file photo

'حکومت خود کچھ کرتی نہیں معاملہ عدلیہ کے گلے میں ڈال دیا جاتا ہے'
26 جون 2020 (14:52) 2020-06-26

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے پوچھا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آخر کر کیا رہی ہے؟ حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ ‏کرنے کی ہمت نہیں، حکومت خود کچھ کرتی نہیں معاملہ عدلیہ کے گلے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‏پاکستان میں ادویہ سازوں کا بہت بڑا مافیا ہے، کیا وفاقی کابینہ نے ادویات کی ‏قیمتوں سے متعلق کوئی فیصلہ کیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملہ کابینہ ‏نہیں ٹاسک فورس کو بھیجا گیا تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے ٹاسک ‏فورس فیصلہ کرنے کے بجائے معاملے پر بیٹھ ہی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ادویہ سازکمپنیاں خام مال خریداری کے نام پر سارا منافع ‏باہر بھیج دیتی ہیں ، حکومت کوئی کام نہیں کر رہی۔

ڈریپ کہتی ہے ‏مُٹھی گرم کرو تو سارا کام ہو جائے گا، حکومت خود فیصلہ کرتی نہیں اور معاملہ ہمارے گلے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میڈیسن کمپنیوں کو قیمت پوری نہ ملے تو دوائی مارکیٹ سے غائب کر دی ‏جاتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ڈریپ بروقت فیصلہ نہ کرے تو مقررہ مدت ‏کے بعد ازخود قیمت بڑھ جاتی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار میڈیسن کمپنی نے آٹھ ‏دوائیوں کی قیمت بڑھائی۔ ڈریپ نے ایکشن لیا تو سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع دے ‏دیا۔ عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔


ای پیپر