برطانوی اخبار کیخلاف شہباز شریف کا قانونی نوٹس
26 جولائی 2019 (18:45) 2019-07-26

لندن : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے برطانوی اخبارکے جھوٹے الزامات پر جوابی قانونی کاروائی کرتے ہوئے برطانوی اخبار کو قانونی کاروائی کا نوٹس بھیج دیا ،شہبازشریف کے لندن میں وکلا نے قانونی کاروائی کا نوٹس تیار کیاتھا۔

نوٹس برطانوی اخبار ‘‘ڈیلی میل’’ اور اس کے آن لائن ایڈیشن میں اپنے متعلق شائع ہونے والی من گھڑت خبروں پر بھجوایا ،لیگل نوٹس میں اخبار کے رپورٹر ڈیوڈ روز کو بھی فریق بنایا گیا ہے، قانونی نوٹس 14 جولائی 2019 کو شائع ہونے والی خبر پر بھجوایاگیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈیوڈ روز کی خبر جھوٹے الزامات پر مبنی ہے،2005 کے زلزلے کے بعد بحالی کے منصوبوں میں ڈیفیڈ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے برطانوی ٹیکس دھند گان کا پیسہ نا جائز طور پر استعمال کرنے کا الزام بے بنیاد اور سراسر جھوٹ ہے، شہباز شریف ایسے بے بنیاد الزامات کی واضح اور سختی کے ساتھ تردید کرتے ہیں۔

اگر ان میں سے میرے خلاف کسی بھی الزام میں کوئی صداقت ہوتی یا کوئی ثبوت ہوتا تو فرد جرم لگا کر مجھے گرفتار کیا جانا چاہیے تھا۔ قانونی نوٹس میں موقف اختیا کیا گیا ہے کہ خبر صرف اور صرف ان کی اور ان کے خاندان کی سیاسی ساکھ اور کردار کو مسخ کرنے کے لیے گھڑی گئی جس کے پس منظر میں پاکستان کی موجودہ حکمران قیادت ہے بقول برطانوی صحافی اسے اعلی سطح پر حساس ترین دستاویزات تک رسائی دی۔

  برطانوی صحافی کو پاکستانی جیلوں میں قیدیوں تک سے بھی ملوایا گیا۔شہبازشریف نے قانونی نوٹس میں موقف اختیار کیا ہے کہ صحافی نے خبر شائع کرنے سے قبل موقف معلوم کرنے کی زحمت بھی نہیں کی، ورنہ بتادیتا کہ جس دور سے متعلق ذکر کیاگیا وہ برطانیہ میں جلا وطنی میں تھے،میری ذاتی ساکھ، شہرت اور پیشہ وارانہ کردار سب سے بڑھ کر ہے،اسے بچانے کے لیے ہر حد تک جاوں گا،انگلینڈ اور ویلز کی عدالتوں کے ذریعے سنگین اور بد ترین الزامات لگانے والوں کو قانونی انجام کا سامنا کرنا ہوگا۔


ای پیپر