جنگل کا قانون ہے کیا؟  
26 جون 2019 2019-06-26

یہ ڈاکٹر سلمیٰ امبرکی کہانی ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں شعبہ صحافت کی بانی رکن ہیں اور اس سے قبل طویل عرصہ تک پروفیشنل جرنلسٹ کے طور پر قومی اخبارات میں ذمہ داریاں سرانجام دیتی رہیں، یہ کہانی بہت سارے سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔ پہلا سوال ہے کہ کیا ہماری جامعات میں تحقیق کا معیار ہمیشہ تھرڈ کلاس ہی رہے گا ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے نقل، دھونس اور دھاندلی کی بنیاد پر اعلیٰ ترین ڈگریاںہتھیاتے رہیں گے۔ دوسرا سوال ہے کہ کیا کسی بھی ادارے میں کوئی بھی ’ طالب علم‘ سر عام کسی’ اُستاد‘ کو دھمکائے گا، اسے واٹس ایپ گروپس میں گالیاں دے گا، یونیورسٹی کی حدود کے اندر ہراساں کرے گا اوراس کے بعد یونیورسٹی کا وائس چانسلراخلاقی اور معاشرتی اقدار، تحقیق کے معیار اور استاد کے احترام کو تحفظ دینے کے بجائے استاد کو ہی سزا دے گا کیونکہ وہ ایک خاتون ہے اوراسے آسانی سے عبرت کی مثال بنایا جا سکتا ہے ۔ تیسرا سوال ہے کہ کیا وزیراعظم کا سٹیزن پورٹل سرکاری افسران سے غیر قانونی مگر من پسند کام کروانے کے لئے استعمال ہو گا، وزیراعظم کریڈٹ لیتے ہیں کہ دس لاکھ افراد نے وہاں خود کو رجسٹرڈ کروایا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ وقت گزرنے کے بعد ثابت ہو کہ یہ پورٹل روایتی درخواست مافیااور بلیک میلروں کا ہتھیار بن گیا تھا۔

قصہ یہ ہے کہ ایک پچاس برس سے بھی زائد عمر کا شخص اپنے آپ کو جی سی یو فیصل آباد میں ایم فل کے لئے اِن رول کرواتا ہے مگر اس کا کام اتنا ناقص اور غیر معیاری ہوتا ہے کہ ایکسٹرنل چیکر بھی اسے کوئی اچھا گریڈ دینے سے انکار کر دیتا ہے ، وہ شخص سمجھتا ہے کہ دباو¿ کے ذریعے من پسند نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے لہٰذا وہ دھمکانا شروع کر دیتا ہے جس کے باقاعدہ سکرین شاٹس اور ویڈیو کلپس موجود ہیں۔ ڈاکٹرسلمیٰ امبر یونیورسٹی انتظامیہ کو آگاہ کرتی ہیں اور خیال کرتی ہیں کہ ادارہ انہیں عزت اور تحفظ دے گا مگر وہ حیران رہ جاتی ہیں کہ دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کے بجائے انتظامیہ انہی کے خلاف ڈسپلنری کمیٹی کو متحرک کر دیتی ہے کیونکہ وہ شخص ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پرائم منسٹر کے سٹیزن پورٹل میں لغو اور بے بنیاد مواد بھر دیتا ہے ۔ ڈاکٹر سلمیٰ امبرچیئرمین ہائیرایجوکیشن کمیشن کے دفتر رابطہ کرتی ہیںاوراس ناانصافی بارے بتاتی ہیں جو یونیورسٹی کو کسی جنگل کے قانون کے تحت چلانے والی انتظامیہ کو مزیدغصہ دلا دیتی ہے اورفیصلہ ہوتا ہے کہ ایک بدمعاش شخص کے بجائے خاتون استاد کو سزا دی جائے اور انہیں کوارڈی نیٹر شپ سے ہٹا دیا جاتا ہے ۔ اس فیصلے کی بنیاد مبینہ طور پریونیورسٹی کی سیاست بھی ہوتی ہے جس میں ڈاکٹر سلمیٰ امبر یونیورسٹی میں کرپشن کرنے والے مافیا کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں اور ان لوگوں کی حمایت کرتی ہیں جو کہتے ہیں کہ کروڑوں روپوں مالیت کی بدعنوانی پر مشتمل آڈٹ پیراز میں نامزد لوگوں کو تعلیمی اداروں میں اہم عہدے نہیں دینے چاہئیں کہ اس کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کی بہتر تربیت نہیں کر سکیں گے ۔جب وہ دیکھیں گے کہ کرپٹ افراد یونیورسٹیوں تک میں عزت اور عہدے لے جاتے ہیں تو پھر وہ بھی محنت اور ایمانداری کو جوتے کی نوک پر رکھیں گے۔

ماہرین جانتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں ’ سٹیٹ آف افئیرز ‘ کو جانچنے کے لئے میکرو اور مائیکرو لیول کی دو مختلف اپروچز استعمال کی جاتی ہیں ، میکرو اپروچ یعنی آپ بڑے پیمانے پر معاملا ت کو دیکھیں جو یہ ہیں کہ موجودہ حکومت کے قائم ہونے کے بعد اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کا مستقبل مخدوش نظر ا ٓرہا ہے کیونکہ ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ آدھا اور انڈوومنٹ فنڈ کے لئے مختص ہونے والی رقم کو ایک تہائی سے بھی کم کر دیا گیا ہے ۔ ہمارے پروفیسرز کہتے ہیں کہ وہ نئے بجٹ کے بعدجو تنخواہ مبینہ پانچ فیصد اضافے کے ساتھ وصول کریں گے وہ گزشتہ ماہ کی تنخواہ سے کم ہو گی اور بعض صورتوں میں یہ کمی ہزاروں روپوں میں بھی ہوسکتی ہے ۔ حکومت کہتی ہے کہ خزانہ خالی ہے جس کی وجہ سے بجٹ کم ہوئے ہیں مگر دوسری طرف مائیکرو اپروچ‘ ہے کہ کن کن اداروں میں ایڈہاک پوسٹنگز ہیں اور پھر اپنے عارضی عہدوں کو تحفظ دینے کے لئے کس طرح افراد دھڑے بندی اور کرپشن کو حکمت عملی کے طور پر اختیار کرتے ہیں ۔ فیصل آباد کالج یونیورسٹی میں کس طرح کرپشن ہو رہی ہے اس بارے خبریں موجود ہیں کہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ عارضی عہدوں پر قابض وائس چانسلروں اور ڈینز نے اختلاف رکھنے والوں کو عبرت کا نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے جس کی واضح مثال اس پروفیشنل جرنلسٹ کی داستان ہے جس نے برس ہا برس کی محنت کے بعد پاکستان کے مانچسٹر کی یونیورسٹی میں ماس کام کے شعبے کو اتنی ترقی دی کہ وہاں ایم فل کی کلاسز شروع ہو گئیں۔

وہ پیغامات کیا ستم ظریفی ہیں جن کے میں نے سکرین شاٹس دیکھے ہیں کہ ایک ’ طالب علم‘ کہہ رہا ہے کہ جس نے اس ’ چچڑک‘ کا تماشا دیکھنا ہے وہ ڈین آفس تشریف لائے اور یہ کہ آج وہ اس کے ہاتھوں آفیشئلی بے عزت ہو گی، یہاں کچھ باتیں ایسی ہیں کہ میں نقل بھی نہیں کرنا چاہتا مگر سوال ضرور کرنا چاہتا ہوں کہ کیاوائس چانسلر اور ڈین آفس ایک نام نہاد طالب علم کے ہاتھوں میں اس طرح کھیل رہا تھا کہ وہ پُرا عتماد تھا کہ وہ خاتون کو واٹس ایپ گروپوںیونیورسٹی کے کوریڈوز کے علاوہ ڈینز کمیٹی میں بھی تماشا بنا سکتا ہے ۔ وہ واضح پیغامات اور دعوت نامے جاری کر رہا تھا اور وہ اپنے دعوے میں درست نکلا کیونکہ اس نے خود کو اے گریڈ نہ دینے پر ہیڈ آف ڈپیارٹمنٹ کے عہدے سے ہٹواتے ہوئے عبرت کا نشان بنا دیا لہٰذا اب فیصل آباد یونیورسٹی میں تحقیق کا معیار یہی ہو گا کہ ہر بدمعاش وہاں سے ڈاکٹریٹ کی اے کلاس ڈگری لے کر نکلے گا کیونکہ اس کے پاس ایڈہاک انتظامیہ کو بلیک میل کرنے اور وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل کو منفی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا ہنر ہو گا ۔ڈاکٹر سلمیٰ امبر کو اس معاملے میں ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا ، انہیں پیر کے روزبطور ہیڈا ٓف ڈپیارٹمنٹ بحال کر دیا گیا مگرایڈہاک ازم کا شکار یونیورسٹی میں سازش اور ناانصافی کی لکھی جانے و الی اس تاریخ نے اس کی عزت اور معیار کو خاک میں ملا دیا۔

میں نے یہ سارا معاملہ انتہائی حیرت سے سنا، واٹس ایپ گروپ کے میسیجز شرمندگی کے ساتھ پڑھے، مختلف آڈٹ رپورٹس کو غور سے دیکھا اور فیصل آباد یونیورسٹی کے معاملات کا تجزیہ کیا، سوچا، کیا وہاں جنگل کا قانون ہے تو پھر خیال آیا کہ جنگل میں کچھ قانون اور کچھ ضابطے ہوتے ہیں، وہاں بھی جانوروں میں کچھ درجہ بندی ہوتی ہے مگر وہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ نئے پاکستان میں ان روایات کا فروغ تشویش کی بات ہے ۔ 


ای پیپر