”شیدااور فضلو پہلوان“ 
26 جنوری 2021 2021-01-26

 قارئین ، آپ سیاسی تحریریں پڑھ پڑھ کر اور ہم لکھ لکھ کر تھک گئے ہیں میں نے سوچا کہ کیوں نہ آج عہدرفتہ کو آوازدی جائے، آج کافی عرصے کے بعد خیال آیا، کہ آج اندرون لاہور جایا جائے، کیونکہ اصل لاہورتو اندرون علاقوں میں ہے، باقی تو ہم لاہور سے باہر رہتے ہیں، حتیٰ کہ اندرون اور بیرون شہر کی ثقافت ، اقدار اور روایات میں واضح فرق ہے، اندرون شہر کی ہرہوٹل ہردوکان اور ہرمحلے کے تھڑے پہ حالات حاضرہ پر سیر حاصل بحث کی جاتی ہے، اَن پڑھ حضرات بھی دل کھول کر سیاست کے ایسے ایسے عقدے کھولتے ہیں، کہ الامان الحفیظ ایسی ہی ایک دکان شیدے دودھ دہی والے کی ہے، کہ جہاں شیدا اپنے چند خدائی خدمت گار دوستوں کے جھرمٹ میں کاروبار کرتا ہے اور یہ خدمت گار فی سبیل اللہ گاہکوں کی خدمت کرتے ہیں، اور بات بات پہ ظرافت کے شگوفے چھوڑتے ہیں، شیدے کے دوستوں میں اس کا ایک دیرینہ دوست بھولا پہلوان بھی ہے کہ جو ہربحث مباحثے میں پیش پیش ہوتا ہے، میں جب اس کی دوکان کے قریب پہنچا، تو خلاف معمول بھولاپہلوان دوکان کے باہر بچھے ہوئے پھٹے پہ جہاں آدھی جگہ پہ دہی کے کونڈے رکھے ہوتے ہیں اور باقی جگہ پر بھولا براجمان ہوتا ہے، آج بھولا پہلوان حسب عادت بوسکی کا کرتا، ہلکے گلابی رنگ کی دھوتی پہنے اور سرپہ ململ کی خاصی موٹی ترچھی پگڑی جس نے ایک کان مکمل طورپر اپنی لپیٹ میں لیاہواتھا، ایک نہایت موٹے پائیوں والی چارپائی جو نفیس بان سے بنی ہوئی تھی، براجمان تھا، بھولے کا ایک پاﺅں چارپائی کے اوپر اور ایک چارپائی کے نیچے لٹک رہا تھا، حقے کی نالی بظاہر اس کے منہ میں تھی، لیکن ایسے لگتا تھا، کہ اس نے خاصی دیر سے کش نہیں لیا تھا، وہ آنکھیں بندکیے ایسے لگ رہا تھا، جیسے وہ گیان دھیان میں مصروف ہو، میں جب ذرا اس کے قریب پہنچا، تومیرے پاﺅں کی آہٹ سن کر اس نے قدرے بڑبڑاکر آنکھیں کھولیں، اور مجھ سے مخاطب ہوا، باﺅ جی آپ اتنا عرصہ کہاں تھے دیدار ہی نہیں کرایا، اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے، تو معاف کردو یار، میں نے عرض کی، پہلوان جی، اللہ گواہ ہے ایسی کوئی بات نہیں محض خودساختہ مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہ ہوسکا، میں خود آپ سے معافی مانگتا ہوں لیکن پہلوان جی یہ تو بتائیں کہ آپ جیسے باغ وبہار انسان کو آخر کس چیزنے متانت اور سنجیدگی پر مجبور کیا ہے، بھولا پہلوان بولا دراصل باﺅ جی میں اپنی گزری ہوئی سنہری یادوں میں کھوگیا تھا، ایک دوسرے کی عزت واحترام والا پرانا دوررہ رہ کر یاد آرہاتھا، ہماری بھی کیا عزت ہواکرتی تھی، پورا شہر ہماراعاشق اور سودائی ہواکرتا تھا، تانگے پہ سوار، کچھ پائیدان پر اور کچھ آگے پیچھے نیم دراز پہلوان جمعرات والے دن داتادربار حاضری دینے کے بعد، مخالف پہلوان سے ہتھ جوڑی کیا کرتے تھے، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے اور مجمع چیرتے ہوئے پہلوان آگے آتا اور مسلسل مخالف پہلوان پر نظریں جماتا ہوا ڈنڈ بیٹھکیں نکالنا شروع کردیتا اس دوران خلیفے کی موجودگی میں مالشیا پہلوان کی مالش کرتا، اور اشارہ ملنے پر یاعلی مدد کا نعرہ لگاتے ہوئے عجب سرمستی کے عالم میں پہلوان اکھاڑے میں اترتے لیکن باﺅجی دوسرا پہلوان بھی اتنا نادان نہیں ہوتا تھا، وہ اکھاڑے میں پہنچتے ہی سب سے پہلا کام یہ کرتا کہ دوسرے پہلوان کے جسم پہ مٹی ڈال دیتا تاکہ بوقت ضرورت اس کا ہاتھ پھسل نہ جائے، مصنف کشتی کی موجودگی میں کشتی شروع ہوتی تو مسلسل ڈھول بجتا رہتا، لیکن جب کشتی ذرا مشکل مرحلے میں داخل ہوتی، تو خود ڈھول بجانے والا بھی ڈھول چھوڑ کر کشتی کے داﺅپیچ دیکھنا سروع کردیتا، باﺅجی منصف کشتی کبھی کھڑا ہوکر، کبھی لیٹ کر، اور کبھی پھدک پھدک کر داﺅ پیچ دیکھتا، اس دوران مجمعے پر مکمل سکوت چھا جاتا ہے جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہوبلکہ کئی شائقین توپہلوان کے ساتھ ساتھ زور لگانے کی اداکاری کررہے ہوتے کہ گویا ان کا اپنا زور لگ رہا ہو، میں نے بھولا پہلوان کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ آپ کی سب باتیں درست لیکن کشتیاں تو اب امریکہ میں ہوتی ہیں، پہلوان کا قدبت، رنگ روپ مسل اور جسمانی ساخت قیامت کی ہوتی ہے، میری یہ بات کرنے کی تھی کہ بھولا پہلوان لال سرخ ہوکر کہنے لگا، واہ باﺅجی صدقے جاﺅں تمہاری عقل پہ کہاں دیسی کشتی اور کہاں ولایتی کشتی ،ایک پہلوان دوسرے پہلوان کو اپنی طاقت سے چاروں شانے چت کردے، یہ ہوئی نہ صحیح کشتی۔ 

باﺅ جی، امریکی کشتی تو نری نوراکشتی ہے، نورا بلکہ پورا ڈرامہ ہوتا ہے، اور کئی کئی دن قبل ، بلکہ کئی کئی ہفتے پہلے مسلسل اس کی ریہرسل کرائی جاتی ہے، اللہ کی قسم ،مجھے چھ فٹ اوپر سے چھلانگ لگاکر دوسرے پہلوان پہ گرنے دیں، اگر اگلے کا ”اندرپیٹا“ باہر نکال کر نہ رکھ دوں، تو بھولا نام نہیں، ویسے باﺅ جی میں گولڈ برگ کی کشتیاں بھی بڑے شوق سے دیکھتا تھا، ویسے باﺅ جی، آج کل شیدا پہلوان اور فضلو پہلوان کی سنا ہے، کہ ہتھ جوڑی ہوگئی ہے، کیا یہ بات درست ہے، اگر یہ بات صحیح ہے تو داد تو دونوں کو دینی پڑے گی ، کیونکہ دونوں نامی گرامی پہلوانوں کے پٹھے ہیں، اور دونوں نے کافی عرصے سے ”کسرت“ شروع کی ہوئی ہے، اور ان دونوں کی کشتیاں بھی نامی گرامی پہلوانوں سے ہوچکی ہیں، لیکن ایک بات میری سمجھ سے باہر ہے، کہ میرے بہت سے دوست یہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی یہ دونوں ”نورا“ کشتی بھی لڑلیتے ہیں، اب خداجانے ان دونوں کی اب ہونے والی کشتی نورا ہے، یا دیسی۔ لیکن سنا ہے کہ اس کشتی پر پاکستانی تاریخ کا بہت بڑا جواءلگا ہوا ہے، لیکن یہ بات باﺅ جی کتنی عجیب وغریب ہے کہ یہ دونوں اس عمر میں ہیں، جب کہ اس عمر میں تو پہلوان کشتیاں چھوڑ کر اللہ اللہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ 

میں نے کہا کہ پہلوان جی، آپ کیا بات کررہے ہیں، شیدے پہلوان نے تو ابھی تک شادی ہی نہیں کی، وہ تو کنوارا ہے، لیکن اس کا اٹھنا بیٹھنا پاکستان کے نامی گرامی پہلوانوں کے ساتھ ہے۔ میری یہ باتیں سن کر وہ حیرتوں میں گم ہوگیا، میں نے جب اسے خیالوں کے سمندر میں غوطہ زن دیکھا، تو اس کی حیرتوں میں مزید اضافہ کرنے کے لیے میں نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا، اور بتایا کہ کیا تمہیں پتہ ہے، کہ شیدا پہلوان، اور فضلو پہلوان، ایک ہی نامی گرامی پہلوان کے پٹھے ہیں۔ 

اگر آپ کو میری بات ابھی بھی سمجھ نہیں آئی، تو آپ کو بتاﺅں کہ دونوں اس حوالے سے ”پیربھائی“ بھی ہیں اور سنا ہے کہ ان کا پیر بھی بڑاکامل ہے، اگر میری بات کا یقین نہیں ہے، تو آپ کسی بھی پہلوان سے پوچھ لیں، میںنے تو یہ بھی سنا ہے، کہ فضلو پہلوان کے تو والد بھی بڑے نامی گرامی پہلوان تھے، اور انہوں نے دنیا میں بڑا نام کمایا ہے، اب ظاہر ہے، فضلو پہلوان باپ کے نام کی لاج تو رکھے گا۔  


ای پیپر