بڑھ جائے گی۔

نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہنے والے کھلاڑی

پاکستانی سٹارز جنہوں نے پی ایس ایل میچز میں بالکل آﺅٹ آف فارم رہنے کا ریکارڈ قائم کیا، وہ احمد شہزاد، عمر اکمل، شعیب ملک، محمدحفیظ، شاہد آفریدی اور سرفراز احمد ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے آغاز پر ماہرین، مبصرین اور شائقین نے پاکستانی کھلاڑیوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر رکھی تھیں لیکن یہ کھلاڑی اُ ن کی اُمیدوں پر پورا اُترنے میں ناکام رہے۔ پاکستان سپر لیگ میں مسلسل تیسرے سال آخری نمبر پر آنے والی ٹیم لاہور قلندر کو سب سے زیادہ مایوسی عمر اکمل کی جانب سے دیکھنے میں آئی اور کپتان برینڈن مک کلم نے بھی انھیں ایک پیچیدہ کرکٹر قرار دے دیا۔عمر اکمل نے پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں سب سے زیادہ 335 رنز بنائے تھے لیکن اس کے بعد سے ان کی کارکردگی کا گراف مسلسل گرتا ہی چلا گیا۔ گزشتہ برس وہ پی ایس ایل میں ایک نصف سنچری کی مدد سے 164 رنز ہی بنا سکے تھے جبکہ اس بار وہ چھ اننگز میں صرف 64 رنز بنانے میں ہی کامیاب ہوئے، جس کی وجہ سے اُنھیں دیگر میچز سے ڈراپ کردیا گیا۔احمد شہزاد نے پاکستان سپر لیگ کے گزشتہ دو ایڈیشنز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے تسلی بخش کارکردگی دکھائی تھی لیکن اب کے برس نئی ٹیم ملتان سلطانز کی جانب سے کھیلتے ہوئے وہ نو میچوں میں 19.22 کی اوسط سے صرف 173 رنز ہی بنا سکے۔ ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور صرف 38 رہا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ ٹیم پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے پلے آف میں قدم رکھنے والی پہلی ٹیم بنی ۔قابل ذکر بات تو یہ ہے اس اچیومنٹ میں مصباح الحق کی قائدانہ صلاحیتوں کا عمل دخل کافی نمایاں رہا لیکن بحیثیت بیٹسمین ان کی جانب سے شائقین کو کوئی بڑی اننگز دیکھنے کو نہیں ملی۔وہ ہیمسٹرنگ کی تکلیف کے سبب پہلے دو میچ نہیں کھیل سکے تھے جس کے بعد انھوں نے اگلے جن چار میچوں میں بیٹنگ کی اور ان میں وہ مجموعی طور پر صرف 57 رنز بنا پائے۔ ان چار میچوں میں ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور صرف 22 رنز رہا جبکہ تین میچوں میں وہ بیٹنگ کرنے نہیں آئے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ کراچی کنگز کے خلاف آخری میچ میں مصباح الحق کا ہاتھ ٹائمل ملز کی تیز گیند پر زخمی ہو گیا، جس کی وجہ سے انھیں پی ایس ایل سے باہر ہونا پڑا اور کہا جا رہا ہے کہ وہ آئندہ چار ہفتے تک کرکٹ نہیں کھیل پائیں گے۔صہیب مقصود پشاور زلمی سے ملتان سلطانز میں آئے لیکن سوائے 85 رنز کی شاندار اننگز کے جو انھوں نے پشاور زلمی کے خلاف کھیلی ۔پورے ٹورنامنٹ میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور ایونٹ کا اختتام 25.5 کی اوسط سے 204 رنز پر کیا۔عمر امین گزشتہ آٹھ سال سے پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں لیکن تینوں فارمیٹس میں وہ اپنی جگہ مستحکم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔عمرامین پاکستان سپر لیگ تھری میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن سات لیگ میچوں میں وہ مجموعی طور پر صرف 97 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے اور ان کا سب سے زیادہ انفرادی سکور 31 رہا۔


ای پیپر