الیکشن 2018کے نتائج ۔۔۔مکمل تفصیلی خبر۔۔۔تحریک انصاف کی جیت یقینی

26 جولائی 2018 (01:50)

لاہور :عام انتخابات 2018 میں غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف پہلے اور مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر ہے، تاہم (ن) لیگ نے انتخابی نتائج مسترد کردیے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی، ایم ایم اے، ایم کیو ایم سمیت تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی شفافیت پر تحفظات و خدشات کا اظہار کیا ہے۔

رات گئے تک  نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 102 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ن) 51 سیٹوں کے ساتھ دوسرے، پیپلز پارٹی 33 نشستوں کے ساتھ تیسرے اور متحدہ مجلس عمل 8 سیٹوں پر برتری کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ آزاد امیدواروں کو 20 نشستیں حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ 100 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں ہیں اس لیے ان میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔


ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج آنے شروع ہوگئے ہیں۔ ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 270 جب کہ چاروں صوبوں کی 570 نشستوں پر پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 6 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ انتخابی عمل میں تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے سمیت کل 122 سیاسی و مذہبی جماعتوں نے حصہ لیا۔

قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے 12 ہزار 570 امیدوار میدان میں ہیں۔ قومی کی 2 اور صوبائی اسمبلیوں کی 6 نشستوں پر مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔

ملک بھر میں 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 92 لاکھ 24 ہزار 263 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار 146 ہے، حق رائے دہی کے لیے ملک بھر میں 85 ہزار 252 پولنگ اسٹیشنز جب کہ 2 لاکھ 41 ہزار 132 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے۔ جس میں سے 17 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قراردیا گیاتھا۔

الیکشن 2018والے دن کیا کچھ ہوتا رہا مکمل تفصیلات نیچے دی گئی ابتدائی تفصیلی جائزہ ملاحظہ فرمائیں


مسلم لیگ ن کے انتخابی نتائج مسترد کر دئیے

لاہور :مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگا یا کہ پورے ملک میں دھاندلی کے الزامات کی شکایات ملی ہیں لہذا ہم الیکشن 2018کے نتائج کو مسترد کر تے ہیں ۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہ ہم نے پاکستان کا مفاد سامنے رکھتے ہوئے تحمل سے کام لیا۔ان کا کہنا تھا کہ پولنگ بعد کی صورت حال اپنے سیاسی کریئر میں نہیں دیکھی، ووٹرز کی توہین ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جو کیا گیا وہ 30 سالوں میں کبھی نہیں ہوا، لاہور سے میرا، ایاز صادق کا ووٹ روک لیا گیا۔

ملک بھر سے شکایات ملی ہیں کہ انہیں فارم 45نہیں دیا گیا ،اپنے سیاسی کیرئیر میں اتنی خوفناک صورتحال نہیں دیکھی الیکشن کمیشن مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ،پاکستان کے جمہوری تسلسل کو ایک بہت بڑا جھٹکا لگا ہے ،شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن 2018کے نتائج مسترد کر تے ہیں ،پولنگ کا وقت بھی بڑھانے کی درخواست کی گئی لیکن ہماری ایک نہیں سنی گئی ۔


ووٹ کو عز ت ملی تو شہباز شریف کی چیخیں نکل گئیں :شیخ رشید
راولپنڈی:شیخ رشید نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ووٹ کو عزت ملی ہے تو شہباز شریف کی چیخیں نکل گئیں ہیں،آج پاکستان جیت چکا ہے ۔

عوامی مسلم لیگ کے کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ میں سرمایہ داروں کا سپورٹر نہیں ہو ں میں غریب لوگوں کا ترجمان ہوں ،میری زندگی کا ایک ہی مقصد کرپشن والوں کو باہر نکالوں ،میں اقتدار کا بھوکا نہیں ہو ں ۔


چیف جسٹس کا شکریہ اداکرتا ہوں ، میری جیت مزدوروں اور ڈرائیوروں کی جیت ہے ،آرمی چیف کا شکریہ کہ ان کی وجہ سے بھی الیکشن ممکن ہوا ۔

شیخ رشید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کل پاکستان میں ایک نیا سور ج طلوع ہو گا ،انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کا ایک ہی نعرہ ہے” مضبوط پاکستان،محفوظ پاکستان ،غریب کا پاکستان“ ۔

شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ تمہارا اور شاہد خاقان عباسی کا اب اڈیالہ جیل انتظا ر کر ہی ہے ۔انہوں نے کہا اب ہم تمام جماعتوں کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں ،لال حویلی تمام سیاسی جماعتوں کا ہیڈ کواٹر ہے ،ہم تما م جماعتوں کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔آخر میں انہوں نے عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ اداکیا جنہوں شیخ رشید کو سپورٹ کیا ۔

بند کمروں میں دھاندلی کی جا رہی ہے ،مریم اورنگزیب
اسلام آباد :مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں میں نتائج کو تبدیل کیا جا رہا ہے ۔

مریم اورنگزیب نے مصدق ملک کیساتھ میڈیا سے بات کر تے ہوئے انکشاف کیا کہ متعد د پولنگ بوتھوں پر ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو کمروں سے باہر نکال دیا گیا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فارم 45بھی مہیا نہیں کیا جار ہا جس پر تمام پولنگ ایجنٹوں کے سائن موجود ہوتے ہیں ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگز یب نے کہا ہے کہ ہمیں الیکشن پر شدید خدشات ہیں جن کے مطابق ایاز صادق ، رانا ثنااللہ اور پرویز ملک ، دانیال چوہدری اور دانیال چوہدری کے حلقوں، کچھ اور دیگر پولنگ اسٹیشنز سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیاگیا ہے اور بند کمروں میں رزلٹ تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فارم 45نہیں دیا جارہا اور رزلٹ روک لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا جو بھی اس وقت ہو رہا ہے اس کا جواب ان سب لوگوں کودینا ہوگا۔

ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو کیوں باہر نکالا گیا ہے ،مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان سوالوں کا جواب چاہیے اب تک ہم نے کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں کیا ،ہمارے سوالوں کا اگر جواب ہمیں نہ دیا گیا تو اس کے نتائج کا ذمہ دار الیکشن کمیشن خود ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ پولنگ ایجنٹ کا آئینی قانونی حق ہوتا ہے کہ جب رزلٹ بن رہے ہوں وہ پولنگ اسٹیشن کے اندر بیٹھے لیکن مختلف پولنگ اسٹیشنز سے ہمارے کارکنوں کو نکالا گیا ہے اور فارم 45 بھی نہیں دیا جارہا۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سر زمین پارٹی نے بھی پولنگ عملے کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کا الیکشن 2018میں دھاندلی کا الزام

کراچی : الیکشن 2018میں جہاں نتائج آخری مراحل میں ہیں وہیں دیگر سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگا دیا ہے ۔

رہنما پیپلز پارٹی رضا ربانی اور شیری رحمان نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت شفاف انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔رضا ربانی نے کہا کہ لیاری میں بھی پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹ کو باہر نکالا جارہا ہے، پولنگ ختم ہونے کے بعد سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نکالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرعوامی آراءکو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو سنگین نتائج ہوں گے۔

شیری رحمان نے کہا کہ پورے انتخابات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، ہمارے پاس 250 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، لیاری میں بلاول بھٹو کے چیف پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک تنظیم کے علاوہ تمام جماعتوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے حامیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، خواتین کے پولنگ اسٹیشنز سے زیادہ شکایات آئیں۔شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، لاڑکانہ سے لیکر لیاری تک ہمیں نتائج نہیں دیے جارہے۔

پیپلزپارٹی کے مرکزی الیکشن سیل کے سربراہ سینٹر تاج حیدر نے الیکشن 2018میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ این اے 248 اور پی ایس 112 کے نتائج پیپلزپارٹی کو نہیں دئیے جارہے،ان کا کہنا تھا شہر کراچی کے متعد د حلقوں میں ہمارے نتائج کو روکا جا رہاہے ،تاج حیدر کے مطابق یوسی ماڑی پور، لال بکر، گابوپٹ، ونچ اور نیول کالونی کے پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں دئیے جارہے، الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ فارم 45اور 46نہ دینادھانلدی ہے ،اب الیکشن کمیشن کوچاہیے جو انتخابات سے قبل بہت نوٹس لے رہا تھا اب ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بھی نوٹس لے ۔ نتائج روکنا، پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ کے وقت باہر نکالنا کھلی دھاندلی ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے حافظ نعیم نے کہا کہ فارم 45نہ دینا دھاندلی کے مترادف ہے ، نتائج حاصل کرنا پولنگ ایجنٹ کا حق ہو تا ہے ، الیکشن کمیشن کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے ،ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کو سلیکشن نہیں بنا نا چاہئے ،میڈیا کو پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے کی اجازت دینی چاہیے تھی ۔

متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے بھی پولنگ عملے کی جانب سے نتائج روکنے کا الزام عائد کردیا۔متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ نعیم اور شبیر حسن میثمی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پریزائڈنگ افسران پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 نہیں دےرہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پولنگ ایجنٹوں نے بات کی تو انہیں پولنگ اسٹیشنز سےنکال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں گنتی مکمل ہوگئی وہاں بھی نتائج نہیں دیے جارہے، فارم 45 نہ دینے نے الیکشن پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن پنجاب نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے فارم 14 فراہم نہ کیے جانے کے الزامات کو مسترد کردیا۔ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب کی جانب سے لگائے الزامات حقیقت کے برعکس ہیں، پولنگ اسٹیشن سے پولنگ ایجنٹس کے نکالے جانے کی کوئی شکایات موصول نہیں ہوئیں۔

دوسری طرف تحریک لبیک پاکستان نے کارکنوں کو نتائج نہ ملنے تک پولنگ اسٹیشنوں کے باہر دھرنا دینے کی کال دے دی۔پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل، متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے بھی انتخابات پر اعتراض لگا دیئے ہیں۔

تحریک لبیک نے کارکنوں کو دھرنے دینے کی کال دے دی ہے اور ترجمان تحریک لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو مرکز سے دو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق پہلی ہدایت کارکنوں کو پولنگ اسٹیشنز کے باہر پہنچنے اوردوسری نتائج نہ ملنے پر دھرنا دینے کا کہا گیا ہے۔

کراچی سے ایم کیوایم کے مرکزی رہنمافیصل سبزواری نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کو جیتنے سے روکنے کیلئے پری پول دھاندلی کی گئی۔ کئی پولنگ اسٹیشنز سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کونکال دیا گیا اور اب ہم کو تصدیق شدہ رزلٹ نہیں دیا جارہا۔ اگر ہم کو زرلٹ نہ دیا گیا تو ہم ہر پولنگ اسٹیشن اور انتخابی دفتر کے باہر مظاہرے اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کردیں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پر یس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل سبز وار ی نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں میں پری پول دھاندلی کے باوجود ایم کیو ایم کا ورکر بڑی تعداد میں باہر نکلا ہے اور اب ہم کو تصدیق شدہ رزلٹ نہیں دیا جارہا۔
خیال رہے کہ ن لیگ، ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی، پیپلز پارٹی، تحریک لبیک پاکستان ودیگر جماعتوں نے پولنگ عملے کے رویے کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔


الیکشن 2018کے نتائج موصول ۔۔۔غیر حتمی غیر سرکاری نتائج


شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی کو پہلی بڑی کامیابی دیدی
قومی اسمبلی کے پہلے مکمل غیر سرکاری نتیجے کے مطابق این اے 156 ملتان سے تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے 93 ہزار 500 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کرلی جب کہ (ن) لیگ کے عامر سعید انصاری 74 ہزار 624 ووٹ حاصل کرسکے۔

پنجاب کو ن فتح کریگا ؟پی ٹی آئی یا مسلم لیگ ن ؟صورتحال واضح ہونی شروع
آخری اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کو پنجاب اسمبلی کی 59، مسلم لیگ (ن) کو 45 اور 16 نشستوں پر آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے جب کہ پیپلز پارٹی کو 2 اور متحدہ مجلس عمل کو ایک نشست پر برتری حاصل ہے۔

عمران خان بمقابلہ شاہد خاقان عباسی
عام انتخابات 2018 کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 اسلام آباد میں عمران خان 202 ووٹ لے کر سب سے آگے ہیں اور شاہد خاقان عباسی دوسرے نمبر پر ہیں۔

بلاول بھٹو کے پہلے سیاسی امتحان کا رزلٹ آنا شروع
این اے 200 لاڑکانہ میں بلاول بھٹو زرداری پہلے نمبر پر ہیں جب کہ این اے 206 میں خورشید شاہ 844 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں۔

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور ن لیگ نے کتنی کتنی سیٹیں لے لیں؟حیران کن نتائج سامنے آنے لگے
ملک بھر میں عام انتخابات کے نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور غیرسرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو 75 اور مسلم لیگ (ن) کو 51 پر برتری حاصل ہے۔غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی 75 نشستوں پر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے جب کہ (ن) لیگ کو 51 اور پیپلز پارٹی کو 27 نشستوں پر اب تک کی اطلاعات کے مطابق سبقت حاصل ہے۔


قومی اسمبلی کی نشستوں پر اب تک کی اطلاعات کے مطابق 23 نشستوں پر آزاد امیدواروں اور 11 نشستوں پر متحدہ مجلس عمل برتری حاصل ہے۔اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو 5، جی ڈی اے 8، بی این پی 5، مسلم لیگ (ق) کو 3 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

احسن اقبال یا ابرارالحق ؟کس کو برتری حاصل ؟
این اے 78 ناروال میں احسن اقبال 20 ہزار کے ساتھ پہلے اور پی ٹی ا?ئی کے ابرار الحق 9 ہزار ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج ،چوہدری نثار کو بڑا جھٹکا
این اے 63 راول پنڈی میں چوہدری نثار 17 سو ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار غلام سرور خان ساڑھے تین ہزار ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں۔

ابتدائی تفصیلات
پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد انتخابی نتائج موصول ہونا شروع ہوگئے اور پہلے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق خیبرپختونخوا کے صوبائی حلقے پی کے 20 بونیر سے پی ٹی آئی کے ریاض خان 220 ووٹ لیکر آگے اور آزاد امیدار بخت جہاں خان 164 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 206 سکھر ون کے 257 میں سے 2 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ 627 ووٹ کے ساتھ آگے اور تحریک انصاف کے طاہر حسین شاہ کا 40 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 208 خیرپورون کے 295 پولنگ اسٹیشنز میں سے ایک کا غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا جس کے مطابق پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ 438 ووٹ کے ساتھ آگے اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے غوث علی شاہ 67 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

قومی اسمبلی کے 272 میں سے 270 حلقوں اور صوبائی اسمبلیوں کے 577 میں سے 570 حلقوں کے لیے ملک بھر سے 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 رجسٹرڈ ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جانا تھا۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 8 حلقوں پر انتخابات ملتوی کیے گئے جہاں الیکشن اب بعد میں ہوں گے، جن حلقوں میں آج انتخابات نہیں ہوئے، ان میں قومی اسمبلی کے دو حلقے این اے 60 راولپنڈی اور این اے 103 فیصل آباد شامل ہیں۔

صوبائی اسمبلیوں کے حلقے پی کے 78 پشاور، پی کے 99 ڈیرہ اسماعیل خان، پی پی 87 میانوالی، پی پی 103 فیصل آباد، پی ایس 87 ملیر اور پی بی 35 مستونگ پر انتخابات اب بعد میں ہوں گے۔

اس کے علاوہ سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 6 کشمور سے میر شبیر بجارانی الیکشن سے قبل ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

مزیدخبریں