Nai Baat Magazine Report
26 جنوری 2021 (18:05) 2021-01-26

انسان دوست گورنر۔۔۔ 

تحریر۔ لالہ رخ

بقول شاعر مشرق علامہ اقبال۔۔

خدا کے عاشق  تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

انسانیت نہ کہ بڑا عہدہ کسی بھی انسان کو بڑا بناتے ہیں۔ گورنر ہاوس کے سامنے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والے دہشت گرد حملے کے احتجاج  میں جا کر ان سے اظہار یکجہتی کرنا ہو، کورونا وبا کے دوران فلاحی اداروں کے تعاون سے20  لاکھ گھرانوں میں راشن پہنچانا ہو، شہید ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گورنر ہاوس میں کورونا وال قائم کرنے کا ا قدام ہو یا بحیثیت گورنر، پنجاب کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی میرٹ پہ تقرریاں، گجرات یونیورسٹیوں کے کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کے لیے پنجاب ریگولرئزیشن ایکٹ بنانے کی اجازت دینا ہو۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور ان سب کاموں میں آگے آگے رہتے ہیں۔

گورنر پنجاب کو ایک انسان دوست گورنر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ چوہدری سرور خود بھی اپنی تقاریر میں اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ کسی بھی شخص کی کامیابی کا معیار دولت، عہدہ اور طاقت نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے۔ یہ صرف لفاظی نہیں بلکہ عملی طور پہ بھی انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت پہ یقین رکھتے ہیں۔  وزیر اعظم عمران خان کے تبدیلی کے ویژن کی تعمیر کے لیے سرگرم  عمل چوہدری محمد سرور ادارے بنانے پہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ آب پاک اتھارٹی کو ایک ایسا ادارہ بنا نا چاہتے ہیں  جس پہ عوام فخر کریں۔ 

آب پاک اتھارٹی کے تحت پہلے واٹر پروجیکٹ کا چک جھمرہ میں سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اس سے16 دیہاتوں کے 57 ہزار سے زیادہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر آئے گا۔ گورنر پنجاب عوام کو صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے آب پاک اتھارٹی کے معاملات کی بذات خود نگرانی کر  رہے ہیں۔ گورنر پنجاب کا ویژن ہے کہ سرخ  فیتہ کا خاتمہ ہو اور عوام کو بلا تاخیر سہولیات پہنچائی جائیں۔ حال ہی میں گورنر پنجاب کو وزیراعظم کی طرف سے اہم  ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے تحت گورنر پنجاب وفاقی محکموں کے صوبائی دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ بالخصوص ان محکموں میں ان اداروں کے خلاف وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل میں درج ہونے والی شکایات کے ازالے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔ اس حوالے سے پہلی میٹنگ کے دوران 107 وفاقی اداروں کے صوبائی سربراہان شریک ہوئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور  نے بہت خوبصورت بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے شکایات کے حل کرنے کو اقدامات کے ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ عوام کو  اپنے مسائل کے حل کے لیے سٹیزن پورٹل سے کیوں رجوع کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے کام میرٹ پر ہونے چاہیے اور افسروں کو چاہیئے کہ فائلیں جلد نکالیں۔ حکومت کا کام لوگوں کو  ریلیف دینا ہے۔

کورونا وبا کے دوران ٹیلی میڈیسن کے آغاز کے بارے میں ایک تقریر کا دوران انہوں نے بتایا کہ یہ خیال  (Concept) انہوں نے برطانیہ سے لیا۔ 17مارچ کو  ان کی بات یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم سے ہوئی اور 19مارچ کو انہوں نے پہلے میڈیکل ٹیلی سنٹر کا افتتاح بھی کر دیا۔ گورنر پنجاب کا کورونا کی پہلی لہر کے دوران کردار  قابل تعریف رہا۔

گورنر پنجاب اقلیتوں کے مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے حوالے سے بھی سرگرم رہتے ہیں۔ وہ مذہبی سیاحت اور ورثہ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ حال ہی میں گورنر پنجاب نے مسیح برادری کے لیے ان کے مقدس ترین مقا م  زیارت مقدس مریم کی تزئین آرائش کے لیے ماسٹر پلان بنانے اعلان کیا ہے۔ اس ماسٹر پلان کے تحت اس مسیحی برادری کے اس مقام پر سیاحوں کے لیے رہائشی کمرے ا ور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ 

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور ایک بردبار انسان ہیں جو سیاست میں ایک بڑی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ نظریاتی اختلاف کو ذاتی اختلاف بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مخالفین بھی ان کی عزت کرتے ہیں۔ جس تبدیلی کی سوچ کے ساتھ تحریک انصاف حکومت میں آئی تھی چوہدری محمد سرور اس کی عملی تعمیر کے لیے خلوص نیت سے کام کر رہے ہیں۔

واضع رہے کہ چوہدری محمد سرور 33ویں گورنر پنجاب ہیں۔ اس سے قبل 2013ء میں بھی نواز شریف دور حکومت میں انھیںپنجاب کا گورنر بنایا گیا تھا۔جنوری، 2015ء کو انہوں نے گورنر پنجاب، پاکستان کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔  تین بار گلاسگو سے برطانوی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور 13 سال گلاسگو مرکز کی لیبر پارٹی کی طرف سے نمائندگی کی۔ برطانوی پارلیمان کے یہ پہلے مسلم رکن ہیں۔ ان کے بعد ان کے بیٹے انس سرور اس نشست پر منتخب ہوئے۔ گورنر نامزد ہونے کے بعد چودھری محمد سرور نے دعوی کیا کہ انہوں نے برطانوی شہریت ترک کر دی ہے۔ چوہدری محمد سرور مسلم فرینڈ آف لیبر کے بانی چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران چوہدری سرور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ چونتیس برس پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے برطانیہ منتقل ہونے والے چوہدری سرور کو ہاوس آف کامنز کی تاریخ میں پہلا مسلمان رکن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انھوں نے سماجی خدمات سر انجام دی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر