Big News For Pakistan Government Officers
26 جنوری 2021 (15:45) 2021-01-26

 اسلام آباد:وفاقی حکومت نے 70 ہزار سرکاری خالی آسامیاں اور 117ادارے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بنیادی پے سکیلز،تنخواہوں و مراعات کے بارے میں بھی پے اینڈ پنشن کمیشن فروری 2021ء میں رپورٹ پیش کرے گا۔

نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی ٹاسک فورس برائے کفایت شعاری نے اس حوالے سے رپورٹ تیار کر لی ہے جو منگل کووفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی‘ رپورٹ کے مطابق وزارتوں اور ڈویژنوں میں گریڈ ایک تا سولہ کی 70ہزار خالی آسامیاں ختم کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔117 وفاقی ادارے ختم یا ضم کردیئے جائیں گے جس کے بعدوفاقی اداروں کی تعداد 441 سے کم ہوکر324ہوجائیگی۔ ایف بی آر،ایس ای سی پی،اسٹیٹ بینک ،پی آئی اے،سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ریلویز میں گورننس کی بہتری کیلئے متعلقہ وزارتوں سے مل کر اصلاحات لانے کیلئے کام کیا جارہا ہے۔

نجی ٹی وی کو دستیاب ٹاسک فورس برائے کفایت شعاری کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزارتوں اور ڈویژنوں میں ایک سال سے خالی پڑی 70 ہزار آسامیاں ختم کرنے کی سمری تیار کی جارہی ہے ، وفاقی اداروں کی اقسام 14 سے کم کرکے ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ، خود مختار اداروں اور قانونی اداروں پر مشتمل تین مختلف کیٹیگریز کردی گئی ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رولز اینڈ بزنس میں کمی لانے اور سادہ بنانے کیلئے کام جاری ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ای گورننس کے لئے روڈ میپ کی پہلے ہی منظوری دی جاچکی ہے اوروزارتوں و اداروں کی ویب سائیٹس کو تھری جی ورژن میں اپ گریڈ کردیا گیا ہے جبکہ ویب پورٹلز کی تیاری پر کام جاری ہے۔ جلد ویب پورٹلز لانچ کردیئے جائیں گے۔علاوہ ازیں تمام وزارتوں اور ڈویژنوں میں ای گورننس اور ویب پورٹلز لانچ کرنے کا کام ایڈوانس مرحلے پر ہے۔

 نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ رواں ماہ کے آخر تک کام مکمل کرلے گا۔کابینہ ڈویژن سمریاں تیار کررہی ہے جس میں رولز اینڈ بزنس میں کمی لانے اور سادہ بنانے اور ای گورننس کا عمل جون 2021 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق سول انتظامیہ کے اخراجات جاریہ نامینل ٹرم میں منجمد کردیئے گئے ہیں تاہم سول انتظامیہ کے اخراجات میں حقیقی بنیادوں پر کمی کی گئی ہے۔


ای پیپر