” جہانگیر ترین پر الزامات“
26 جنوری 2020 2020-01-26

نااہل ہو جانے کے باوجود تحریک انصاف کے طاقتور ترین رہنما جناب جہانگیر ترین جس وقت مختلف ٹی وی پروگراموں کے میزبانوں کو ایک، ایک ارب روپے ہرجانے کے نوٹس بھیج رہے ہیں تو کیا میڈیا کو ان سے ڈرجانا چاہئے ،ان کے سامنے آنے والے ارادوں اورمنصوبوں پر بات نہیں کرنی چاہئے۔ میںانہیں نہ تو کرپٹ کہہ رہا ہوں اور نہ ہی اس کے باوجود شوگر مافیا قرار دے رہا ہوں کہ وہ اقتدار میں ہیں ، ان کی شوگر ملیں ہیں اور چینی کی قیمت میں مسلسل مشکوک انداز میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اصغر بٹ، پرانے مہربان دوست ہیں، سیاست کے ساتھ ساتھ اکبری منڈی میںچینی کاکاروبار بھی کرتے ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ کم و بیش ایک، ڈیڑھ ماہ پہلے، پندرہ دسمبر کو چینی کی سوکلو بوری کا ایکس مل ریٹ ساڑھے چھ ہزار روپے تھا جو گزشتہ ہفتے ساڑھے سات ہزار پر پہنچ چکا تھا۔ ایک بوری پر سوا سو روپے کیرج کا خرچ آتا ہے یعنی چینی اکبری منڈی والوں کو فی کلوچھہتر روپے پچیس پیسے پڑی اور ہمارے ڈی سی او صاحب کا حکم ہے کی ہول سیل نہیں بلکہ اس سے آگے پرچون میں چینی ستر روپے کلو بیچی جائے۔

میں نے عرض کیا، میرا موضوع چینی کے ساتھ ساتھ کرپشن بھی نہیں ہے کہ میں سو کلو کی بوری کے ہزار روپے مہنگا ہونے کی وجوہات کو ڈسکس کروں مگر اختیارات کا استعمال ضرور ہے۔ میرے ساتھ سوشل سیکورٹی کے سینکڑوں کی تعداد میں ڈاکٹر ، نرسز، پیرامیڈکس اور انتظامی سٹاف ہی نہیں تھا بلکہ پنجاب بھر کے مختلف شہروں اور اداروں سے آئے ہوئے مزدور رہنما بھی تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ جہانگیر ترین سوشل سیکورٹی کے ہسپتالوں کو اپنے پرائیویٹ ادارے ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی کے حوالے کرنا چاہ رہے ہیں ۔ وہ چودھری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ میں مظفر گڑھ اور رائے ونڈ کے ہسپتالوں کو لے چکے ہیں اور وہاں غریب مزدوروں کے علاج کی صورتحال اس قدر دگرگوں ہے کہ سیریس مریضوں کو لاہور بھیج دیا جاتا ہے۔ ہم ملتان وڈ ، لاہور کے اس مشہور و معروف نواز شریف سوشل سیکورٹی ہسپتال میں موجود تھے جس کانام اب پنجاب سوشل سیکورٹی ہسپتال رکھا جا چکا ہے، نواز شریف کانام ہٹایا جا چکا ہے، وہاں سوشل سیکورٹی ہسپتالوں میں ٹھیکیداری نظام کے خلاف ایک بڑا جلسہ ہونے جا رہا تھا جس میں صوبائی وزیر محنت انصر مجید خان بھی شرکت کر رہے تھے۔ میں حیران تھا کہ پی ٹی آئی کے ایک عام سے صوبائی وزیر میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی کہ وہ جناب جہانگیر ترین کے سامنے کھڑا ہوجائے۔ یہ ہمت تو بہت مشہور و معروف سیاسی کارکن ڈاکٹر یاسمین راشد میں بھی نہیں تھی کہ وہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ پرجہانگیر ترین سے کہیں کمزور لیڈروں کو ’ ناں‘ کر سکیں۔میں نے سوشل سیکورٹی الائنس کے عہدیداروں سے ایک سے زائد مرتبہ پوچھا کہ کیا واقعی جہانگیر ترین سوشل سیکورٹی کے ہسپتالوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں تو جواب ہر مرتبہ پورے یقین کے ساتھ ’ ہاں‘ کی صورت میں ملا۔

میرا سوال تھا کہ جہانگیر ترین سوشل سیکورٹی کے ہسپتال اپنی ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی کے حوالے کیوں کرنا چاہتے ہیں تو جواب ملا کہ اس کمپنی کو رائے ونڈ اور مظفر گڑھ کے ہسپتالوں کی مینجمنٹ چلانے کے نام پر کروڑوں روپے ادا کئے جا رہے ہیں ۔ سوشل سیکورٹی وہ ادارہ ہے جو اپنے ہسپتال چلانے کے لئے حکومتی خزانے سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتا۔ ڈاکٹروں کی تنخواہیں ہوں، ہسپتالوں میں ادویات ہوں یابلوں سمیت دیگر اخراجات، وہ اس کنٹری بیوشن سے ادا کئے جاتے ہیں جوادارہ صوبے بھر کے صنعتی یونٹوں سے وصول کرتا ہے جن کے کارکنوں کو سوشل سیکورٹی کارڈ جاری ہوتے ہیں۔ سوشل سیکورٹی کی گذشتہ برس کی کنٹری بیوشن سو لہ ارب روپوں سے زائد تھی جبکہ اخراجات پندرہ ارب کے لگ بھگ تھے یوںملازمین کے مطابق گذشتہ برس ادارے نے ایک ارب بائیس کروڑ روپے کی بچت کی۔ ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی کی اس اربوں روپوں کے بجٹ اور اثاثوں پر ہی نظر نہیں بلکہ اسے علم ہے کہ سوشل سیکورٹی نے اپنے ملازمین کی پنشن کے لئے بائیس ارب روپے کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کے منافع سے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن ادا کی جاتی ہے یعنی یہ ادارہ نہ صرف حکومتی خزانے سے ایک روپیہ تک نہیں لیتا بلکہ اس نے اپنی پنشن تک کا بوجھ خود اٹھاتے ہوئے اربوں روپے بچت کر رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ کنٹری بیوشن کی کلیکشن کو بھی پنجاب ریونیو اتھارٹی کے حوالے کرنے کی تیاریاں ہیں جس کے بعد اس ادارے کو اپنے فنڈز کے لئے حکومت کے دست نگر ہونا پڑے گا۔

یہ امر حیران کن ہے کہ حکومتیں انہی اداروں کی نجکاری کو دوڑ ، دوڑ جاتی ہیں جو منافع میں ہوتے ہیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ سوشل سیکورٹی کو اگر ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی کے حوالے کیا گیا تو ساڑھے آٹھ ہزار ملازمین کا مستقبل داو¿ پر لگ جائے گا جو بیس، بیس برس سے یہاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ امر ا س سے بھی زیادہ حیران کن تھا کہ مختلف شہروں اور اداروں سے آنے والے مزدور رہنما سوشل سیکورٹی ہسپتال کے ڈاکٹروں سمیت پورے سٹاف پر اپنے بھرپور اعتمادکا اظہار کر رہے تھے ورنہ یہ مزدوررہنما تو کبھی کسی کے حق میں بات کرنا اپنی سیاست کی نفی سمجھتے ہیں۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہاں ایک کروڑ کے لگ بھگ وہ مزدور اور ان کے اہل خانہ آتے ہیں جن کی تنخواہیں پندرہ سے بیس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں اور یہاں آنے والے مریض کسی بھی صورت لاہور کے بڑے ہسپتالوں یعنی جنرل، میو، جناح اور سروسز وغیرہ نہیں جانا چاہتے کیونکہ یہاں خدمات اور سہولیات کا معیار دوسرے ہسپتالوں سے کئی گنا بہتر ہے۔ میرا سوال تھا کہ یہ عین ممکن ہے کہ ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی کی مینجمنٹ سے واقعی یہاں کی مینجمنٹ زیادہ بہتر ہوجائے تو جواب میں رائے ونڈ اور مظفر گڑھ کے ہسپتالوں کی افسوسناک مثالیں تھیں۔

ہوسکتاہے کہ جہانگیر ترین ، سوشل سیکورٹی کے منافع بخش اداروں پر نظررکھنے کے الزام کو بھی شوگر مافیا جیسا ہی الزام سمجھیں مگر سوال ہے کہ کیا سوشل سیکورٹی کے ہزاروں ملازمین جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس وقت ہسپتال اس مبینہ نجکاری اور مجوزہ ٹھیکیداری نظام کے خلاف سیاہ بینروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے تمام چھوٹے بڑے رہنما اس وقت بہت جلدی میں ہیں کہ جو ہاتھ آتا ہے سمیٹ لیا جائے کیونکہ سال ، ڈیڑھ سال کی ناقص ترین کارکردگی کے بعد دوبارہ ان کے اقتدار میں آنے کے امکانات انتہائی کم ہوتے چلے جا رہے ہیں مگر اس کے باوجود مجھے خوشی ہو گی اگر جہانگیر ترین ان الزامات سے انکا رکر دیں کہ ایک بہترین کارکردگی دکھانے والے منافع بخش سرکاری ادارے کو اپنی پرائیویٹ کمپنی کے حوالے کرنا چاہ رہے ہیں، نئی بات میڈیا گروپ میں میرے پروگرام کا پرائم ٹائم اور اخبار میں کالم کے لئے مختص جگہ ان کی وضاحت کے لئے موجود رہے گی۔ میری خواہش ہے کہ وہ دوٹوک اندازمیں کہہ دیں کہ وہ سوشل سیکورٹی کے ادارے کو اپنی پرائیویٹ کمپنی کے حوالے کرنے کے لئے اپنے بے پناہ او رلامحدوداختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کر رہے اور نہ ہی ان کے نام پر اربوں روپے کے بجٹ اور اثاثوں کے مالک اس شاندار کارکردگی کے حامل ادارے کو اونے پونے ہتھیانے اور ہڑپ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ مجھے خوشی ہو گی اگروہ ہمارے ساتھ سوشل سیکورٹی ہسپتال چلیں اور وہاں مزمل اشرف، ڈاکٹر صفدر بلوچ، ڈاکٹر فریدہ علی، ڈاکٹر عالیہ مظفر، میاں رب نواز،اشتیاق احمد گجر، محمد اکبر جاوید، اختر علی مکی، رفعت بشیر،جاوید کاظمی سمیت سوشل سیکورٹی ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداروں اور ایگزیکٹو ممبران کے ساتھ چائے کا ایک کپ پئیں اور وہاں اپنے صوبائی وزیر انصر مجید سمیت سب کے تحفظات اور خدشات دور کردیں۔


ای پیپر