براڈشیٹ کی تھیلی کے چٹے بٹے
26 جنوری 2021 2021-01-26

بادشاہت کے ٹوٹتے برجوں کے فوری بعد جمہوریت کے فلسفے نے طاقت کو عوام اور حقیقی اسلحہ بردار طاقتوں میں تقسیم کردیا فلسفہ نعروں تحریروں اور تقریروں کی حدتک کافی پذیرائی کا حامل ہوا مگر ”طاقت“ ہی وہ واحد عنصر ہے جس کی تقسیم گھروں سے لے کر ایوانوں تک کہیں تسلیم نہیں کی جاتی.... بظاہر حلف بردار تقاریب اور صدور ووزرائے اعظم کی چھڑی بردار جرنیلوں کے ساتھ 30سیکنڈ کی ملاقاتی ویڈیوزکا جاری ہونا بمع اس کیپشن کے کہ ہم ایک پیج پر ہیں جوکہ بجائے خود ایک مضحکہ خیزی میں لرزتا ہوا جملہ ہے (بندہ پچھے تُسی اپنے اپنے کم کرو اک پیج دی کی ضرورت) اس خیال کو ہمہ وقت پکا کیا جاتا ہے کہ عسکری طاقت ہمارے ساتھ ہے خبردار ہوشیار.... بالکل اس طرح حکومت کی جاتی ہے کہ جیسے سرکاری ملازم آٹھ گھنٹے نوکری اور سولہ گھنٹے اسے پکے کرنے میں گزارتے ہیں جب یہ طے ہوگیا کہ کنگلے عوام کو تخت وتاج پر سجادیا جاتا ہے ایسی سربراہی دی جاتی ہے جس کانہ عوامی سربراہ کو یقین آتا ہے اور نہ ہی بخشنے والے کا دل مطمئن ہوتا ہے ہمہ وقت ”آنیوں جانیوں“ پر نظررکھی جاتی ہے سیاست دانوں کو لڑایا جاتا ہے طاقت ور کو کبھی بھی بیان بازی اور نچلے درجے کی سازش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی قسمیں کمزورکھاتے ہیں جبکہ طاقتور” ڈب“ میں بھنی پستول کا محض درشن کراتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کے طریقے بھی تبدیل ہوچکے ہیں ”پھپھے کٹنی“ والی ذمہ داری دنیا بھر کی مستند ”کمپنیوں“ نے اُٹھا رکھی ہے سیاست دانوں کی اخلاقی، کرداری واقتصادی کمزوریاں مع ثبوت تلاش کرنا ڈیٹے مرتب کرنا اور پھر تیسری دنیا کے ملکوں کے مقتدر اداروں کو بیچنا اور اُس کا معاوضہ بھی انہیں مظلوموں سے دلوانا جن کے خلاف یہ ثبوت اکٹھے کئے گئے ہوتے ہیں دورحاضر کا سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔ 1999ءمیں جب سیاسی شاخسانے کے نتیجے میں چند سرکردہ لوگوں کو نوکری سے برخاست کیا گیا تو انہوں نے اقتصادی بے ایمانیوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے والے ”موسوی“ سے ملاقات کا اہتمام کرایا....

جنرل مشرف کو اُس وقت کے اکابرین میں طارق عزیز اور جنرل ندیم امجد پراتنا اعتماد تھاکہ طارق عزیز کوتو پرنسپل سیکرٹری کی خاص حیثیت حاصل تھی فواد ملک کا غصہ سیاست دانوں کو اس صورت لے ڈوبا کہ مشرف نے براڈشیٹ مینجمنٹ سے ملاقات کی آمادگی ظاہر کرکے معاہدہ کی تیاری کا عندیہ دے دیا یہ معاہدہ دنیا کے مضحکہ خیز ترین معاہدوں میں یوں بھی شمار کیا جاسکتا ہے کہ کیسز کی محض نشاندہی اور وصولی رقم کے بغیر ہی اس کمپنی کا بیس فیصد معاوضہ طے ہوتا اورنا صرف یہ کیس بلکہ نیب میں پہنچنے والے کیسوں میں بھی براڈ شیٹ کا حصہ یقینی ہوتا اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل نیب شیخ عظمت سعید پر اسی لیے مسلم لیگ نون” پٹ“ رہی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے جو اس قضیے کا حصہ ہے اسی کو اس کا سربراہ بنادیاجائے ساس بہو کی لڑائی کا فیصلہ سسر یا کوئی اور بزرگ تو کرسکتا ہے مگر دونوں فریقین نہیں.... بعدازاں جنرل مشرف نے پینترابدلا اور ماڑی سی سیاسی جمہوری حکومت تشکیل دے ڈالی ایسی So calledجمہوری حکومت جو تمام عرصہ جنرل مشرف کو سوسال وردی میں دیکھنے کی تمنائی تھی (قربان جائیے ایسی جمہوریت پر) مشرف کی موسوی وبراڈ شیٹ میں دلچسپی بوجوہ ختم ہوگئی نواز شریف وبے نظیر باہر پھینکوا دیئے گئے باقی انہیں باوردی دیکھنے کے تمنائی ہاتھوں میں دف اٹھا ڈفلی بجارہے تھے ”جگ جگ جیو مشرف پیارے“ مشرف گانے گارہے تھے ناچ رہے تھے وہ مکے لہراتے اور سیاست دانوں کے حوالے سے معروف جملہ کہتے Oh I am above all these(آئی ایم ابووآل دیس) انہی براڈشیٹ معاہدے کی ضرورت پڑتی طاقتور سیاست دانوں کے سامنے جبکہ سامنے پرویز الٰہی اینڈ کمپنی تھی بلکہ انہیں دنوں ایک لطیفہ بھی چلا کہ 90شاہراہ کے دفتر کو بدل دیا جائے کہ وہ لب سڑک ہے لوگ ہنستے کہ ”ماں صدقے تہانوں کنے مارنا “ یہ خطرات تو سچ مچ کے لیڈروں کے لیے ہوتے ہیں لہٰذا مشرف نے بھی ایسے ”غیرت مند“ سیاست دانوں کے لیے براڈشیٹ سے معلومات لینے کی چنداں ضرورت نہ محسوس کرتے ہوئے براڈ شیٹ سے لاتعلقی اور معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دیا موسوی کو جوچسکا پڑچکا تھا اور دیگر قوتیں جو بھاگے داری چاہتی تھیں وہ معاوضہ دلوانے پر ڈٹ گئیں اب طاقتور مشرف کہے کہ ہمیں ایسے کمزور پیروں میں پڑے ہووﺅں کی ”چغلیاں“ نہیں چاہئیں وہ بھی اتنے بھاری معاوضے پر مگر حصے دار کہاں رکتے ایسے میں موسوی کی عمران خان سے ملاقات ہوگئی جنہوں نے شہزاد اکبر سے موصوف کو ملوایا موسوی کا انتیس ملین پاﺅنڈ کا بیس فیصد معاوضہ Recoverdجائیدادوں میں بھی ڈال کر مطالبہ دہرادیا بقول موسوی کی پریس کانفرنس شہزاد اکبر کا مانگا ہوا حصہ مع دیگر قوتوں کی پرسنٹیج کا خوب رولا ڈالا موسوی جس کا کام ہی لوگوں کے راز اکٹھے کرنا اور انہیں بیچنا ہے اس نے جاکر ملاقاتیں کرنے والے پردہ نشینوں کو کیسے بخشنا تھا اب جبکہ یہ ”کٹا“ کھل کر ”بیلے“ میں ناچ رہا ہے تو حکومت پاکستان نے یہ خطیررقم اسمبلی میں فیصلہ کرکے ادا کردی ہے وزیراعظم کے رائے مانگنے پر اسمبلی کے کرداروں نے اوکے کیا اسے کہتے ہیں ”ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے“ یہ لوگ ٹرکوں پر اور انجوائے منٹ کرتے ہیں جبکہ مالی معاملات میں اکٹھے ہوجاتے ہیں پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کو منی لانڈرنگ اور ہنڈی کے ذمرے میں آنے کا قطعاً مطلب یہ نہیں وزیراعظم اوپن ہیئرنگ کا کہہ کر قضیے سے الگ ہوجائیں اور نہ ہی یہ اس کا حل ہے وہ شہزاد اکبر سے ملاقاتیں موسوی کے بیان اور دیگر شواہد کی روشنی میں مزید ”گند“ کو صاف کریں اور کبھی کبھار بقول کامران شاہد جہانگیر ترین کے خلاف بھی ایک آدھ جملہ بول دیا کریں یا پھر قانون بنادیں ”تہاڈی کرپشن کرپشن ، ساڈھی بس غلطی اے“28نومبر کو کس طاقت کے طاقتور بہنوئی نے حکومت کو مجبور کیا کہ حکومت پاکستان موسوی کوپیسے دے وزیراعظم کے معصوم پرستار ان سے یہ پوچھنے کی اہلیت نہیں رکھتے کہ حضور سچ کو چھپانا بھی جھوٹ ہی ہوتا ہے جسٹس عظمت سعید کے واضح وجہ ہونے کے باوجود یہ جواب کہ کیا جسٹس قیوم کو لائیں چہ معنی دارد؟ کس نے کہا ہے جسٹس قیوم کولائیں دوغلی قوم کے دوغلے لیڈر ایسا باتوں میں الجھاتے ہیں کہ بس اصل موضوع غائب ہو جائے۔ 

الغرض یہ کہ عمران خان ٹائپ ہیرولوگ آخری ڈھلتی عمر والیوں ووالوں کے فلمی ٹائپ ہیرو ہیں جبکہ آنے والی نسل کیلکولیشن کرے گی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کوئی ان جوابوں سے نہیں بہلے گا مراد سعید کی دودوارب والی تقریر تو اب باقاعدہ لطیفوں والی کتاب میں شامل ہوچکی ہے پی ٹی آئی لیڈر عندلیب کی جوحالت جاوید چودھری کے پروگرام میں ہوتی ہے جب جاوید چودھری جاوید لطیف سے پوچھتے ہیں کہ آپ آگے کے انتظام کیوں نہیں کرکے گئے تین چار سال بعد بھی بجلی غائب نہ ہوئی مہنگائی نہ بڑھتی صرف الزام تراشی صرف پچھلی حکومت کا رونا کب تک نالائقی پر پردہ ڈالے گا۔ 


ای پیپر