ایک زندہ شخص کی رخصتی اور رضا اللہ حیدر کا مرثیہ
26 جون 2019 2019-06-26

سکول کی لائف مجھے ہمیشہ بور کرتی تھی۔ اس کی وجہ محض ریاضی کا مضمون تھا جو مجھے بالکل ناپسند تھا حالانکہ میں اس مضمون میں کبھی فیل بھی نہیں ہو تھا مگر پھر بھی جب ریاضی کی کلاس شروع ہوتی تو میری جان جانے لگتی تھی۔ ایک تو اس مضمون کی ’’خشک سالی‘‘ اور دوسرا حاجی حبیب اللہ مرحوم صاحب کے دو ایٹم نحیف جسم کا سارا لہو خشک کر دیتے اور وہ لہو رگوں میں دوڑنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہتا تھا۔ استاد مکرم حاجی صاحب کی یہ خصوصیت تھی کہ انہوں نے تادم ملازمت ریاضی کا مضمون ہی پڑھایا۔ باقی مضامین یا تو استاد محترم کو آتے نہیں تھے یا پھر ان سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ دوسری بات ان کے ہاں معافی و تلافی کا عمل بالکل ناپید تھا۔ جس کا سوال غلط ہوا۔ اس طالب علم کو مرغا بنا کر دو چھڑیاں ایسی رسید فرماتے کہ شام تک ان چھڑیوں کا اثر باقی رہتا تھا اور اگلے دن پھر سکول جانا ہوتا تھا اور ریاضی کی کلاس بھی لازمی شرط تھی۔ حاجی صاحب صرف دو ہی چھڑیاں لگاتے تھے تیسری چھڑی لگانا گناہ کبیرہ گرانتے تھے اور مرغا بنا کر ہی یہ عمل کرتے تھے۔ اس لیے ان کی اس خاصیت کی وجہ سے ہم منچلوں نے اپنے اس استاد کا نام حاجی ’’دو ایٹم‘‘ رکھ دیا تھا۔ ہماری اس حرکت کا مرحوم و مغفور کو بھی علم تھا۔ وہ جب کبھی چپکے سے کسی طالب علم سے یہ بات سن لیتے تو ہلکا سا تبسم فرما دیا کرتے تھے۔ خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا اور ہم کالج میں داخل ہو گئے۔ جس صبح ہم نے کالج میں وارد ہونا تھا۔ اس شب خوشی میں ذرا بھی نیند نہ ہوئی۔ ستمبر کی وہ شب بھی شاید لمبی تھی یا پھر ہمیں اس وقت تک رات آنکھوں میں کاٹنے کی عادت نہ تھی۔ تین دفعہ یونیفارم استری کی گئی اور چار دفعہ کتابیں، پین اور بیگ چیک کیا گیا کہ کوئی چیز بھول نہ جاؤں۔ بلا آخر وہ مرحلہ آ گیا کہ میں ہم کالج روانہ ہو گئے۔ یونہی میں کالج کے گیٹ میں قدم رکھا تو فرط جذبات میں آ کر مسجد میں داخل ہونے والی دعا پڑھ ڈالی۔ کالج جا کر چند دن تک تو بیگانکی کا احساس دامن گیر رہا مگر جلد ہی پڑھائی معمول پر آ گئی۔ میری دوسری کلاس اردو لازمی کی تھی اور کم و بیش کافی کلاسز اس وقت اردو کی ہی چل رہی ہوتی تھیں۔ ان تمام کلاسز میں ایک کلاس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور طالب علم بڑے انہماک اور شوق سے آخر تک وہ کلاس پڑھتے تھے۔ یہ معمول ایک دن کا نہیں تھا۔ ہر روز ایسا ہی منظر نظریں کشید کرتی تھیں۔ پھر ایک دن ہمارے اردو کے استاد چھٹی پر تھے اور وقت کی نزاکت کو جانتے ہوئے میں نے اس کلاس کا رخ کر لیا۔ جیسے تیسے کلاس میں داخل ہوئے تو ایک خوبرو نوجوان پر نظریں پڑی جو بڑے انہماک و محبت اور عشق میں ڈوب کر پڑھا رہے تھے۔ ہر نقطہ، ہر گتھی اور ہر مشکل جو سوا نیزے سے بھی قریب ہوتی تھی بڑی آسانی سے حل کر رہے تھے۔ یہ خوش شکل، خوش مزاج اور خوش لباس شخص میرے دوست و مربی و استاد ندیم اشرف شیخ تھے جو زمانہ طالب علمی میں جامی بھی تخلص کیا کرتے تھے۔ ندیم صاحب سے یہ تعلق تین دہائیوں پر مشتمل تھا۔ وہ میرے استاد سے لے کر پیارے دوست اور ہم پیشہ و ہم مشرب بھی تھے۔ ندیم صاحب 1987ء سے لے کر 2019ء تک بتیس سال شعبہ اردو سے منسلک رہے۔ وہ اس کالج کو بطور استاد جائن کرنے سے پہلے چار سال اس کالج کے ہونہار طالب علم بھی رہے تھے۔ ندیم صاحب اردو پنجابی کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے نثر نگار اور نقاد سے بھی تھے۔ بزلہ سنجی میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ وہ ہیپاٹائٹس کی شدید تکلیف کے باوجود تادم آخر پر مسرت اور مہر و محبت سے لبریز رہے۔ چھوٹوں سے محبت اور شفقت ان کا خاصہ تھا۔ الفت و ممانست ان کی رگ و پے سے ٹپکتی تھی۔ وہ خود شیخ تھے اور ہمیشہ شیخوں کے لطائف سناتے تھے۔ میں نے ایک بار کہا حضور مجھے بھی شیخ کر لیجیے کہنے لگے اپنا بینک اکاؤنٹ چیک کرواؤ اس میں ایک کروڑ روپیہ ہے کہ آپ شیخ بن سکیں۔ حاضر دماغی ندیم صاحب کی اولین خصوصیات میں سے ایک خوبی تھی۔ وہ ایک اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین دوست اور ساتھی تھے۔ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والا انسان ان کا گرویدہ تھا۔ وہ ایک ہی ملاقات میں آنے والے کو اپنا مرید بنا لیتے تھے… اور ملنے والے اس شخص کارابطہ ہمیشہ شیخ صاحب سے کسی نہ کسی اینگل اور کسی نہ کسی حوالے سے جڑا رہتا۔ بتیس سال کی شبانہ روز محنت سے انہوں نے زندگی کے ہر میدان میں بے شمار قابل اور ہونہار تلامذ پیدا کیے۔ دوسری اہم بات کہ ان کے تمام شاگردوں کا رابطہ کسی نہ کسی طور سے ان کے ساتھ رہا اور عقیدت و احترام کا نیا باب رقم کرتا رہا۔ علم کا یہ سمندر الفت و محبت کا پیکر، مرد آہن، اخوت و بھائی چارے کی خوشبوئیں بکھیرتا ہوا یہ شخص 13 جون کو پہلی بار اس بیماری کے سامنے بے بس ہوا اور اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔ پورے شہر کی فضا سوگوار ہو گئی۔ اس دن تو میں نے شجر ہائے سایہ دار کو بھی مضمحل دیکھا۔ گل و بلبل کو بھی پریشان دیکھا۔ بالآخر ہم اپنے اس عظیم دوست کو رات گیارہ بجے رخصت کر کے گھر آئے تو ریل کی سیٹی میں بھی عجب دکھ تھا اور رات بھی بہت پریشان تھی۔ قارئین اس دکھ کے لمحے میں ندیم صاحب کی یاد میں دور حاضر کے جدید شاعر پروفیسر رضا اللہ حیدر کے مرثیہ نما اشعار ملاحظہ فرمائیے۔بقول رضا اللہ حیدر :

تھا درد مند، درد جگا کر چلا گیا

اِک شخص پھول زخم بنا کر چلا گیا

اُترا تھا اِک خیال سرِ آسمان سے

خوابوں میں اِک جھلک سی دِکھا کر چلا گیا

ارمان تھا کہ چاند کو جی بھر کے دیکھتے

لیکن وہ اَبر و باد میں آ کر چلا گیا

مہتاب تھا وہ تاروں کے جھرمٹ میں جلوہ گر

رنگ رُخ بہار اُڑا کر چلا گیا

اِک اجنبی پرندہ تخیل کی شاخ پر

اِک گیت لطف و پیار کا گا کر چلا گیا

علم و ہنر کے پیاسے ہزاروں نفوس کو

جینے کا رنگ و ڈھنگ سکھا کر چلا گیا

ہونٹوں پہ مسکراہٹیں دِل میں خلوص تھا

ویراں دِلوں میں پھول اُگا کر چلا گیا

صبحیں تھیں شام کام رضا ؔ جس وجود سے

یاروں کو وقتِ شام رُلا کر چلا گیا

اللہ تعالیٰ ندیم اشرف شیخ صاحب کی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔


ای پیپر