من میلے....
26 جون 2019 2019-06-26

اگلے روز درویشوں کے میلے میں چند گھڑیاں گزریں۔ حیرت ہوئی شدید گرمی میں فقیر سے محبت کرنے والے دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے تھے۔ ڈیرہ درویش پر جائیں تو چٹائیوں پر شب وروز گزارنے پڑتے ہیں۔ زمین پر بیٹھنا آسان نہیں ہوتا۔ یہاں کسی کو زندگی کی آسائشوں کا خیال نہیں آتا۔ اورتو اور گھر خاندان عزیز واقارب دنیا داری کسی کا بھی دھیان نہیں رہتا۔ محسن اعظم کی محبت میں کچھ تو ایسا کمال ہے کہ کوئی بھی خیال ”یہاں“ پرنہیں مارتا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اپنی ”لگژری لائف“ اور آسانیوں سے دور انہی چٹائیوں پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ آخرکوئی تو بات ہے کہ یہاں لوگ دوروز تک ”محبت“ کا موسم انجوائے کرتے ہیں۔ مانسہرہ کے قافلے میں کئی درویش تشریف لاتے ہیں۔ سید ہارون شاہ، اجمل شاہ، حاجی ارشد زمان ،عارف فوجی، پیر مظہرشاہ اور حضرت شاہ سمیت پچاس سے زائد ”محبانِ محسن اعظم“ تشریف لاتے ہیں۔ کراچی سے سید تنویر حسین کی سرپرستی میں بھی بذریعہ ریل ایک قافلہ ” میلے “ سے دوچار روز قبل ہی پہنچ جاتا ہے۔ ہری پور سے یہاں سینکڑوں ماننے والے دکھائی دیتے ہیں۔ بابا صادق عرف باجی صادق، راجہ ریاض، جمیل حسین شاہ ، وقار حیدر شاہ ، رفاقت شاہ، اصغر صاحب، فدا حسین، بلال، چن پیر اور کئی دیگر حضرات کا قافلہ بسوں اور ویگن کوسٹر پر آتا ہے۔ بہاول پور ،ڈیرہ نواب، سے سائیں مسکین، مجید خان، طارق لودھی ، غلام نبی اصغر ساہیوال سے ساجد شاہ گروپ پشاور سے سید کمال شاہ ، الطاف شاہ اور بہت سے محبتی لوگ یہاں باقاعدگی سے تشریف لاتے ہیں۔ مشاہدہ کیا کہ یہاں ہرکوئی ایثار ومحبت کا پیکر دکھائی دیتا ہے۔ سبھی ایک دوسرے سے بسم اللہ جی بسم اللہ جی کرتے نظر آتے ہیں جب دھمال کا ڈھول بجتا ہے اور شہنائیاں گونجنے لگتی ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ زمین سے بھی بسم اللہ جی بسم اللہ کی صدائیں آرہی ہیں۔ میلہ من ملنے کا نام ہے ایسے میلوں پر روح سرشار ہوجاتی ہے اور مساوات اور جمہوریت کے حقیقی معانی کھلتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ چٹائیوں پر بیٹھے ہوئے لنگر کھاتے ہوئے” خاموشی “بھی انگشت بدنداں ہوتی ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں تو بڑے بڑے فائیو سٹار ہوٹلوں کے عشائیوں ، بڑی بڑی شادیوں پر یا ولیموں پر جب روٹی کھلتی ہے تو ایسے لگتا ہے کہ کئی ماہ کے ”فاقہ کش“ کھانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ طعام کی بے حرمتی ہوتی ہے چھینا جھپٹی کے مناظر تو سیاسی جلسوں کے آخر میں کھانے کے دوران میں بھی دیکھنے کوملتے ہیں، کھانا وافر مقدار میں ہونے کے باوجود ہم لوگ صبر اور ہوش سے کام نہیں لے سکتے۔

امجدشاہ بتانے لگے کہ ہمارے ایک آفیسر نے بیٹے کے ولیمے پر چند غیرملکی مہمانوں کو بھی مدعو کررکھا تھا جیسے ہی کھانا شروع ہونے کا اعلان ہوا لوگ بھوکوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ غیر ملکی مہمان کھانا تناول کرنے کے بجائے ہماری عوام کی بے صبری کا ”تماشا“ اپنے موبائلوں میں محفوظ کرنے لگے۔ کھانے کی محافل میں ہی انسان کی اصل سے آگاہی ملتی ہے۔ ہمارے ہاں عام زندگی میں اِن محافل میں ”افراتفری“ بدنظمی ہمارا قومی مزاج بنتی جاتی ہے ۔ لیکن خالص اور حقیقی صوفیائے کرام اور درویشوں کی محافل میں کمال کا نظم وضبط دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں آنے والے لوگ بھی اس سماج کا حصہ ہیں۔ لیکن یہاں انصاف اور مساوات پر وہ اس قدر یقین رکھتے ہیں کہ انہیں جہاں بٹھایا جائے بیٹھ جاتے ہیں انہیں مکمل یقین ہوتا ہے کہ سب کچھ یہیں بیٹھے ملے گا اور سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے یہاں مٹن کا سالن چاول نان سویٹ ڈشز پھل فروٹ مٹھائیاں سب کو ایک ہی مقدار میں ملتی ہیں ایسے میں وہ صبر بھی کرتے ہیں اور پھر زمین پر بیٹھ کر کھانے میں امیر غریب ، چھوٹے بڑے کا کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا، کوئی بہت بڑا زمیندار ہے، تاجر ہے افسر ہے یا عام غریب مسکین ایک ہی چٹائی پر بیٹھ کر کھارہے ہوتے ہیں۔ فرمان درویش ہے ” من ملے تو میلہ، گرو ملے تو چیلا، درشن بن رام بھی اکیلا“

یہ تو خیرایک ”اکھان“ ہے۔ بات سے بات یاد آتی ہے بات ملن اور میلے کی ہورہی تھی۔ فی زمانہ معاشرے میں اگر لوگوں کو کسی چیز کی تلاش ہے تو وہ ”سکون“ ہے۔ ہم نے سکون اور راحت، دولت آرام اور تعیش کو سمجھ رکھا ہے۔ حالانکہ کون نہیں جانتا ہے کئی متمول حضرات، ذہنی سکون کے لیے روزانہ مٹھی بھر ”دوائیں“ استعمال کرتے ہیں۔ سکون دولت، شہرت اور اقتدار میں کہاں؟ دولت سے آپ اعلیٰ ترین بستر تو خرید سکتے ہیں مگر نیند نہیں خرید سکتے۔ بڑے بڑے دولت مند اور عیش وآرام کے پجاری بے سکونی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ انہیں طرح طرح کے آلام اور بیماریاں لاحق ہیں۔ اصل میں سب سے بڑی بیماری ”خواہش“ ہے، سکون اور خواہش اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے۔ بالکل ایسے جیسے رات اور دن اکٹھے نہیں ہوسکتے ۔آپ سکون کے آرزومند ہیں تو خواہش سے نجات حاصل کرلیں سکون خود بخود مل جائے گا۔ اپنے آپ کو ”حالات“ کے حوالے کردیں۔ جو کچھ آپ کے ساتھ ہورہا ہے۔ جس حال میں بھی ہیں اس پر ”راضی “ ہوجائیں۔ وہی آپ کے لیے بستر ہے مگر ہم غافل ہیں۔ ہم بظاہر اللہ اور اسی کے رسول کو مانتے ہیں مگر ان کے فرمان پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔

جب آپ حرص ، تعصب، غصہ، کینہ، حسدجیسی بیماریوں کو ساتھ لیے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں تو یہ آپ کی روح کا بوجھ ہیں۔ اِس بوجھ کے ساتھ کام پر جاتے ہیں، یا کہیں بھی نکلتے ہیں تو آپ نہ صرف خود کو بے سکون رکھتے ہیں بلکہ سارے ماحول کو غارت کرتے ہیں دوسروں کو بھی بے سکون کرتے ہیں۔

بات قدرے سنجیدہ ہوگئی ہے میلے پر بابا صادق بتارہے تھے کہ ہمارے علاقے میں ایک شخص کی دکان پر چھاپہ پڑا اسے گرفتار اس لیے کیا گیا کہ وہ گدھوں کا گوشت تیار کررہا تھا۔ جب اسے پوچھا کہ یہ تم کیا کررہے ہو ؟انسانوں کو گدھے کا گوشت کھلا رہے ہو؟ تو وہ بڑے اعتماد سے بولا : نہیں جناب میں تو انسان نما وحشیوں کو ان کے شایان شان گوشت کھلاتا ہوں۔ کچھ رشوت خور انتظامیہ کے لوگ جن میں پولیس اور دیگر محکموں کے لوگ آتے ہیں وہ مجھ سے گوشت کی صورت ”بھتہ“ وصول کرتے تھے، میں مٹن کا کاروبار کرتاہوں، بکرے مہنگے ہیں اور مجھے بکروں کا گوشت ”مفت بروں“ کو دینا مہنگا پڑ رہا تھا۔ سو میں نے اِن راشی بھتہ خوروں کے لیے گدھوں کا گوشت ہی بہتر سمجھا۔“

ہم سب کھانے پینے میں مگن ہیں اشیا کے معنی جانے بغیر کہ ہم کیا کھارہے ہیں۔ نام کے مسلمان ہیں۔ لوٹنے والے اسمبلیوں میں بیٹھ کر نئے بجٹ کو غریب کش بجٹ کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ موجودہ بجٹ سخت ہے تو اس سطح پر قوم کو سابق حکومتوں نے پہنچایا ہے۔ حکومت ٹیکس اکٹھا ضرور کرے مگر پہلے مجرموں سے لوٹی ہوئی دولت بھی واپس لے۔ جس کا فیصلہ عدالتیں کرچکی ہیں۔


ای پیپر