آکسفورڈ یونیورسٹی میں راحت فتح علی خان کے اعزاز میں عشائیہ
26 جون 2019 (22:18) 2019-06-26

لندن : آکسفورڈ یونیورسٹی لندن کے چانسلر کی جانب سے  راحت فتح علی خان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ راحت فتح علی خان کا کہنا ہے کہ میں بنیادی طور پر ایک قوال ہوں اور مجھے گلوکار سے زیادہ خود کو قوال کہلوانا زیادہ پسند ہے‘ ڈگری اپنی فیملی، قوال گھرانے اور اپنی ٹیم کے نام کرتا ہوں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے استاد راحت فتح علی خان نے کہا کہ برِصغیر پاک و ہند میں قوالی کا فن تقریبا چھ سو سال پرانا ہے، جو پشت در پشت منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچ رہا ہے، پاکستان میں استاد نصرت فتح علی خان نے فن قوالی کو پوری دنیا میں نئے رنگ اور منفرد انداز سے متعارف کروایا ان کے والد فتح علی خان کی فنی خدمات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

راحت فتح علی خان نے یہ بھی کہا کہ استاد نصرت فتح علی خان کے انتقال کے بعد میں اپنے ملک اور خاندان کا نام پوری دنیا میں روشن کررہا ہوں،اسی وجہ سے مجھے موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی جارہی ہے، میں بنیادی طور پر ایک قوال ہوں اور مجھے گلوکار سے زیادہ خود کو قوال کہلوانا پسند ہے۔

گلوکار نے کہا کہ صوفیانہ کلام میری روح میں بسا ہوا ہے، قوالی ہمارا خاندانی کام ہے اور قوالی کا فن کبھی ماند نہیں پڑا، قوالی ایک مقبول عوامی میوزک ہے، تا قیامت درگاہوں اور درباروں میں قوالی کی محفلیں ہوتی رہیں گی، یہ صدیوں پرانا فن ہے، آئندہ چند برس میں فنِ قوالی کو مزید عروج ملے گا۔ آج کے دور کے گانوں میں جو صوفیانہ رنگ نظر آتا ہے، وہ قوالی کی مرہون منت ہے، جس فلم میں بھی قوالی شامل کی جاتی ہے وہ فلم سپرہٹ ثابت ہوتی ہے، انگریز کو قوالی بہت پسند ہے وہ ہماری ثقافتی موسیقی کو بے انتہا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر ان کے بزنس ڈائریکٹر سلمان احمد بھی موجود تھے۔استاد راحت فتح علی خان نے آکسفورڈ یونیورسٹی لندن کے چانسلر کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر راحت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ انسان اگر سچی لگن اور محنت سے کسی بھی شعبے میں کام کرے تو ایک دن بڑی کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔


ای پیپر