sahjid hussain malik columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
26 جنوری 2021 (12:27) 2021-01-26

وفاقی حکومت نے بجلی 1.95روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کاذمہ دار مسلم لیگ ن کی حکومت کو ٹھہرایا ہے کہ اس کے دورِ حکومت میں بد نیتی سے مہنگے پاور پلانٹس (بجلی کے کارخانے) لگانے کے معاہدے کئے گئے اور آنے والی حکومت کے لیے 227ارب روپے کی سرنگیں بچھائیں۔ وفاقی وزیرِ توانائی عمر ایوب، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، اور معاون خصوصی توانائی گوہر تابش نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فی یونٹ اضافہ 2.18 روپے بنتا تھا لیکن اس کی بجائے 1.95روپے (23پیسے فی یونٹ کم) اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے سے عوام پر 200روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ 2019ء میں عوام پر 227ارب روپے کا بوجھ ڈالا جاتا تو بجلی کی قیمت میں 2.61روپے فی یونٹ اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس کی بجائے صرف 23پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا اور عوام کو 2.38روپے فی یونٹ سبسڈی دی گئی۔ وفاقی وزراء کا مزید کہنا تھا کہ کیپسٹی پیمنٹ(Capacity Payment)ایسی مد ہے جس کے تحت کارخانوں کو حکومت کی طرف سے ضروری ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ یہ رقم 2013ء میں 185ارب روپے ، 2018میں 268ارب روپے اور 2020میں 860ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اور 2023میں 1455ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ اس کی ذمہ دار مسلم لیگی حکومت ہے جس نے بد نیتی سے اور دانستہ طور پر فیول مکس پر بجلی کے مہنگے کارخانے لگائے اور معاہدے کئے۔ 

تحریک انصاف کے حکومت کے ان اعلیٰ ارکان بالخصوص وزیرِ توانائی عمر ایوب کا مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت اور حکومت پر گرجنا برسنا اور اسے  "بد نیتی سے اور دانستہ طور پر"بجلی کے مہنگے کارخانے لگانے پر مورد الزام ٹھہرانا کوئی نئی بات نہیں کہ اس سے قبل بھی وہ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں اور میڈیا سے اپنی بات چیت کے دوران مسلم لیگ ن کی حکومت اور قیادت کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یقینا انہیں اس کا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی پیش رو حکومتوں پر تنقید کریں لیکن کیا "بد نیتی سے اور دانستہ طور " پر جیسے سخت اور نازیبا الفاظ استعمال کرنا ضروری ہے؟ پھر ایک ایسی جماعت اور اس کی قیادت کے بارے میں جس کا وہ اور ان کا خاندان لمبے عرصے تک حصہ رہے ہیں اس  کے بارے میں ایسی زبان کا استعمال یقینا مناسب نہیں سمجھا جا سکتا خیر ایسی باتوں کے بارے میں کون سوچتا ہے؟ اور پھر سیاستدانوں سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ جن کے پیشے یا مشغلے کے بارے میں یہ مشہور قول ہے کہ سیاست (کے سینے) میں دل نہیں ہوتا۔ عمر ایوب اور ان کے ساتھی اپنی حکومت کی نا اہلیوں اور بری کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لیے سابقہ حکومت یا حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ایسا ضرور کریں لیکن زمینی حقائق کو بھی  سامنے رکھ لیا کریں۔ کیپیسٹی پیمنٹ (Capacity Payment)کے بارے میں انہوں نے جو اعداد و شمار دیئے ہیں پہلے ان کو ہی دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ 2013ء میں یہ رقم 185ارب روپے تھی جو 2018ء میں 218ارب روپے اور 2020ء میں 860ارب روپے اور 2023ء میں 1455ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ اب ذرا غور کریں 2013ء میں مسلم لیگ ن نے حکومت سنبھالی تو کیپسٹی پیمنٹ کی رقم 185ار ب روپے  تھی جو  پانچ سال بعد جب 2018ء مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہو ئی تو یہ رقم 218ارب روپے ہو گئی۔ گویا پانچ سال میں کیپسٹی پیمنٹ کے واجبات میں سے 33ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس دوران بجلی کے کتنے کارخانے لگے کم و بیش 9یا 10 اور بجلی کی پیداوار میں کتنا اضافہ ہوا۔ 13ہزار میگا واٹ اور 2013ء میں 16، 18گھنٹوں کی جو لوڈ شیڈنگ تھی اس کا  جو بتدریج خاتمہ ہوا وہ اس پر مستزاد ہے اور آج صورتحال یہ ہے کہ بجلی کی پیداواری گنجائش 25ہزار میگا واٹ ہے تو استعمال میں آنے والی بجلی 

اس سے بھی آدھی تقریباً 12ہزار میگا واٹ ہے۔ اب پیداواری گنجائش کے مطابق بجلی استعمال نہیں ہو رہی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یقینا تحریک انصاف کی حکومت اس کی ذمہ دار ہے کہ اس کے دور میں صنعتی ، زرعی، معاشی، اقتصادی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو بریک لگنے کی وجہ سے بجلی کا استعمال کم ہو رہا ہے۔ یہ المیہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف کے حکومت کے پہلے آدھے دور میں کیپسٹی پیمنٹ 185 ارب روپے سے 860ارب روپے تک پہنچ گئی ہے یعنی اڑھائی سال یا 30ماہ کے عرصے میں اس میں 642ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک مہینے میں 21.5ارب روپے یا یومیہ 7کروڑ روپے کا اضافہ ہوتا رہا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ 2023ء یعنی تحریک انصاف کی حکومت کے دور کے اختتام پر مزید 95ارب روپے کے اضافے کے ساتھ یہ 1455ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ کیا اس کی ذمہ دار بھی مسلم لیگ ن کی حکومت ہوگی؟

اعداد و شمار کا یہ گورکھ دھندہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا ۔ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک ٹی وی پروگرام میں تحریک انصاف کے وزراء کی بجلی کے نرخوں میں اضافے کے حوالے سے مسلم لیگی حکومت پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیا ہے اور کچھ باتوں کی وضاحت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم پاور سیکٹر میں گردشی قرضوں کا جو حجم چھوڑ کر گئے تھے موجودہ حکومت نے اس میں 1400ارب روپے کا اضافہ کیا۔ ہم لائن لاسز 21%سے 18%کی سطح پر لائے جسے موجودہ حکومت نے 19.5%کی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ جناب مفتاح اسماعیل کے بیان کردہ یہ حقائق یا اعداد و شمار ایسے نہیں جنہیں جھٹلایا جا سکے۔ تاہم ایک اور انتہائی معتبر ، مستند، باخبر اور ٹھوس معلومات اور برسرزمین حقائق سے بہرہ ور شخصیت کے مطابق بھی کچھ حقائق ایسے ہیں جن سے جہاں کیپسٹی پیمنٹ میں اضافے کی تصدیق ہوتی ہے وہاں موجودہ حکومت کی نا اہلی ، نالائقی ، ملکی وسائل کو ترقی نہ دینے اور شرح نمو (GDP Growth)میں انتہائی کمی ہونے اور اس کے منفی  0.5 تک گر جانے کا پتا چلتا ہے ۔اس کے ساتھ اُسی باخبر شخصیت کے مطابق موجودہ حکومت کی یہ نا اہلی بھی ہے کہ وہ ایل این جی کے مہنگے سودے کرنے اور ضرورت کے مطابق ایل این جی در آمد نہ کرنے کی وجہ سے بجلی کے کارخانوں کو فرنس آئل وغیرہ کی بجائے مقابلتاً گیس کا سستا ایندھن مہیا کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ جس کی بنا پر کسی حد تک مہنگے  ایندھن استعمال کرنے والے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ 

میں نے اُوپر ٹھوس معلومات اور برسرزمین حقائق سے بہرہ ور ایک مستند ، معتبر، باخبر اور نیک نام اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مالک کے ذریعے یا شخصیت کا ذکر کیا ہے، اس کی تھوڑی سی مزید وضاحت کچھ اس طرح ہے ۔ یہ میری ہی نہیں پانچ چھ افراد پر مشتمل انتہائی محدود حلقے میں شامل قابلِ صد احترام ، پر خلوص اور وفا شعار احباب یا عزیزان گرامی کی خوش نصیبی ہے کہ مہینے میں کم از کم ایک آدھ بار ہم پانچ یا چھ احباب کھانے کے لیے کسی اپنی پسندیدہ جگہ پر مل بیٹھتے ہیں۔ خوب گپ شپ ، سیاسی اور تازہ ملکی حالات و واقعات پر تبصرہ ، شعر و شاعری ، ادب اور صحافت سے متعلقہ موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کا موقع مل جاتا ہے۔ دو تین دن قبل ہماری اسی طرح کی مجلس میں کیپسٹی پیمنٹ اور بجلی کے مہنگے کارخانے لگانے کے موضوع پر گفتگو ہوئی تو ہمارے احباب کے محدود حلقے کی مرکزی شخصیت جو اکثر میزبانی کے فرائض بھی سر انجام دیتی ہے نے کیپیسٹی پیمنٹ اور بجلی کی پیداوار وغیرہ کے بارے میں میرے استفسار پر کچھ باتوں کی حقائق پر مبنی بڑی خوبصورت اور چشم کشا وضاحت کی۔ اس شخصیت کا اور احباب کے محدود حلقے میں شامل دیگر  چار پانچ انتہائی قابل ِ احترام اور مخلص شخصیات کے نام لے کر بوجوہ ذکر نہیں کر رہا کہ یہ احباب نمود و نمائش سے گریز کرتے ہیں( اگلے کسی کالم میں ان شاء اللہ ان کی اجازت سے یہ ذکر بھی ہو جائے گا)۔ تاہم اس شخصیت جس کا اُوپر میں نے حوالہ دیا ہے کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ شخصیت بلا شبہ اپنی فرض شناسی ، اہلیت ، قابلیت، محنت اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مالک ہونے اور گزشتہ تقریباً تین دہائیوں کے دوران اعلیٰ سرکاری مناصب پر فائز رہ کر انتہائی ذمہ داری اور راست گوئی سے اپنے فرائض سر انجام دینے کی بنا پر انتہائی معتبر، مستند اور باخبر سمجھی جا سکتی ہے۔ اس شخصیت کی طرف سے بعض باتوں کی وضاحت کا کچھ ذکر اُوپر آچکا ہے مزید ایک اور پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ مسلم لیگی دور حکومت میں جب بجلی کے کارخانے (جنہیں موجودہ حکومت مہنگے کارخانے قرار دیتے نہیں تھکتی) لگ رہے تھے تو یہ حقیقت سامنے تھی کہ ان کی وجہ سے ناصرف لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ ملک میں جاری صنعتی، زرعی، معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ شرح نموGrowth) بڑھانے میں بھی کامیابی ملے گی۔ خیال یہی تھا کہ شرح نمو جو 2018ء میں 5.6%تھی وہ اگلے پانچ سال میں 7% کی مثالی حد کو چھو لے گی۔ اس طرح  پیدا ہونے والی پوری بجلی استعمال ہوگی اورکیپسٹی پیمنٹ جیسے معاملات کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی لیکن عملاً کیا ہوا تحریک انصاف کی حکومت کی نا اہلی ، بد انتظامی اور غلط فیصلوں کی بنا پر قومی شرح نمو میں بتدریج اضافے کی بجائے پریشان کن اور تکلیف دہ کمی رونما ہوئی۔ اس وقت شرح نمو مسلم لیگی دور کی 5.6%کی بجائے 0سے بھی نیچے پہنچی ہوئی ہے اور زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی بقیہ مدت میں اڑھائی تین فیصد تک بمشکل پہنچ پائے گی، ایسے میں کیپسٹی پیمنٹ جیسے معاملات بوجھ نہیں بنیں گے تو اور کیا ہوگا؟ ۔


ای پیپر