کُھلے سگریٹ بیچنا منع ہے
26 مارچ 2018 2018-03-26

محمد عرفان چودھری

ہائے رے عشق اچھے خاصے انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے کسی کو چرسی تو کسی کو پاگل کر دیتا ہے کوئی رکشہ چلانے پر مجبور ہو جاتا ہے تو کوئی پان کا رسیا ہو جاتا ہے یہ تو انسان کے انسان سے عشق کی بات ہے مگر درج بالا شعر سے لگتا ہے کہ ایسے ایسے انسان بھی پائے جاتے ہیں جو انسانی عشق میں ناکامی کے بعد نشوں سے عشق کر بیٹھتے ہیں کوئی سگریٹ پر شعر لکھتا ہے تو کوئی پان پر یہ ایک الگ بحث ہے کہ پان کی اہمیت و تاریخ کیا ہے اس وقت اصل موضوع یہ ہے کہ چند دن پہلے پنجاب فوڈ اٹھارٹی کی جانب سے پان میں استعمال ہونے والی چھالیہ پر پابندی کا عندیہ دیا گیا جس سے پان کے رسیا انسانوں میں کھلبلی سی مچ گئی کیونکہ تین سو روپے کلو میں ملنے والی چھالیہ کو ڈالر کی طرح پر لگ گئے فوڈ اٹھارٹی کی جانب سے مراسلہ موصول ہوتے ہی چھالیہ یک دم تین سو روپے فی کلو سے پینتیس سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی جس کے بعد نو سو روپے کلو میں بکنا والا پان کا پتہ پچیس سو روپے کلو تک جا پہنچا جس کے نتیجے میں پان بیچنے والوں نے پان کی قیمت میں ہو شربا اضافہ کر دیا دس روپے میں ملنے والا پان تیس روپے میں ملنے لگا جس کے اثرات پان کھانے والوں پر تو پڑے ہی تھے پان بیچنے والوں کا بھی کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ساری عمر بناء کوئی ہنر سیکھے پان بیچنے والے پنجاب فوڈ اٹھارٹی کی جانب دیکھنے لگے کے اگر اس کاروبار کو بند کر دیا گیا تو ان کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا


’’پان ہوں بدنام ہوں
منہ میں رکھتے ہی مر جائوں گا
مگر مرتے مرتے اے صنم
تیرے ہونٹ رنگ جائوں گا‘‘


قارئین کرام یہ تو ایک شیدے پان شاپ والے کی داستان ہے حقیقت میں ایسے کئی شیدے پان شاپ والے ہیں جو اپنے مستقبل کی فکر میں لگے ہوئے ہیں آل پاکستان سگریٹ پان اینڈ بیوریجزریٹیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق سگریٹ پان کے کاروبار سے تقریباََ سات لاکھ لوگ جُڑے ہوئے ہیں جو کہ آگے مزید تیس لاکھ افراد کے لئے روزگار کا بندوبست کرتے ہیں اس کے علاوہ ملک کو ایک سو پینتیس بلین روپے ٹیکس کی مد میں ملتے ہیں پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ جو کہ پہلے ہی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور بڑے پیمانے پر تمباکو کی فصل کاشت کرنے والا صوبہ ہے اس پر تمباکو پر پابندی کی بدولت مزید بے روزگاری میں اضافہ ہو گا جس سے مزید دہشت گردی پھیلنے کا اندیشہ ہے کیونکہ جب انسان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تو چارو نا چار اسے اپنا پیٹ پالنے کے لئے غلط کاموں کی جانب راغب ہونا پڑتا ہے ۔


اگر دوسری جانب حکومت کے اس اقدام کی تعریف بھی کی جائے کہ انسانی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے احسن قدم اٹھایا ہے تو پھر پان چھالیہ سگریٹ کی طرح سب سے پہلے شراب پر پابندی لگائی جائے جو کہ اُم الخبائث ہے ، ہوٹلوں میں جو کباب کے ساتھ شراب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں ان پر پابندی لگائی جائے مگر کیسے لگائیں کیونکہ یہ سب امیری نشے ہیں جس میں دھت ہو کر قانون بنانے والے غریبوں کو مزید غریب کرنے کا سوچتے ہیں۔ آخر میں ان پالیسی میکروں سے درخواست ہے کہ اگر ان کو انسانی صحت کا اتنا ہی خیال ہے تو ، ملک میں پھیلتی ہوئی فحاشی کی ہوا کو روکا جائے ، ٹی وی چینلز پر بے ہودہ پروگراموں کو بین کیا جائے ، مخلوط نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ سگریٹ پان سے ایک جان کا نقصان ہوتا ہے مگر ان خرافات سے پوری ملت کا نقصان ہوتا ہے اور یہ ایسا نقصان ہے کہ شائد سگریٹ پان سے بندہ بچ جائے ان خرافات سے کئی نسلیں بے راہ روی کا شکار ہو کر تباہ و برباد ہو جاتی ہیں ۔


محمد عرفان چودھری

(ادارے کا بلاگر کی رائے متفق ہونا ضروری نہیں )

ای پیپر