Source : Yahoo

ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کا الیکشن 2018میں دھاندلی کا الزام
26 جولائی 2018 (00:04) 2018-07-26

کراچی : الیکشن 2018میں جہاں نتائج آخری مراحل میں ہیں وہیں دیگر سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگا دیا ہے ۔

رہنما پیپلز پارٹی رضا ربانی اور شیری رحمان نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت شفاف انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔رضا ربانی نے کہا کہ لیاری میں بھی پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹ کو باہر نکالا جارہا ہے، پولنگ ختم ہونے کے بعد سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نکالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرعوامی آراءکو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو سنگین نتائج ہوں گے۔

شیری رحمان نے کہا کہ پورے انتخابات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، ہمارے پاس 250 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، لیاری میں بلاول بھٹو کے چیف پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک تنظیم کے علاوہ تمام جماعتوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے حامیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، خواتین کے پولنگ اسٹیشنز سے زیادہ شکایات آئیں۔شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، لاڑکانہ سے لیکر لیاری تک ہمیں نتائج نہیں دیے جارہے۔

پیپلزپارٹی کے مرکزی الیکشن سیل کے سربراہ سینٹر تاج حیدر نے الیکشن 2018میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ این اے 248 اور پی ایس 112 کے نتائج پیپلزپارٹی کو نہیں دئیے جارہے،ان کا کہنا تھا شہر کراچی کے متعد د حلقوں میں ہمارے نتائج کو روکا جا رہاہے ،تاج حیدر کے مطابق یوسی ماڑی پور، لال بکر، گابوپٹ، ونچ اور نیول کالونی کے پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں دئیے جارہے، الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ فارم 45اور 46نہ دینادھانلدی ہے ،اب الیکشن کمیشن کوچاہیے جو انتخابات سے قبل بہت نوٹس لے رہا تھا اب ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بھی نوٹس لے ۔نتائج روکنا، پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ کے وقت باہر نکالنا کھلی دھاندلی ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے حافظ نعیم نے کہا کہ فارم 45نہ دینا دھاندلی کے مترادف ہے ،نتائج حاصل کرنا پولنگ ایجنٹ کا حق ہو تا ہے ، الیکشن کمیشن کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے ،ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کو سلیکشن نہیں بنا نا چاہئے ،میڈیا کو پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے کی اجازت دینی چاہیے تھی ۔

متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے بھی پولنگ عملے کی جانب سے نتائج روکنے کا الزام عائد کردیا۔متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ نعیم اور شبیر حسن میثمی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پریزائڈنگ افسران پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 نہیں دےرہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پولنگ ایجنٹوں نے بات کی تو انہیں پولنگ اسٹیشنز سےنکال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں گنتی مکمل ہوگئی وہاں بھی نتائج نہیں دیے جارہے، فارم 45 نہ دینے نے الیکشن پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن پنجاب نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے فارم 14 فراہم نہ کیے جانے کے الزامات کو مسترد کردیا۔ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب کی جانب سے لگائے الزامات حقیقت کے برعکس ہیں، پولنگ اسٹیشن سے پولنگ ایجنٹس کے نکالے جانے کی کوئی شکایات موصول نہیں ہوئیں۔

دوسری طرف تحریک لبیک پاکستان نے کارکنوں کو نتائج نہ ملنے تک پولنگ اسٹیشنوں کے باہر دھرنا دینے کی کال دے دی۔پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل، متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے بھی انتخابات پر اعتراض لگا دیئے ہیں۔

تحریک لبیک نے کارکنوں کو دھرنے دینے کی کال دے دی ہے اور ترجمان تحریک لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو مرکز سے دو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق پہلی ہدایت کارکنوں کو پولنگ اسٹیشنز کے باہر پہنچنے اوردوسری نتائج نہ ملنے پر دھرنا دینے کا کہا گیا ہے۔

کراچی سے ایم کیوایم کے مرکزی رہنمافیصل سبزواری نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کو جیتنے سے روکنے کیلئے پری پول دھاندلی کی گئی۔ کئی پولنگ اسٹیشنز سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کونکال دیا گیا اور اب ہم کو تصدیق شدہ رزلٹ نہیں دیا جارہا۔ اگر ہم کو زرلٹ نہ دیا گیا تو ہم ہر پولنگ اسٹیشن اور انتخابی دفتر کے باہر مظاہرے اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کردیں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پر یس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل سبز وار ی نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں میں پری پول دھاندلی کے باوجود ایم کیو ایم کا ورکر بڑی تعداد میں باہر نکلا ہے اور اب ہم کو تصدیق شدہ رزلٹ نہیں دیا جارہا۔


خیال رہے کہ ن لیگ، ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی، پیپلز پارٹی، تحریک لبیک پاکستان ودیگر جماعتوں نے پولنگ عملے کے رویے کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔


ای پیپر