Accountability, country, 3 chairmen NAB, jails, Shahid Khaqan Abbasi
26 جنوری 2021 (13:03) 2021-01-26

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر ملک میں احتساب ہو تو 3 چیئرمین نیب جیلوں میں جائیں گے۔ نیب پراسیکیوٹر جنرل براڈ شیٹ کا گواہ بنا جسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کرپشن کی کھلی داستان ہے مگر کوئی اسے پوچھنے والا نہیں ، نیب ملک میں سیاست کو بدنام اور ناکام کرنے کا طریقہ ہے ، احتساب کی بات کرنی ہے تو براڈ شیٹ کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ آج پورے احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا ریکارڈ اگر عوام کے سامنے آیا تو سیکڑوں کیسز ملیں گے۔ یہ وہی نیب ہے جس نے 20 سال سے براڈ شیٹ کا کیس کھولا ہوا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت جو کیس بنائے جا رہے ہیں جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ، عدالتوں میں کیمرے لگائیں ، دکھائیں کون سی کرپشن ہوئی ، تمام سیاستدان کہتے ہیں عدالتوں میں کیمرے لگائیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیسز تاثر پیدا کرنے کا طریقہ ہے کہ سیاستدان کرپٹ ہیں ، انہوں نے کہا کہ جو سوالات ہم سے کئے جاتے ہیں وہی بیورو کریٹس سے بھی کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ایک وزیراعظم کو ویزے کی بنیاد پر برطرف کرکے حکومت توڑ دی جاتی ہے۔ عمران خان دعویٰ کرتا تھا براڈ شیٹ میں کرپشن ہوگئی ہے ، آج وہ بھی کہہ رہا ہے میرا براڈشیٹ سے تعلق نہیں اگر تعلق نہیں تو تمہارے وزیر براڈشیٹ سے پیسے کیوں مانگ رہے تھے؟ وہ کون تھے جو کاوے موسوی سے ملے اور پیسے مانگ رہے تھے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر مظفر آباد میں منائیں گے ، 5 فروری کا جلسہ راولپنڈی کے بجائے مظفرآباد میں ہوگا۔


ای پیپر