Asif Anayat Afridi columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
26 جنوری 2021 (12:23) 2021-01-26

چھوٹے پن کی ابتدا کب ہوئی صدیوں پہ محیط انسانی تاریخ اور معاشرت کے ارتقائی مراحل واوراق اس کی نشاندہی تو نہیں کرتے جبکہ چھوٹا پن ہر دور میں روبہ زوال معاشرت کے حصے میں آیا ہے بد نصیبی ہے کہ صدیوں سے اس چھوٹے پن کا امہ کی نام نہاد اشرافیہ ہی شاہکار اور مسلسل نمبر 1 پہ ہے اس کی بنیادی وجہ ظلم اور نا انصافی ہے۔ مگر یہ چھوٹا پن گزرتے لمحوں کے ساتھ بڑھے چلا جا رہا ہے ۔

ظلم کوتوالوں اور نا انصافیاں کچہریوں میں ہی نہیں یہ دو افراد کے باہمی معاملات سے پوری معاشرت کے باہمی روابط، مسائل اور معاملات میں جاری و ساری ہے۔ چیزوں کا اپنی مناسب جگہ پر نہ ہونا بھی ظلم اور نا انصافی ہے مثلاً ڈرائنگ روم میں گل دان کی جگہ پیک دان رکھ دینا یہی حالت کلیدی عہدوں، انعامات، اعزازات کی عنایات اگر ظلم پر مبنی ہوں تو چھوٹا پن انسان میں فطرت کی طرح منکشف ہوتا ہے۔ فطرت ہرو قت مظہر نہیں ہوتی ہے بلکہ ڈولفن مچھلی کی طرح اچانک اور کبھی کبھار پانی سے یکدم فضا میں نمودار ہوتی ہو کر دوبارہ پانی میں غوطہ زن ہو جایا کرتی ہے۔ چھوٹے پن کو دبائے رکھنا منافقت کا کمال ہے تاریخ اور چلتے لمحے میں بھی تعین کیے ہوئے ٹارگٹ کو حاصل کرنے تک اپنی اصلیت کا کسی کو شائبہ تک نہ ہونے دینا لاجواب اداکاری ہے کہ ان اشرافیہ کہلانے والے اداکاروں کے سامنے پیشہ ور اداکار بھی ہاتھ باندھے دکھائی دیتے ہیں۔ میر جعفر، میر صادق تو پرانا قصہ ہوا ہماری آنکھوں نے دیکھی تاریخ اور ذرا سا پہلے جن میں عدنان مندریس، سائیکارنو، شاہ فیصل، جناب ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو، کرنل معمر قذافی، اپنوں کے چھوٹے پن کی بھینٹ ہی تو چڑھے تھے اور امہ ان سپوتوں سے محروم کر دی گئی۔ ورنہ آج یہ حالات نہ ہوتے کہ دنیا میں چھوٹوں کی حکمرانی کھل کھیلتی۔ 

بڑے لوگ کتابوں اور عام لوگوں میں تو مل جائیں گے مگر سوائے چند استثنائی صورتوں کے بڑے عہدوں پر کبھی نہیں ملتے۔ بڑے عہدوں پر چھوٹے ترین لوگ متمکن ہوں گے کیونکہ اس عہدہ کے حصول کی بنیاد ذاتی ، مفاد ، حرص ہوس ، خوشامد، منافقت کے علاوہ ہر اگلے زینے پر پاؤں دھرنے کے لیے بے شرمی ، بے اصولی اوریوٹرن پر سمجھوتہ 

کرنا پڑتا ہے۔ تاریخی حوالے سے ایک نگینے اور بڑے آدمی کا مکالمہ یاد آگیا یہ بھی اخلاق احمد دہلوی ہی رقم کرتے ہیں کہ 

لارڈ کرزن جب دلی میں ہندوستان کے وائسرائے بن کر آئے۔ جن کی وجہ سے کرزن فیشن رائج ہوا یعنی مونچھوں کا صفایا اور وجہ اس کی یہ سمجھی گئی کہ چونکہ لارڈ کرزن کے اوپر کے ہونٹ پر ایک طرف زخم کا نشان تھا اس لیے آدھی طرف کے مونچھوں کے بال ان کے قدرتی طور پر نہیں اگ سکتے تھے اس لیے انہوں نے مونچھیں بالکل ہی مونڈ ڈالی تھیں اور کہتے ہیں مونچھیں مونڈنے کا فیشن یا چلن انہی کی وجہ سے ہوا۔ تو ان لارڈ کرزن صاحب نے یہ آزمانے کے لیے کہ دلی میں عربی دان کیسے کیسے ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر کے کامریڈ پریس میں اپنے سیکرٹری کے ہاتھ ایک عربی کے ناول کا بے نقط اور بغیر اعراب کا قلمی نسخہ بھجوایا کہ اس پر نقطے اور اعراب لگوا دیئے جائیں۔ مولانا محمد علی جوہر نے یہ قلمی نسخہ مفتی کفایت اللہ کو یہ کہہ کر بھجوایا کہ یہ آپ کے امتحان کا پرچہ ہے اور وائسرائے ہند کی طرف سے آیا ہے۔ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ اگر یہ کوئی مذہبی کتاب ہوتی تو میں اس پر نقطے اور اعراب لگا دیتا۔ میں ناولوں کا آدمی نہیں ہوں۔ اس پر مولانا محمد علی جوہر نے یہ ناول کامریڈ پریس کے دیوار بیچ مسجد یعنی کیکر والی مسجد کے مولوی صاحب کو دیا جنہوں نے رات بھر میں مذکورہ بے نقط ناول پر  نقطے بھی لگا دیئے اور اعراب بھی۔ اور اس کارنامے پر جب وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے ان کیکر والی مسجد کے غیر معروف مولوی صاحب کو شمس العلماء کے خطاب سے نوازنا چاہا تو ان مولوی صاحب نے یہ کہہ کر خطاب لینے سے انکار کر دیا کہ 

سخن فہمی عالم بالا معلوم شد

علامہ شبلی نعمانی کو بھی وہی خطاب اور ہمیں بھی وہی خطاب۔ لاحول ولاقوۃ ‘‘

اب اندازہ کیجیے کہ شمس العلماء کا خطاب ان الفاظ کے ساتھ لینے سے انکار کرنے والا علمی ، فکری، شعوری اعتبار سے کس درجہ پر فائز ہو گا۔ 

آزادی کی نعمت سے محروم معاشرت کے گوہر نایاب کبھی صحیح مقام پر فائز نہیں رہتے کیوں کہ آزادی ہنر کے اظہار کی بنیادی شرط ہے اب دنیا کے بہت سے ممالک آزاد ہیں مگر آزاد قوم نہیں ہیں بڑے بڑے عزت داروں کو ایک جگہ یا موقع پر عزت رکھنے کی خاطر سو جگہ پر ذلت اٹھاتے دیکھا بظاہر گینڈے کی قوت رکھنے والے روح کے مردار دیکھے بظاہر عام لوگ چٹان سے مضبوط دیکھے ہمارے اب دوست ریٹائرڈ پروفیسر خواجہ ندیم ریاض سیٹھی کوئی دیوہیکل دکھائی نہیں دیتے مگر ان کے اندر روح شاید سلطان ٹیپو کی معلوم ہوتی ہے جن میں کبھی مولانا مودودی کے افکار اور کبھی بھٹو صاحب کی للکار سنائی دیتی جبکہ اسی شہر میں کسی کے دستر خوان پر پشتوں اور نسلوں کی عزت رہن رکھنے والے دیو ہیکل بھی دیکھے۔ 

حافظ انجم سعید ایڈووکیٹ غالب، فراز، ساحر، اقبالؒ کے افکار کا مرکب ہیں۔ جن میں سے مولانا مودودی کی تربیت بھی جھلکتی ہے اور جوش کا ہوش بھی۔ غالب، اقبالؒ ، فیض، ساحر جالب نے تو شاعری کی مگر معروف قانون دان دانشور محمد سلیمان کھوکھر نے ان کی شاعری اپنا طرز زندگی اور کردار ہی بنا لیا نگینے لوگ آپ کو بھیڑ میں ملیں گے ملنے سے بات کرنے پر کھلیں گے مگر ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ کوئی اسلام آباد میں جناب ذوالفقار علی بھٹو اور پنجاب میں شہباز شریف لگا ہو۔ دلی میں کوئی جو اہر لال نہرو اور امریکہ میں کوئی صدر روزویلٹ لگا ہو۔ کچھ لوگ عہدوں کو بڑا اور کچھ عہدوں کو چھوٹا کر دیا کرتے ہیں۔ متذکرہ بالا شخصیات نے عہدوں کو کردار سے بڑا کیا اور اب کردار کی وجہ سے عہدوں کا بیڑا غرق ہو گیا۔ دراصل عہدے اگر اہل لوگوں کے پاس ہوں تو تہذیب ، تمدن، انسانیت قانون کی حکمرانی معاشرت اور ملک کا مقدر بن جایا کرتی ہے۔ 

کتنے ظلم کی بات ہے کہ وطن عزیز میں 23 سال بندوبست کو جدوجہد کہنے والے تمام جماعتوں کے گھاگھ اکٹھے کر کے پوری اسٹیبلشمنٹ بھی پشت پر ہو اور کہہ دیں ہمارا تجربہ نہیں تھا گویا حکومت نہ ہوئی سائیکل کی سواری سیکھنا ہو گیا۔ ہمارے ہاں بعض اوقات صدر بھی چھوٹا آدمی دیکھا گیا ۔ وزیراعظم ، وزیراعلیٰ ، چیف جسٹس اور بہت سے چیف کسی بھی سرکاری پرائیویٹ شعبہ میں چھوٹے آدمی دیکھے گئے اگر بندہ کسی کے دستر خوان پر ایماندار ہو منافق نہ ہو اور بندہ تابعدار ہو اداکار نہیں جھلا ہو عیار نہیں ، چالاک ہو تو کام چل جاتا ہے مگر بندہ چھوٹا ہو تو بیڑا غرق ہو جاتا ہے کیونکہ نہ اس کو اپنی بات ، عزت کا لحاظ ہوتا ہے نہ کسی دوسرے کی عزت کا۔ لہٰذا بندہ چھوٹا ہے سے جب تک جان نہیں چھوٹتی جو میرٹ کے بغیر ممکن نہیں معاشرت کی حقیقی بنیادی اور قومی تعمیر مثبت نہیں ہو سکتی۔ 


ای پیپر