امیر قطر کا دورہ پاکستان اور قومی سیاست
26 جون 2019 2019-06-26

قطر خلیج عرب کا نہایت اہم ملک ہے۔ جس کی سالانہ فی کس آمدنی دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ یاد رہے کہ قطر کی فی کس آمدنی 124,870 ڈالر سالانہ ہے جبکہ امریکہ کی تقریباً 77000 ڈالر ، امارات54000 ڈالر اور سعودی عرب 22000 ڈالر ہے پاکستان کی فی کس آمدنی 5300 ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں قطر کا نام ہمیشہ منفی خبروں کی وجہ سے مشہور ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب کی سربراہی میں خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک نے قطر کو اپنے اتحاد سے نکال دیا اور اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ علاقائی پابندیوں کے با وجود قطر کی معیشت کی نشونما جو 2017 ء میں 2.2 فیصدتھی وہ پابندیوں کے با وجد 2.6 ہو گئی اور قطر نے سعودی عرب کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت قطر عرب ہمسایہ ممالک کی بجائے ایران اور ترکی سے زیادہ قریب ہو چکا ہے۔ قطر اور پاکستان کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔ یہ پاکستان کی ترقی میں ایک پارٹنر بھی ہے کیونکہ LNG گیس پاکستان قطر سے در آمد کرتا ہے۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی اس ہفتے 2 روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد تشریف لائے یہ دورہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی خصوصاً عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں رسمی یا سرکاری یا سفارتی تعلقات کی بجائے ذاتی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے جس میں بیک چینل ڈپلومیسی کا کردار زیادہ اہم ہے۔ اس لیے عرب سر براہان مملکت پاکستان کے بارے میں براہ راست بیان کم ہی دیتے ہیں مگر ان کے ایکشن ان کے الفاظ کی جگہ خود بول رہے ہوتے ہیں۔ قطری امیر پاکستان آئے تو نہ تو ان کی طرف سے کوئی خطاب کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے میڈیا سے بات کی اور نہ ہی دو روزہ دورے کا کوئی سرکاری مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔

اگر امیر قطر کے اس دورے کا موازنہ سعودی ولی عہد محمد بن سلام یا امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان سے کیا جائے تو یہ ایک Low profile دورہ تھا ۔ قطر چونکہ مڈل ایسٹ میں پاکستان کے دوست ممالک سعودی عرب اور امارات کا حریف بن کر ابھر رہا ہے شاید اس لیے پاکستان میں اس دورے کو وہ کوریج ملی کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ اس دورے کے مقاصد ابھی تک مبہم سے ہیں ایسے لگتا ہے جیسے دانستہ طور پر شکوک و شبہات کی فضاء پیدا کی جا رہی ہے۔ اگر امیر قطر نے پاکستان میں 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ یا سرمایہ کاری کا اعلان کرنا تھا تو یہ خوشخبری ان کے دورے کے دوران ان کی زبان سے یا وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کیوں نہیں سنائی گئی۔ جب امیر قطر واپس چلے گئے تو وہاں جا کر قطری وزیر خارجہ نے عالمی ذرائع ابلاغReuters اور Bloomberg کو یہ خبر دی کہ قطر 3 ارب ڈاکر خرچ کرے گا۔ بلکہ جب امیر قطر واپس چلے گئے تو تجزیہ نگاروں میں چہ میگوئیاں ہو رہیں تھیں کہ اس دورے کا اصل مقصد کیا تھا ۔

اس دوران سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے یہ قیاس آرائی شروع کر دی کہ امیر قطر میاں نواز شریف کی رہائی کی سفارش لے کر آئے تھے۔ اس کو مزید توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جس میں تحریک انصاف کی قیادت بھی شرمندہ شرمندہ نظر آ رہی تھی۔ چکلالہ ایئر پورٹ پر امیر قطر کے استقبال کے لیے وزیر اعظم عمران خان خود آئے تھے اور ان کی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے معزز مہمان کو وزیر اعظم ہائوس لے جایا گیا ۔ مگر جب وہ واپس جا رہے تھے تو وزیر اعظم انہیں چھوڑنے نہیں گئے بلکہ وزارت خارجہ کے پروٹوکول آفسروں نے انہیں خیر باد کہا۔

اسی اثناء میں جب 3 ارب ڈالر کی خبر عالمی سطح پر نشر ہوئی تو پی ٹی آئی سوشل میڈیا بریگیڈ نے کہا کہ یہ رقم میاں نواز شریف سے Recover کی مد میں دی جا رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت خاموش ہے۔ اگر بات سوشل میڈیا تک رہتی تو اسے محض پراپیگنڈا ہی سمجھا جاتا مگر ایک سینئر ترین صحافتی شخصیت ( عارف نظامی ) نے اپنے ٹی وی پروگرام میں یہ نیوز بریک کی دی کہ نواز شریف سے وصولی کے لیے 80 فیصد معاملات طے پا چکے ہیں اور انہوں نے بھی اس کو امیر قطر کے دورہ سے لنک کر دیا ۔

پاکستان میں چونکہ حکومتی اور سفارتی فیصلے خفیہ ہوتے ہیں اس لیے لگ رہا ہے کہ شاید اندر ہی اندر کچھ ہونے جا رہا ہے۔ میاں نواز شریف کی سزا کو بریت میں بدلنا قریب قریب نا ممکن ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ عمر اور صحت کی خرابی کی بناء پر حکومت سے یہ رعایت حاصل کر لیں کہ انہیں علاج کے لیے باہر بھیج دیا جائے۔ اور وہ اندر خانے ان اثاثوں کا کچھ حصہ واپس کر دیں اور سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لیں ویسے بھی جو شخص 3 بار وزیر اعظم بن چکا ہو اس کے لیے عہدوں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ نواز شریف کے پرانے ساتھی سابق سینیٹر سیف الرحمن کو قطر کے شاہی خاندان کے اندر کافی اثرو نفوذ حاصل ہے اور ان حالات میں اس طرح کا سمجھوتہ نا ممکنات میں سے نہیں ہے کیونکہ اس میں نواز شریف کے لیے جیل سے باہر جانے کا ایک با عزت Exit ہے۔

اس وقت نواز شریف فیملی کو اتنا غصہ حکومت یا عدالتوں پر نہیں جتنا انہیں شہباز شریف پر ہے ۔ دونوں بھائیوں کے درمیان سیاسی اختلافات پہلے افواہوں کی حد تک تھے مگر اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کش کر دی جسے اگلے دن مریم نواز شریف نے رد کرتے ہوئے مذاق معیشت قرار دے دیا اور اس کے بارے میں واضح کیا کہ نواز شریف حکومت کے ساتھ میثاق معیشت کے حق میں نہیں ہیں۔ اب ن لیگ والے چاہے جتنی مرضی وضاحتیں کرتے پھریں دو بھائیوں کے درمیان اختلافات کی دراڑیں چھپانا ناممکن نہیں رہا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مریم اور نواز شریف بیرون ملک چلے جائیں گے اور ن لیگ شہباز شریف کی قیادت میں آگے بڑھے گی اور حمزہ اور شہباز شریف سیاست جاری رکھیں گے۔ یہ تاثر وقتی طور پر کام کرے گا مگر پارٹی چل پائے نہیں پائے گی شہباز شریف یا حمزہ کے اندر وہ Charisma یا عوامی مقبولیت نہیں ہے جو نواز شریف اور مریم کے حصے میں آئی ہے جس نے بھی یہ منصوبہ بندی کی ہے بڑی سوچ سمجھ کر کی ہے کہ ن لیگ کو اس طرح کی خاندانی جھگڑے کی شکل دے کر تاریخ کا حصہ بنا دیا جائے۔دوسری طرف شہباز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی پر آنے والی تمام مشکلات کا سبب میاں نواز شریف کی وہ خواہش ہے جس میں وہ مریم نواز کو اپنا سیاسی وارث نامزد کرنا چاہتے ہیں ۔ پارٹی کا سارا زوال شروع ہی یہاں سے ہوا کہ کیونکہ ڈان لیکس سے لے کر اب تک مریم نے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس کی وجہ سے فوج اور عدلیہ ان کے خلاف ہیں۔ مریم کی سخت گیر سیاست کوتحلیل کرنے کے لیے شہباز شریف نے نرم مؤقف اختیار کیا اور بالآخر نرم اور گرم سیاست ایک دووسرے سے الگ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یہ ایک No win situation ہے جس میں دونوں فریق نقصان اٹھائیں گے اور کسی بھی سائیڈ کی جیت نہیں ہو گی۔

(ن) لیگ کی دیگر سینئر قیادت بشمول خواجہ آصف احسن اقبال پرویز رشید وغیرہ اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی فیصلوں میں مشاورت کا عمل ناپید ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ آدھی قیادت نواز شریف کے ساتھ ہے اور باقی آدھی شہباز شریف کے ہم رکاب ہے ایسا کوئی لیڈر نظر نہیں آتا جو نواز شریف اور شہباز شریف دونوں کے درمیان پل کا کام دے سکے یہ مصالحت کروا سکے۔ اس موقع پر چوہدری نثار علی خان اگر پارٹی کا حصہ ہوتے تو شاید معاملات اس نہج تک نہ پہنچتے ۔ ہر عروج کو زوال ہے۔


ای پیپر