آئی ایم سوری یار!
26 جنوری 2021 2021-01-26

اگر کوئی انسان بے پناہ خطاکار ہے، وہ خود کو دنیا کا غلیظ ترین شخص سمجھتا ہے، جیسے میں خود کو سمجھتا ہوں، اِس کے باوجود وہ اپنے رحیم وکریم رب سے معافی کا اُمیدوار ہے تو پہلے وہ دوسروں کی غلطیوں، کوتاہیوں کو نظرانداز کرنے کا ظرف اپنے اندر پیداکرے۔.... میں نے معاف کرنے کے بجائے”نظرانداز“ کرنے کا لفظ اِس لئے استعمال کیا میرے والدِ محترم مرحوم جو چِٹے ان پڑھ تھے اکثر یہ فرمایا کرتے تھے، ”معاف کرنا صرف اللہ کی شان ہے، یہ صرف اللہ ہی کا ظرف ہے۔ ہم تو بس ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرسکتے ہیں، نظرانداز کرسکتے ہیں، .... یہ بات پہلی بار اُنہوں نے مجھے اُس وقت کہی تھی جب میں اُن کی موجودگی میں اپنے ایک دوست کو فون پر کہہ رہا تھا کہ ”جاﺅ میں نے نہیں معاف کیا“،.... تب اُنہوں نے مجھے ڈانٹا تھا، اُنہوںنے فرمایا تھا ”مانگنے پر کسی کو معافی دی تو کیا دی؟، کسی سے یہ توقع رکھنا وہ اپنی کسی غلطی پر آپ سے باقاعدہ معافی مانگے یہ اصل میں اُس سے بدلہ لینے ہی کی ایک قسم ہے، اصل ظرف یہ ہے آپ دوسروں کو معافی مانگنے سے پہلے ہی اُن کی غلطیوں کودرگزر کردیں“،.... ایسا میں نے جاپان میں دیکھا، وہاں آپ سے چھوٹی موٹی کوئی غلطی ہو جائے، یا آپ کی وجہ سے کسی کا کسی قسم کا کوئی نقصان ہوجائے، بجائے اِس کے آپ اُس سے ” سوری“ کہیں، وہ آپ سے ” سوری“ کہہ رہا ہوتا ہے، ....دوسروں کی غلطیوں یا کوتاہیوں کو نظرانداز کرنے کا ظرف کوئی اپنے اندر پیدا نہیں کرسکتا پھر اُسے بھی کوئی حق نہیں اپنی بے شمار غلطیوں پر اپنے رب سے معافی کی وہ اُمید رکھے، .... اگلے روز میں نے اپنے محترم بھائی رﺅف کلاسرا کی دِل پر براہ راست اثر کرنے والی تحریر پڑھی، یہ تحریر اپنی فیس بک وال پر اُنہوں نے پوسٹ کی۔ تحریر کیا ہے، باقاعدہ ایک ”قول زریں“ ہے، پہلے آپ ذرا یہ ”قول زریں“ پڑھ لیں، (”دنیامیں کسی کومنانا ہو تو سب سے آسان کام ایک ہے فون اُٹھائیں اور کال کرکے بغیر بحث کے اُسے سوری کہہ دیں،” یار آئی ایم سوری“....میری غلطی تھی،.... میرا بیس سالہ پُرانا 75سالہ ایک دوست کئی دنوں سے مجھ سے ناراض تھا، میں نے فون اُٹھایا اور اُس سے کہا” سوری باس“ ....وہ ہنس پڑا کہ اب میں کیا بولوں.... اپنے دوست میجر عامر کی بات یاد آئی اُن کے والد کہا کرتے تھے جو دوستی تیس برسوں میں پروان چڑھی ہو اُسے ختم بھی تیس برسوں میں ہی ہونا چاہیے، تیس سیکنڈز میں نہیں .... لیکن میرا تجزیہ یہ کہتا ہے پرانے دوست جب بھی ناراض ہوتے ہیں بہت سخت ناراض ہوتے ہیں، اور ہمیشہ کسی چھوٹی بات پر ہوتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دوستی پروان چڑھ رہی ہوتی ہے وہیں اُس سے جُڑی توقعات بھی اُتنی بڑی ہورہی ہوتی ہیں، ایسی دوستیاں شیشے کی طرح نازک ہوتی ہیں، پرانی دوستیوں اور پرانے دوستوں کا بھی ایک چھوٹے بچے کی طرح خیال رکھنا پڑتا ہے ، دوستیاں بچانی ہوں تو ہمیشہ اَناایک طرف رکھ کر فون اُٹھا کر سوری بول دیں، آپ چاہے کتنے ہی سچے کیوں نہ ہوں، چاہے دوست کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو، آج میں نے بھی کچھ ایسے ہی کیا، لگتا ہے عمر بڑھنے کے ساتھ کچھ عقل اور ٹھہراﺅ آرہا ہے، چلیں دیرسے سہی، کچھ عقل تو آئی....(رﺅف کلاسرا کی اِس تحریر نے میرے دِل پر بڑا اثر کیا، یہ تحریر پڑھتے ہی میں نے اپنے اندرکی ”میں میں“ ، اپنی جھوٹی انا مارنے کی کوشش شروع کردیں، میں اب تک کئی دوستوں کو ”آئی ایم سوری یار“ کہہ چکا ہوں، انہوں نے جواباً اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ فرماتے ہوئے مجھ ایسے کم ظرف کو معاف بھی فرما دیا ہے، میں نے ناراض دوستوں کی ایک فہرست بنائی ہے، بے شمار دوست ایسے ہیں جنہیں میں نے ابھی ”آئی ایم سوری یار“ کہنا ہے۔ ایک ناراض افسردوست سے اگلے روز فون پر میں کہا ”میں نے ایک بار اپنے کالم میں آپ کی اعلیٰ شخصیت کی شان میں ،آپ کے خلاف چھوٹا سا ایک جملہ لکھ کر”بڑی سی ایک گستاخی کردی تھی، یہ اصل میں میرا ایسا گناہ کبیرہ تھا جس کے نتیجے میں، میں اپنے رب سے توقع کرسکتا ہوں وہ سات سمندروں کے برابر میرے گناہ معاف فرمادے گا، پر آپ سے توقع نہیں میرے اِس ایک گناہ کو آپ معاف فرمادیں گے، اِس کے باوجود نخیف سی اِک اُمید پر میں آپ کو کال کررہا ہوں، آپ مجھے میرے لیے چاہے معاف نہ کریں، اللہ واسطے معاف فرما دیں، ”آئی ایم سوری یار....آئی ایم رئیلی سوری“.... جناب رﺅف کلاسرا کے ”آئی ایم سوری یار“ میں اپنی طرف سے "Really"کا بھی میں نے اضافہ کردیا، اُنہوں نے میری معافی تو پوری سُنی، جیسی اُن کی طبیعت اور شخصیت ہے اِس معافی کا مزہ بھی اُنہوں نے پورا لیا ہوگا، ہوسکتا ہے یہ معافی اُنہوں نے ریکارڈ بھی کرلی ہو، پر اُنہوں نے معاف نہیں کیا، اُنہوں نے فون بند کردیا، اب جناب رﺅف کلاسرا صاحب سے میں نے پوچھنا ہے ایسے دوستوں سے معافی مانگنے کا ”آئی ایم سوری یار“ کہنے سے ہٹ کر کوئی طریقہ ہے؟ کچھ دوست صرف”آئی ایم سوری یار“ کہنے سے تو راضی نہیں ہوتے، ایسے ہی ایک دوست کو منانے کے لیے میں نے اپنے بیٹے کو بھی استعمال کیا، میرے بیٹے نے میرے کہنے پر میرے اِس ناراض دوست سے فون پر کہا ”انکل میرے ابو کو معاف کردیں“....دوست نے اِس کے باوجود معاف نہیں کیا، جناب رﺅف کلاسرا مجھے اپنے اِس انتہائی ”اعلیٰ ظرف دوست“ کو منانے کا کوئی طریقہ بھی بتادیں ....اپنے اِس دوست کو منانے کے لیے اپنے بیٹے کو میں اِس لیے استعمال کیا تھا مجھے اپنے بچپن کا اِک واقعہ یاد تھا، ایک ہی گھر میں میرے تایا کی فیملی اُوپر والی منزل پر ہم نےچے والی منزل پر رہتے تھے، میرے تایا بہت غصیلے تھے، ایک بار کسی بات سے خفا ہوکر میرے ابوجی کے سرپر اُنہوں نے چِمٹادے مارا، ابو جی کا سرپھٹ گیا، اُن کے سرپرچارٹانکے لگے، ہمیں اِس کا بڑا دُکھ ہوا، یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہواتھا، میرا خون کھول گیا، ابوجی کے سر سے مسلسل خون بہہ رہا تھا، پر والدین نے ہماری یہ جو تربیت کی تھی کہ بڑوں کی بات میں یا بڑوں کے آگے نہیں بولنا، اُس کے مطابق ہم نے صبر کرلیا، اِس واقعے کے اگلے روز عید تھی، ہم بھائی عید کی نماز پڑھ کر گھرواپس آئے ابو جی نے ہم سب بہن بھائیوں کو اپنے پاس بلایا، کہنے لگے” عید ہے اُوپر جاکر تایا ابو کو سلام کرکے آئیں“،....ہم بڑے حیران ہوئے جس شخص نے کل ناجائز طورپر اُن کا سرپھاڑا تھا آج ابو جی کس حوصلے سے کہہ رہے ہیں اُوپر جاکر اُن سے عید مِل کر آئیں، اُنہیں سلام کرکے آئیں، ہم نے امی کی طرف دیکھا اُنہوں نے بھی ابو کی اِس بات کی تائید کی،.... والدین کے اِس حکم کی تعمیل میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے اُوپر جاکر تایا ابو کو سلام کیا، وہ ہمیں دیکھتے ہی رونے لگے، ہمیں پیار کیا، ہمیں عیدی دی، پھر ہمارے ساتھ نیچے آکر اپنے چھوٹے بھائی اور ہمارے ابو سے معافی مانگنے لگے تو ابو نے آگے بڑھ کر اُن کے ہاتھ چُوم لیے، اُن سے کہا ” آپ میرے بڑے بھائی میرے والد کی جگہ ہیں، کیوں معافی مانگ کر مجھے شرمندہ کررہے ہیں؟ ایسے اعلیٰ ظرف لوگ چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھی اب نہیں ملتے ۔ میں اکثر سوچتا ہوں۔ ”جگنوسو گئے ہیں“.... یاہم اندھے ہوگئے ہیں!!


ای پیپر