کیا پالیسی بنائیں
26 جنوری 2021 2021-01-26

یہ بات ہے سنہ 2000 کی جب امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے انڈیا کا تاریخ ساز دورہ کیا جس میں انڈیا کو امریکہ کا اتحادی بننے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ چھ دن کا یہ دورہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں اہم موڑ کے طور پر دیکھا گیا۔صدر جارج ڈبلیو بش کے دورے کے دوران ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے سے سٹریٹجک تعلقات کی گہرائی میں اضافہ ہوا اور صدر باراک اوباما نے بھی انڈیا کے دو دورے کیے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ گجرات کے ایک بھرے ہوئے سٹیڈیم میں ایک بڑے جلسے میں شرکت کی جو نریندر مودی نے ان کے اعزاز میں منعقد کروایا تھا اس میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ’یہ (دو طرفہ تعلقات) کبھی اتنے اچھے نہیں تھے جتنے ابھی ہیں۔‘چیئرمین پاکستان یوروپی یونین فرینڈشپ چودھری پرویز لوسر سے جوزف روبینیٹ بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بارے میں پوچھا تو انکا کہنا تھا کہ صدر بدل دینے سے پالیسی نہیں بدلتی اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ٹرمپ بھارت جا کر کہا کرتے تھے کہ آئی لو انڈیا اور پاکستانیوں کو بھی لولی پاپ دیا ہوا تھا.۔ 

سینئر تجزیہ کار فاہد حسین کہتے ہیں کہ خوش آئند بات ہے کہ بائڈن کے دور حکومت میں پالیسی ماضی کی طرح شخصیت پر مبنی کم اور اداروں پر مبنی زیادہ ہوگی.امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے سربراہ جان جے ہیمرے نے امریکہ اور چین کے بارے ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’چین کے ساتھ امریکہ کے تاریخی تعلقات ہیں لیکن پچھلے چالیس برس کچھ خاص رہے ہیں، اس دور میں بہت آوازیں اٹھیں جنھوں نے کہا کہ ہمیں چین کے ساتھ وہی کرنا چاہیے جو ہم نے سوویت یونین کے ساتھ کیا لیکن امریکہ نے اس کے برعکس چین کے ساتھ مل کر کام کیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے چالیس برسوں میں دونوں ممالک نے کافی ترقی کی ہے۔‘لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ جھنجھلایا ہوا ہے کیونکہ چین کی اکڑ واشنگٹن میں بہت سے لوگوں کو ناخوش کرتی ہے، جس وجہ سے امریکہ میں خاص طور پر تاجر برادری میں چین کے بارے میں رائے تبدیل ہوئی ہے۔ اب سے کچھ سال پہلے جو امریکی چین کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے وہ اب ایسا نہیں سوچتے۔ بہت سے امریکیوں کو لگتا ہے کہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینے میں ہم نے بہت دیر کی۔

دراصل یہاں جان ہیمرے کا اشارہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور پھر براک اوباما کی انتظامیہ کی طرف سے ’چین کے کئی اقدامات کو نظر انداز‘ کرنے کی طرف تھا۔اس پر پروفیسر ہرش وی پنت کہتے ہیں ’پہلے بش اور پھر اوباما دونوں نے اپنے دور میں چین کو ہدف بناتے ہوئے یہ کہا کہ انڈو پیسیفک میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے اور چین اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس طرح کی باتیں بھی ہوئیں کہ ایشیا میں جمہوری ملک انڈیا کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ لیکن منصوبہ بندی کی سطح پر اس کا اثر بہت کم ہوا کیونکہ اقتصادی پالیسیز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہی نظریہ برقرار رہا کہ تجارت کے لیے چین کا ساتھ ضروری ہے۔حکومت وقت خارجہ امور بہترین طریقے سے سرانجام دے رہی ہے مگرپھر بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مزید خود مختار بنایا جانا چاہیے جس پر کسی قسم کا دباو¿ نہ ہو، تمام فیصلے ملک و قوم کی فلاح کو ملحوظ خاطر رکھ کر بلا خوف و خطر کیے جائیں. پاکستان کو اپنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جن میں چین ترکی، روس اور عران وغیرہ شامل ہیں. جب ڑو این لائی نے پاکستان کا پہلا دورہ کیا تھا تو ا±س وقت پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹیجی کے لحاظ سے کوئی بات مشترک نہیں تھی لیکن بعد میں جب چین اور انڈیا کے درمیاں سرحدی تنازعات پیدا ہونے کی وجہ سے جنگ ہوئی تو پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی بنیادی اور مشترکہ وجہ انڈیا دشمنی بن گئی۔ کئی برسوں تک یہ مشترکہ دشمنی دونوں کی دوستی کی بنیادی وجہ سمجھی گئی یا کم از کم الزام یہی لگتا رہا۔لیکن اب چین اور پاکستان کی دوستی کی بنیادی وجہ دونوں میں انڈیا کی دشمنی سے کہیں زیادہ دیگر اہم وجوہات ہیں جو ون بیلٹ ون منصوبے سے بھی آگے کی بات ہے.

 ترکی اور پاکستان کے درمیان دوستی کا باضابطہ معاہدہ کا متن کچھ یوں ہے کہ ’ترکی اور پاکستان کے درمیان دوستی کے جذبے کے ساتھ طے پایا ہے کہ سیاسی، ثقافتی اور معاشی دائروں کے اندر اور اس کے ساتھ امن اور تحفظ کی خاطر ہم زیادہ سے زیادہ دوستانہ تعاون حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے‘۔یہ بھی ناقابل فراموش ہے کہ ہر مشکل موقع پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے حق ادا کیا۔ ترکی میں دائیں بازو یا بائیں بازو یا فوجی آمریت ہی کیوں نہ ہو، پاکستان کے ساتھ ترکی کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں۔ اسی طرح ترکی ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مو¿قف کی غیر مشروط حمایت بھی کی ہے۔ 

ایران ہم سے معاشرتی، مذہبی اور تاریخی اعتبار سے مشرک ہے اور اسی بنیاد پر دونوں ممالک میں مماثلت ہے اور اسی اعتبار سے عا لمی سطح پر اقدامات سے اس تعلق کو مثالی بنایا جاسکتا ہے. چین اور روس کی جیسے جیسے بین الاقوامی سطح پر اہمیت بڑھ رہی ہے امریکہ پس منظر میں جاتا دکھائی دیتاہے اور اس وجہ سے پاکستان، روس، چین اور ایران ہم نوالہ ہوتے محسوس ہورہے ہیں، اب جو چین ، ایران اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرتا نظرآرہاہے تو بھارت کو بچھو ڈسنے لگے ہیں مگر چین کی جنوبی ایشیا میں بالادستی کی بناءپر بھارت اپنی سازشوں میں ناکام نظر آتاہے، بھارت ہمیشہ سے افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو کشیدہ رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہامگر اسے منہ کی کھانی پڑی۔ بھارت کی سیاہ کاریاں مزید برداشت نہیں کی جائیں گی، ہر بار بھارت اپنے جھوٹ کو سچ بتاتا رہا خواہ وہ ڈس انفولیب ہو، پلوامہ واقعہ یا کلبھوشن..... بھارت کا بھیانک چہرہ اب بے نقاب ہو چکا ہے.۔


ای پیپر