Senate Election 2021
26 جنوری 2021 (17:15) 2021-01-26

 لاہور: سینیٹ کا معرکہ ، جوڑ توڑ کی سیاست میں گہما گہمی کا آغاز بھی ہو گیا ۔ ایک طرف وسیم اکرم پلس ن لیگ کی وکٹیں اڑانے کیلئے سر گرم ہیں تو دوسری طرف عثمان بزدار کے اپنے ضلع کے ممبران انکے خلاف متحرک نظر آتے ہیں۔ 

سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے لئے ایک طرف وسیم اکرم پلس ن لیگ کی وکٹیں اڑانے میں مصروف عمل ہیں تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے اپنے اراکین کا ہم خیال گروپ وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف متحرک ہو گیا ، ڈی جی خان سے ناراض گروپ کے رکن ایم پی اے نے اپنا سینیٹ امیدوار میدان میں اتارنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

 ڈی جی خان سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے خواجہ سلمان داؤدی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے بھائی اپنے حلقے میں حد سے زیادہ کرپشن کر رہے ہیں۔ جسطرح ترقیاتی کام وزیراعلی کے حلقے میں ہو رہے ہمارے حلقے میں بھی ہونے چاہیے۔ہمارے مطالبات ذاتی نہیں ہیں حلقے کے بارے میں ہیں۔

 وزیراعلی نے ترقیاتی کاموں کے لیے صرف اپنے حلقے کو فوکس کیا ہوا ہے۔ہم خیال گروپ کا اجلاس بلایا ہے جو ایک سے دو روز میں ہو گا۔ اجلاس میں ہم متفقہ فیصلہ کریں گے۔اگر ہم نے استعفی دینے ہیں تو متفقہ دیں گے اگر سینیٹ الیکشن میں امیداور دینا ہے تو پھر اپنا نام دیں گے۔اگر فیصلہ نہ ہوا تو پھر سینیٹ الیکشن میں کسی کو ووٹ نہیں دیں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنی جماعت سے دھوکہ نہیں کریں گے لیکن کسی اور جماعت سے بھی اتحاد نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے 20 اراکین نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے گروپ بنا رکھا ہے جسمیں اراکین پنجاب اسمبلی پنجاب ملک غضنفر عباس چھینہ، علی رضا خان خاکوانی، اعجاز سلطان بندیشہ،شہاب الدین سہیڑ، تیمور علی لالی، بلال اصغر وڑاچ، اعجاز خان جازی، عامر عنایت شہانی، سردار محی الدین کھوسہ، خواجہ داؤد سلیمانی، گلریز افضل چن، علی اصغر خان لاہڑی، فیصل فاروق چیمہ، احسن جہانگیر بھٹی اور غضنفر علی قریشی شامل ہیں۔


ای پیپر