Chamber, commerce, NAB chairman, Justice retired, Javed Iqbal, PTI government
26 جنوری 2021 (13:47) 2021-01-26

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کیخلاف مذموم پروپیگنڈا جاری ہے۔ کوئی دھمکی، کوئی بلیک میلنگ راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

چیمبر آف کامرس کے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ تاجروں اور سرمایہ کاروں کی وجہ سے لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے، تاجروں کی شکایات کا ازالہ کریں گے، معیشت مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے کسی کیس میں رکاوٹ ڈالی ہے تو فہرست مجھے دیں، چیئرمین نیب کا عہدہ عوام کی خدمت کیلئے ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کسی سرمایہ کار سے آج تک نہیں پوچھا وہ سرمایہ کہاں سے لائے؟ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، ملک میں بہتر امن و امان کا کریڈٹ افواج پاکستان کو جاتا ہے ، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے ملک میں امن قائم ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ مربوط پالیسی چیمبر آف کامرس کو اعتماد میں لے کر بنائی جاتی ہے ، پالیسی بنانے میں نیب کا کبھی حصہ تھا نہ آئندہ ہوگا، کسی بزنس مین کا کیس نیب دائرہ اختیار میں نہیں تو درخواست دیں۔ نیب احتساب کے شفاف عمل پر یقین رکھتا ہے، سازگار ماحول سے ملک میں سرمایہ کاری ہوتی ہے، کسی شعبے میں آج تک بے جا مداخلت نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اصل بزنس مین اور ڈکیت میں واضح فرق ہوتا ہے ، اصل بزنس مین کی طرف نیب کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ، اگر ڈکیت ہے تو نیب قانون کے مطابق کیس دیکھتا ہے۔

جاوید اقبال نے کہا کہ کسی کی تنقید کا برا نہیں منایا، ان لوگوں کے پیسے واپس کرا رہے ہیں جن کے پاس کھانے کیلئے روٹی نہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو لوٹا گیا جنہوں نے اپنی جمع پونجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو جمع کرائی۔ بدعنوانی کو دیکھ کر نیب آنکھیں بند نہیں کرسکتا، ڈکیتی کی نذر 400 سے زائد ارب روپے ریکور کرنا آسان نہیں۔

انہوں نے کہا اگر نیب نے کسی کیخلاف غلط کیس دائر کیا ہے تو عدالت جائیں ، عدالت ثبوت کی بنیاد پر 2 پیشیوں میں کیس کا فیصلہ کر دے گی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ ہمارا کام عام آدمی کا تحفظ کرنا ہے، عام آدمی کی شکایت کا 60 سے 70 فیصد ازالہ ہوا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ تاثر دیا جا رہا ہے نیب کے خوف سے کچھ تاجر ملک چھوڑ گئے ہیں ایک تاجر بھی نیب کی وجہ سے ملک چھوڑ گیا ہے تو گھر چلا جاؤں گا۔ بدعنوانیوں کے 1235 ریفرنسز عدالتوں میں دائر ہیں، پروپیگنڈا وہ کر رہے ہیں جن پر ریفرنس، انکوائری چل رہی ہے۔ عدالتیں موجود ہیں درخواست دیں نیب نے زیادتی کی۔

انہوں نے بتایا کہ جب چند موٹے چوہے پکڑے تو 10 سے 15 ارب کی رقم واپس آگئی ، جو انسانی کاوش ہوسکتی تھی وہ میں نے نیب کیلئے کی ہے۔


ای پیپر