shakil amjad sadiq columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
26 جنوری 2021 (12:07) 2021-01-26

میں کنڈیکٹر کو کرایہ دینے کے لیے سائیڈ جیب میں ہاتھ ڈالنے لگا تو میرے ساتھ بیٹھے اجنبی شخص (جس کا دور و نزدیک سے میرا کوئی واسطہ نہ تھا) نے میرا ہاتھ سختی سے پکڑتے ہوئے کہا

’’نہیں بابو صاحب! آپ کا کرایہ میں دیتا ہوں‘‘۔ آپ بہت پڑھے لکھے اور نفیس انسان ہیں۔بابو نے بہت کہا کہ وہ اپنا کرایہ خود دے گا۔ آپ میرا میرا بوجھ کیوں اٹھائیں گے لیکن اجنبی بہت مہربان ہو رہا تھا اور بھر پور محبتیں اور چاہتیں نچھاور کر رہا تھا۔ بالآخر میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود میراکرایہ کنڈیکٹر کو دے دیا۔ اگلے سٹاپ پر وہ اجنبی شخص بڑے تپاک کے ساتھ مل کر بس سے اتر گیا۔ میں کافی دیر تک سوچ کے نہاں خانوں میں ڈوبا رہا کہ یہ شخص کون ہو سکتا ہے۔ اچانک میں کسی چیز کو جیب سے نکالنے لگا تو سر تھام کر بیٹھ گیا، اس اجنبی نے میری جیب کا صفایا کر دیا تھا۔ دوسرے دن میں نے اس چور کو بازار میں پکڑا تو وہ چور مجھے گلے لگا کر رونے لگا ’’اس قدر رویا کہ اس کا دامن آنسوؤں سے تر ہو گیا۔زارو قطار روتے ہو ئے بولا!بابو صاحب! مجھے معاف کر دو تم سے چوری کرنے کے بعد میری بیٹی مر گئی ’’مجھے بیٹی بہت پیاری تھی۔ میری جان تھی وہ… میری اکلوتی اولاد تھی وہ۔

بابو نے نرم دلی کے ساتھ اس کو معاف کر دیا اور دیر تلک اس کی بیٹی کے مرنے پر افسردہ رہا۔چور چلا گیا لیکن گلے ملتے وقت اس نے پھر بابو کی جیب کا صفایا کر دیا تھا‘‘ بابو اس کی اس حرکت پھر انگشت بدنداں ہو کر رہ گیا۔ چند دن بعد بابو صاحب موٹرسائیکل پر کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو اس چور نے روکا۔ چور نے روتے ہوئے بابو صاحب سے معافی مانگی ، بابو کو اس کے سارے پیسے بھی لوٹا دیے اور پاس کی دکان میں لے جا کر کولڈ ڈرنک پلانے کے بعد چلا گیا۔ 

بابو خوشی خوشی جب اپنی موٹر سائیکل والی جگہ پر آیا تو دیکھا کہ اس بار چور اس کی موٹر سائیکل لے گیا تھا۔ بابو یہ منظر دیکھ کر سر پیٹنے لگا اور چور کی اس استادی اور سیاست پر حیرانی پر حیرت زدہ ہو گیا۔ 

ماضی کے جھروکوں سے جھانک کر ذرا حال کی کھڑکیاں کھول کر دریچوں کو تازہ ہوا دینے کی کوشش کریں تو ہمیں ان گنت اور لا تعداد سانحات اور حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 1947ء کے واقعات تو اپنے اندر ہجرت اور قتل و غارت کی پوری تاریخ سموئے ہوئے ہیں اور یہ واقعات اس قدر اندوہناک اور کرب و اذیت سے بھرے پڑے ہیں کہ ان کو یاد کر کے کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر ہماری سیاسی پارٹیوں اور جمہوریت کے علمبرداروں نے اس واقعہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ملک عزیز کے لیے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہیں دیا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملک عزیز کے قیام کے تہتر سال بعد بھی کوئی ایسا شخص پیدا نہ ہو سکا جو ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے اس قدر مضبوط اور مستحکم کر دے کہ آنے والی نسلیں اس شخص کو نجات دہندہ اور مسیحا مان سکیں اور ہم صحیح معنوں میں محب وطن اور محب قوم ثابت ہو سکیں۔ قیام پاکستان کے بعد ہم جمہوریت اور آمریت کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان ، کارگل کی کہانی ،سانحہ اے پی ایس پشاور، سانحہ کراچی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ساتھ ساتھ بے شمار انسانیت سوز واقعات سے کان لپیٹ کر اور منہ بند کر کے گزرنا پڑتا ہے ۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کا تعلق براہ راست کسی نہ کسی طرح حکومتوں اور حکمرانوں کی نا اہلیوں کی طرف کھلا اشارہ ہے۔ واضح رہے تاریخ ایسی حکومتوں اور حکمرانوں کو معاف نہیں کرتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بدترین عہد کی عکاس بن جاتی ہے۔ ایک بات یاد رہے معاشرے ہمیشہ افراد کی ہم آہنگی، مثبت سوچ، اتحاد کی پیروی، نظم و ضبط کی پابندی، انفرادی اور اجتماعی مفاہمت سے وجود آتے ہیں اور ر یاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ افراد اور اقوام کے لیے ایسے مواقع پیدا کرے۔ ایسا ماحول فراہم کرے اور اسی سے ثمرات پہنچائے مگر ہمارے ساتھ معاملہ ہی الٹ ہوا۔ ہمارے حکمران اور پتی (بلکہ کئی کئی حسینوں کے پتی) بن گئے اور عوام خشک روٹی کے نوالے کو ترس گئی۔ ان پڑھ اور غیر تعلیم یافتہ ایوانوں کی زینت بن گئے اور پڑھے لکھے نوجوان مزدور، دیہاڑی دار، سبزی فروش، ڈرائیور حتیٰ کہ چور اور ڈاکو بن کر اپنی اخلاقی اور مذہبی قدروں سے بے بہرہ ہو گئے۔ ملک میں ایسے ایسے مافیاز پیدا ہو گئے کہ ملک اور عوام ان کے چنگل میں آ گیا اور ان مافیاز نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا۔یہی وہ مافیاز ہیں جنہوں نے ملکی حالات اور سرمایے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر قومی سلامتی کی پروا کیے بغیر ملک و قوم کے جسم کو گدھوں کی طرح نوچنا شروع کر دیا ہے اور ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ایک سٹاپ سے عوام کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ان کا کرایہ دے کر ان کی جیب صاف کر کے اگلے سٹاپ پر اتر جاتے ہیں۔ معافی مانگ کر دوبارہ آتے ہیں اور آپ کو پھر چکما دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہم ایسے ’’بھولے بادشاہ‘‘ ہیں تیسری مرتبہ بھی ان پر یقین محکم کی فضا پیدا کر کے اپنے تن کا لباس بھی ان کے حوالے کر دیتے ہیں اور گلی گلی، شہر شہر، قریہ قریہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ہمارے حکمران کرپٹ ہیں۔ ہمارے حکمران چور ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو چوری اور کرپشن کرنے کا موقع ہی فراہم نہ کریں۔ بقول رانا غلام محی الدین

تعزیر کے لائق تھے، دکھانے کے نہیں تھے

سب خواب مرے، میرے زمانے کے نہیں تھے


ای پیپر