لڑائی عمران خان کے ساتھ نہیں…
26 جون 2019 2019-06-26

موجودہ حکومت کو برسر اقتدار آئے بمشکل 10 ماہ گزرے ہیں… یعنی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اس کی رخصتی کی باتیں چار سو پھیلی ہوئی ہیں… خود عمران خان یا ان کی حکومت کے حامی لوگوں میں سے کئی ایک کو اعتبار نہیں کہ وہ پانچ سال کی آئینی مدت کیا دو برس بھی نکال پائیں گے بھی یا نہیں… نہ صرف قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے بلکہ اپوزیشن کی جماعتوں کی بھاری اکثریت خاص طور پر جنہیں پارلیمنٹ میں زیادہ نمائندگی حاصل ہے، اُن کے یہاں بھی طے شدہ جمہوری و پارلیمانی روایات کے برعکس حکومت کو دستور پاکستان کے تحت جائز مدت کی مہلت دینے کا خیال یا ارادہ نہیں پایا جاتا… زیادہ تر لوگوں کی نگاہیں اس جانب لگی ہوئی ہیں جہاں پاکستانی اقتدار کے فیصلے ہوتے ہیں اور کم و بیش ایسے تمام فیصلے آئین و دستور سے بالا کیے جاتے ہیں … اسی سبب کی بنا پر پاکستانی اقتدار پہلے بھی ڈگمگاتا رہا، اب بھی اگر نزاع کا عالم نہیں سانسیں اکھڑی معلوم ہوتی ہیں… اگر موجودہ وزیراعظم اور ان کے رفقاء یعنی کابینہ کے ارکان اور پنجاب و خیبر پختونخوا کی دو صوبائی حکومتیں جو ان کے براہ راست ماتحت ہیں ، ان سب کی دس ماہ کی کارکردگی پر نگاہ ڈالی جائے تو وہ بھی معیاری نظر نہیں آتی بلکہ بعض دیدہ وروں کی رائے میں اور عامۃ الناس میںسے بھی بھاری تعداد کا خیال ہے کارکردگی ناقص ترین ہے…مایوسی ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے… یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا وطن عزیز کے اندر وہ وقت یا ایسی گھڑی کبھی آئے گی جب لوگوں کو یقین ہو گا کہ جو منتخب حکومت ہماری ہے ، اسے اپنے منشور پر عمل درآمد اور عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی خاطر پورا وقت ملے گا … مدت کے اختتام پر لازماً عام انتخابات ہوں گے اور جو عوام بیلٹ بکس کی طاقت استعمال کرتے ہوئے اسے بر سر اقتدار لائے تھے ، وہی اسے ہٹا دینے یا مزید پانچ برسوں کے لیے مینڈیٹ دینے کا فیصلہ کریں گے… اپنے یہاں تو یہ عالم ہے کہ ایک سویلین حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہو… عوام کے اندر بھی اس کے خلاف کوئی گڑ بڑ یا ہلچل نہ پائی جاتی ہو … مگر وہ جنہیں پاکستان کی سیاسی لغات میں مقتدر حلقے کہا اور سمجھا جاتا ہے… چاہیں تو آن واحد میں ایسی حکومت کو اُڑا کر رکھ دیں دوسری جانب کسی کے پاس معمولی اکثریت ہونا تو دور کی بات ہے وہ مانگے تانگے کی پان سات پارلیمانی نشستوں کے سہارے پر کھڑی ہو، اس کو اس کی روز روشن کی طرح واضح نا اہلیوں اور ناکامیوں کے باوجود کچھ عرصے کے لیے رکھنا منظور خاطر ہو تو اپوزیشن جی بھر کر آل پارٹیز کانفرنسوں کا انعقاد کر دکھائے… اسے گرانا آسان نہیں ہوتا… یہ ہے پاکستان کے نظام ریاست کا گزشتہ 70 برسوں سے چلا آ رہا وہ روگ جو ہماری بہت سی ناکامیوں اور مہلک قومی حادثوں کا باعث بنا…

پاکستان میں روز اول سے لے کر اب تک مختلف وقفوں کے ساتھ درجن بھر عام انتخابات ہوئے ہوں گے… کم و بیش یہی تعداد ہمارے ہم عمر آزاد بھارت کے اندر منعقد ہونے والے چناؤ کی ہے… لیکن ہمارے برعکس وہاں لڑا جانے والا سوائے ایک دو مرتبہ کے ہر انتخابی معرکہ پانچ سال کی طے شدہ آئینی مدت کے اختتام پر ہوا ہے… نریندر مودی کی مثال لے لیجیے 2014ء میں جب یہ پہلی مرتبہ منتخب ہو کر اپنے ملک کے وزیراعظم بنے تو اس وقت بھی ہر کہ و مہ کو یقین تھا کہ اگلا چناؤ 2019ء میں ہو گا… ا لّا یہ کہ درمیان میں لوک سبھا یا پارلیمنٹ کے اندر تحریک عدم اعتماد یا ملتی جلتی کوئی صورت حال جنم لے لے جیسا کہ 1999 ء میں واجپائی کی حکومت کے ساتھ ہوا تھا یا1984ء میں اندرا گاندھی کا قتل ہوا تھا اور اب جو 2019ء میں مودی صاحب اور ان کی بی جے پی دوبارہ کامیاب ہوئے ہیں اور کہیں زیادہ بھاری اکثریت کے ساتھ ہوئے ہیں تو ان کی سب سے بڑی مخالف کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کی جانب سے نہ صرف مبارکباد کی گئی اور انتخابی نتائج کو تسلیم کیا گیا بلکہ کسی بھی جانب شک و شبہ نہیں پایا جاتا کہ وہاں کے عوام کو اگلی مرتبہ یعنی 2023ء میں پورے پانچ سال بعد بیلٹ بکس پر پہنچ کر اپنا فیصلہ صادر کریں گے ،اس سے قبل نہیں… نہ عوام کے علاوہ کسی بھی تیسری یا چوتھی کہلائی جانے والی قوت میں یہ مجال پائی جاتی ہے کہ وہ طے شدہ مدت سے پہلے یا بعد چناؤ کے بارے میں سوچے بھی… بھارت میں آج یا کل نہیں 1952ء سے جب وہاں دستور اساسی نافذ کیا گیا … اس طریق عمل کی شدت کے ساتھ پیروی ہو رہی ہے… پاکستان کی مثال لے لیجیے… یہاں جیسا کہ عرض کیا گیا تقریباً اتنی ہی بار انتخابات ہوئے ہیں، جتنی مرتبہ بھارت کے اندر … مگر اول تو پہلے 13 برس انتخابات ہوئے نہیں … کہا گیا آئین نہیں بن پا رہا تھا… 1956ء میں خدا خدا کر کے اس نام کی پہلی اور عوامی نمائندوں کی تیار کردہ دستاویز نافذ العمل ہوئی تو بڑی ردّو قدح کے بعد طے پایا فروری 1959ء میں پہلے عام انتخابات ہوں گے… مگر یار لوگوں نے اس کی نوبت نہ آنے دی… اکتوبر 1958ء کے مارشل لاء کی کالی آندھی آئین، جمہوریت اور جاری انتخابی تیاریاں، ہر چیز کو اڑا کر لے گئی… اس کے بعد 7 دسمبر 1970ء کو انتخابات کے انعقاد کا پہلا موقع آیا تو یہ کسی آئین کی بجائے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء آرڈر کے تحت ہوئے جو بجائے خود شرمناک بات تھی اور کون نہیں جانتا کس شرمناک انجام کو پہنچی… بقیہ پاکستان کے اندر کوئی چھ سال حکومت کرنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے متفق علیہ آئین کے تحت 1977ء کے انتخابات کرائے… دھاندلی کا بہت بڑا الزام لگا … مارشل لائی قوتوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا… سب کچھ اچک کر لے گئیں… قوم سے وعدہ کیا 90 دن کے اندر چناؤ ہو گا مگر یہ 90 دن پھیلتے پھیلتے آٹھ سال ہضم کر گئے تب 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے جو اب تک مذاق بنے ہوئے ہیں… لوگ حقارت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں… اگست 1988ء میں وقت کے حکمران اعلیٰ کا ہوائی حادثے کی نذر ہو جانے کے بعد اسی برس کے اختتام پر چناؤ ناگزیر ہو گیا…مگر اس کے تحت وجود میں آنے والی حکومت اور اسمبلی بھی اڑھائی یا پونے تین سال تک چل سکی… 1990ء میں پھر انتخابات کرائے گئے… ان کے تحت قائم ہونے والی حکومت کا گلا بھی 1993ء میں عوام کے بجائے کسی اور نے آن دبوچا… اس کے بعد بھی یہی تاریخ دہرائی گئی… اگلا چناؤ فروری 1997ء کو ہوا اور پھر 1999ء میں یوں کہے کہ سب کچھ کرگل کی مہم جوئی کی نذر ہو گیا… اس کے بعد 2002ء ، 2008ء ، 2013ء اور 2018ء کے انتخابات اگرچہ پانچ پانچ سال کی مدت کے بعد ہوئے مگر یکے بعد دیگرے وزرائے اعظم سے حکومتیں چھین لی جاتی رہیں… ظفر اللہ جمالی، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی اور تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے نواز شریف میں سے کسی ایک کو بھی پانچ سالہ اقتدار کا حق نہ دیا گیا… سب کو ذلیل و خوار کر کے ملک کے عوام کی جگہ کسی اور طاقت میں یا اس کے ایما پر اٹھا پھینکا… جدید عہد کی کوئی بھی کامیاب آئینی یا جمہوری ریاست اپنے عوام کے لیے ایسی باعث خجالت مثال پیش کرنے سے قاصر ہے…

آج اس ساری بحث کو اٹھانے کا محرک امریکہ سے آنے والی خبر ہے کہ وہاں 2020ء میں ہونے والے اگلے صدارتی انتخابات کی تیاریاں شروع ہوا چاہتی ہیں…صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالف ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنی تک پانچ سے زیادہ مضبوط صدارتی امیدوار میدان میں لا پھینکے ہیں… وہاں کے انتخابی نظام کے تحت پرائمریوں کا دور شروع ہونے والا ہے… ان میں ڈیموکریٹ کے امیدوار ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی بھرپور کوشش کریں گے… بالآخر جولائی 2020ء کو اس جماعت کا ملک گیر کنونشن منعقد ہو گا … صدر ٹرمپ کو شکست فاش دینے کی خاطر حتمی امیدوار کی نامزدگی کا اعلان کیا جائے گا… دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ بھی جن کا ری پبلکن پارٹی کا امیدوار ہونا تقریباً طے ہے چپ نہیں بیٹھے ہوئے…اسی ہفتے انہوں نے عالمی سطح پر پڑھے جانے والے مشہور امریکی ہفت روزہ ٹائم کے بورڈز آف ایڈیٹرز کو خصوصی انٹرویو دیا ہے اور انہیں وہائٹ ہاؤس میں بلا کر اپنے انتخابی سٹاف کے ممبران سے متعارف کرایا اور ساری دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ اس وقت بھی وہ زیادہ مقبول نہیں، مگر خاموش بیٹھنے والے بھی نہیں… مقابلہ کریں گے اور ڈٹ کر کریں گے… اس سے دو باتیں عیاں ہو جاتی ہیں کہ صدر ٹرمپ کو اگرچہ امریکہ کے فہمیدہ عناصر میں سے کوئی بھی پسند نہیں کرتا … عوام کے اندر بھی مقبولیت کے نچلے تناسب پر ہیں مگر انہیں ہٹانے کا فیصلہ کوئی نادیدہ قوت نہیں عوام کریں گے… جن کی اشیر باد حاصل کرنے کی وہ پوری تیاری کر رہے ہیں… دوسری بات یہ واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ جو اس عہد کی کامیاب جمہوریتوں میں سے ایک ہے اور اسی کے تسلسل کی بنا پر اس نے معاشی اور ریاستی ترقی کے میدان میں دنیا بھر کے دوسرے ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے… اس امریکہ کا آئینی و جمہوری عمل 1779ء میں اس کی برطانیہ سے آزادی کے ساتھ شروع ہو گیا… تب سے اب تک 240برس یعنی ارھائی صدیوں کا عرصہ گزرنے کو ہے … ہر چار برس کے بعد صدارتی انتخابات منعقد ہوتے چلے آ رہے ہیں… ایک دفعہ کا تعطل پیش نہیں آیا… یہاں تک کہ 19ویں صدی کے وسط میں ابراہم لنکن جیسے مقبول اور عزم صمیم رکھنے والے صدر کا قتل ہو گیا… تب امریکہ خانہ جنگی سے گزرا مگر سب کے باوجود کبھی کسی کو رتی برابر شبہ نہ ہوا کہ صدارتی انتخابات چار سال کی طے شدہ مدت کے اختتام پر نہیں ہوں گے یا کوئی نادیدہ قوت ان کی تاریخ کو آگے پیچھے کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکتی ہے… اب جو 2020ء میں اگلے صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں تو ان کے بارے میں شاید سو سال پہلے 1920ء میں بھی ہر ایک کو یقین تھا کہ اسی سال ماہ نومبر کے پہلے منگل کو ہوں گے… اور دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مواخذے (inpeachment)کی بھی تلوار لٹک رہی ہے اور ٹائم کو دیئے جانے والے تازہ ترین انٹرویو میں انہوں نے بڑے یقین اور اعتماد سے کہا ہے کہ impeachmentکے چیلنج کے باوجود وہ 2020ء کے معرکے میں سرخرو ہو کر دکھائیں گے … ایسا ہوتا ہے یا نہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے… وہ وقت جو 1779ء میں مسودۂ آئین تیار کرتے وقت طے کر دیا گیا تھا… اس تمام تناظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لمحۂ موجود کے پاکستان کا اصلی اور بنیادی مسئلہ عمران خان کی ناکامیوں سے بھری حکومت کو اکھاڑ پھینکنے یا اس کے باقی رہنے سے زیادہ اس مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ہے جو آئین مملکت کو پاؤں تلے دبا کر جب چاہتا ہے ایسی کسی حکومت کو لے آتا ہے اور جب اسے منظور خاطر نہ ہو کسی نہ کسی بہانے کی آڑ میں اسے زمین بوس کر کے رکھ دیتا ہے۔ شاید اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے کل کی اے پی سی میں مریم نواز نے کہا ہماری اصل لڑائی عمران خان سے نہیں سلیکٹرز کے ساتھ ہے…


ای پیپر