الیکشن کمیشن نے فاروق ستار کو ایم کیو ایم کی سربراہی سے ہٹا دیا 
26 مارچ 2018 (12:15) 2018-03-26

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کنور نوید جمیل اورخالد مقبول صدیقی کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے فاروق ستار کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی کنوینیئر شپ( سربراہی ) سے ہٹا دیا۔ 


الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایم کیو ایم کی کنوینئر شپ کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے فاروق ستار کو متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم )پاکستان کی کنوینیئر شپ سے ہٹا دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریری فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔ فاروق ستار کو ہٹانے کیلئے ایم کیو ایم بہادرآباد کے رہنما کنور نوید جمیل اور خالد مقبول صدیقی نے درخواستیں دائر کی تھیں۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے نتیجے میں ایم کیو ایم بہادرآباد ہی اب ایم کیو ایم پاکستان ہوگی اور فاروق ستار کی سربراہی میں چلنے والی ایم کیو ایم پی آئی بی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی۔


الیکشن کمیشن نے خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل کی درخواستیں منظور کرلیں جبکہ فاروق ستار کی جانب سے کرائے جانے والے انٹرا پارٹی انتخابات کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کی جنرل ورکرز اسمبلی کی قرارداد بھی مسترد کرتے ہوئے فاروق ستار کی الیکشن کمیشن کے اختیار سماعت سے متعلق درخواست بھی مسترد کردی۔اس سے قبل اسلام آباد میں الیکشن کمیشن میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بہادر آباد والوں کا دعوی ہے کہ مجھے رابطہ کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے ہٹایاہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ میرٹ پر آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی تنازع کو نہیں سن سکتا، بہادر آباد کے دوستوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی ہے،آپسی تنازع سے ایم کیو ایم کو نقصان ہوا، مزید بھی ہو گا، ہر موقع پر کہا ہے متوازن رابطہ کمیٹی بنادی جائے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ میری آئینی پوزیشن جو بھی ہے اس میں نہیں الجھنا چاہیے، ایک دوسرے کی پوزیشن کو بے شک نہ مانا جائے، لیکن چیلنج بھی نہ کریں، ہمیں ایک سیاسی اور تنظیمی راستہ نکالنا چاہیے، درمیانہ راستہ یہی ہے کہ میں اور خالد مقبول ایک ایڈہاک کمیٹی بنالیں۔


ای پیپر