جدت چُرا کے لے گئی شرم وحیاتمام
26 جنوری 2019 2019-01-26

کہاں تصورِ وجود کائنات ۔۔کہاں وجہِ وجودِ کائنات پر اعتماد ۔۔ کہاں نظامِ ماسواء کا یقین اور کہاں’کمرشل ورلڈ‘ کے سائنس دانوں کا اعتقاد ۔۔۔کہاں رب کی ربوبیت اور تصوف کی باتیں اور کہاں عریانیت سے بھرپوراشتہارات کی افتاد۔۔۔اسلاف کے وجود کے انکاری ۔۔۔خود اپنے وجود کے پجاری۔۔۔ دلیل کے نام پر دعوے۔۔۔ہر دعوے کے اوپر دلائل ۔۔۔ پھر بھی رب کے بنائے ہوئے نظام سے انکارکے قائل ۔۔ جو علوم تخلیقِ کائنات اور میڈیاکو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے رہے ۔۔ اور بازاری پراڈکٹس کا منجن ’بچیوں ‘کو بازاروں میں لا کھڑا کر کے کے بیچتے رہے ۔۔ ۔۔جو مالکِ کون و مکاں کے نشاں اور زیورِوجہء کائنات کو ’کارپوریٹ کلچر ‘ کی آڑ میں ڈھیر کرنے میں سر بکفن رہے ۔۔ جوکارپوریٹ پراڈکٹس کو کمرشلزکے ذریعے ’زیر‘ کرنے کی لگن میں مگن رہے ۔۔ انہیںیا ان کی ثقافت کو کسی کے جنبش ابرو یا نوکِ قلم نے نہیں ۔۔انہیں کسی کے غزوے یا کسی کی جنگ نے نہیں ۔۔انہیں امام حسینؓ کی تلوار یاعباسؓ کے عَلم نے نہیں ۔۔۔انہیں کسی پیر۔۔ یا۔۔ بابا۔۔ کے پانی پر دم نے نہیں ۔۔ انہیں اپنے ہونے کی خوشی یا کسی کے نہ ہونے کے غم نے نہیں ۔۔۔ انہیں جنات یا خلائی مخلوق کے سائے نے نہیں۔۔انہیں خدا کے ہونے یا نہ ہونے کی رائے نے نہیں ۔۔۔ انہیں تسخیر کائنات کے رازوں سے جڑی سائنس نے نہیں ۔۔ ۔۔ بس ۔۔۔سیکولر سوچ اور خوش فہمی میں’حرمت وعصمت ‘ کا پیکر یعنی اپنی عورتوں کو بیچ بازار میں لا کھڑا کرنے کی روایت نے آسمان سے زمین کے اندر دے مارا ہے ۔۔زمین کے اندر سے دفن ثقافت اور اسلاف کی روایت چیخ چیخ کر بین کر رہی ہے کہ ہے کوئی عمر ابن فاروق رضی اللہ عنہ یا فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار جولاالہ ال اللہ کے نام پر وجود میں آنے والی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کمرشلزم کے نام پر بکتی بنت حوا کی رداوں کو پامالی سے بچائے ۔ہے کوئی مائی کا لال جو کارپوریٹ ورلڈ میں کمرشلز کے نرغے میں گھری عورت کو بکاو مال بننے سے بچائے ۔۔۔ حد تو یہ ہے کہ عورت کی حرمت کے داعی اور انسانی حقوق کی علمبردار این جی اوز تک کی آنکھیں اس وقت پتھرا جاتی ہیں جب عزت وتکریم کے لائق پاکیزگی کا مجسم یعنی صنف نازک کے خدوخال اور اس کے استعمال کے ذریعے کارپوریٹ دنیا میں مصنوعات بیچنے کی آڑ میں عجیب ہیجان بپا کیا جاتا ہے۔ پتھروں کے دور سے 2018تک کے سفر میں تو صدیاں بیتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں لیکن اپنے اسلاف کی اقدار سے روگردانی کے سفر میں ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں ۔فرق یہ ہے کہ پتھروں کے دور میں عورت کو لونڈی بنا کر سربازار نیلامی کے لئے لاکھڑا کیا جاتا تھا ، آوازیں کسی جاتی تھیں ، بولی لگائی جاتی تھی ، دام بڑھائے جاتے تھے اوریوں بھیڑ بکری کی طرح کسی کی بہن یا بیٹی کو ہانک دیا جاتا تھا ۔ لیکن اب مصنوعات کے دام لگتے ہیں ، پیکجز متعارف کرائے جاتے ہیں ، تعارفی قیمتوں کا چرچاہوتا ہے اور مصنوعات کے کارپوریٹ سیکٹر کی اس ریس میں’ عورت‘کو عمل انگیز یا catalystکے طور پر استعمال کرتے ہوئے بیچ دیاجاتا ہے ، اور کیوں نہ ہو ، مصنوعات کی جس مارکیٹ کا کم و بیش دوبلین ڈالرپراڈکٹ کی تشہیر کے نام پر خرچ ہوتا ہو اس مارکیٹ کے بیوپاری کو کیا غرض کہ مصنوعات بیچنے کے داو بیچ میں عورت ذبح ہو رہی ہے ، اس کا کردار یااس کی اقدار ، اسے محض اپنے پراڈکٹس کو بیچنا ہے چاہے اس میں کسی کا کتنا نقصان ہی کیوں نہ ہو ۔ ’کارپوریٹ ورلڈ‘ پاکستان جیسے

اسلامی معاشرے کواعتدال پسندی ، جدت پسندی یا modernizationکے نام پر اپنے اجداد کی اقدار سے دور کررہا ہے ۔ ہمارا معاشرہ دھیرے دھیرے De-sensitizeہورہا ہے۔ایک وقت تھا جب’ بہن جی‘ ٹائیپ کے کپڑوں اور اوڑھنے بچھونے کا رجحان تھا ، گھروں میں فیملی سسٹم رائج ہوا کرتا تھا ، گھر کاسربراہ پانی کا گلاس مانگتا تھا تو اہلیہ سر پہ دوپٹہ لئے اپنے مجازی خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جی حضور کہتی تھی ، بیٹی اسکول یا کالج کے لئے نکلتی تھی تو سر پر دوپٹہ ، ستر پوشی اور خالص مشرقی لباس اس کا زیور کہلاتے تھے ۔ محلے کے اوباش نوجوان بھی ایسی بچیوں کا احترام کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے ۔ ٹی وی پر ڈرامے لگتے تھے تو ساحرہ کاظمی ، نیلما حسن ، مشی خان اور بشری انصاری جیسی فنکاروں کے روپ میں مشرقی اقدار کو پروان چڑھاتی کہانیاں ہمارے رویوں کی درستگی کا سامان کرتی تھیں، کہانی کے درمیان اگر کوئی وقفہ آجاتا تھا تو ’کام ۔۔ کام ۔۔ کام ۔۔دن رات کریں ہم کام ۔۔۔ جب کام سے تھک جائیں ۔۔ تو خوب کریں آرام ‘ ۔۔۔ یا ۔۔۔ ’ اے خدا میرے ابو سلامت رہیں ‘ جیسے شہرہ آفاق اشتہارات کے بول کانوں میں رس گھولتے تھے ۔ ملک کے واحد سرکاری ٹی وی چینل پر محض نازیہ حسن کے نغموں کو دوام حاصل تھا ۔ ’ ٹالی دے تھلے بیہ کہ‘ جیسے نغموں میں ثقافت کا رنگ نمایاں ہوتا تھا ۔ بعض گھروں میں اس طرح کے نغموں تک کوباآواز بلند سنا جانا معیوب سمجھا جاتا تھا ۔پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا ہماری حساسیت پر تالے پڑتے گئے ۔ سر پر دوپٹہ اوڑھے ہاتھوں میں کتابیں تھامنے کا کلچر ہمیں ’ باجی کلچر‘ نظر آنے لگا ۔ یہ دور روبینہ اشرف ، مرینہ خان اور حدیقہ کیانی جیسے کرداروں کا تھا ۔سر سے دوپٹہ اتر چکا تھا ، modernizationکی چکاچوند ہمیں گھیرے ہوئے تھی ۔ جینز اورٹی شرٹ میں ایسے کرداروں کو دیکھنا معیوب ضرور لگتا تھا لیکن یہ کہہ کر حالات پر پردہ ڈال دیا جاتا تھا کہ ہم اکیسیویں صدی میں داخل ہورہے ہیں ، اب ہمیں مغرب سے مقابلہ کرنا ہے ، دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم وہیں کے وہیں ہیں۔۔ طفل تسلیوں کے بیچ اقدار سینڈوچ بن کر رہ گئی اور وقت ہمیں روندتا چلا گیا ۔اکیسیویں صدی شروع ہوئی تو کمرشل میڈیا پروان چڑھنے لگا ، سرکاری ٹی وی پر نوبجے کی خبریں سننے کا رجحان ماند پڑنے لگا ۔اب پرائیویٹ نیوز میڈیا کا طوطی بولتا تھا ، جدید ساونڈ افیکٹس اور ماڈرن لباس زیب تن کئے خوبرو حسیناوں اور جوانوں نے خبریں پڑھنے کا ایک نیا رجحان متعارف کرایا ۔ خبروں کے بیچ میں کبھی وقفہ آتا تو موبائل کمپنیوں کے پیکیجز کے اشتہارات میں ماڈرن ماڈلز کی چکا چوند نے نوجوان نسل کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔ ٹیلی کمیونیکشن انڈسٹری کی واہ واہ ہوئی لیکن اقدار کی گرتی ہو ئی دیوار کو ایک اور دھکا دینے کا باعث بنی ۔ اور پھرتیزی سے de-sensitize ہوتے معاشرے میں اخبارات کے فرنٹ پیج پر نیم برہنہ لیٹی ہوئی نرگس فخری کی کمرشل تصاویر نے تہلکہ مچا دیا ۔ لوگوں کو کچھ دیر کے لئے تو یہ تصاویر بری لگی لیکن انہیں بھی یہ منطق دے کر پاس کر دیا گیا کہ کیبل پر بھارتی میڈیا کیا کچھ نہیں دکھاتا ۔ تو اپنے کمرشلز پر ایسی تنقید کیوں ۔مسلسل گرتی اقدار کے سفر کے کچھ حصے کو رہنے دیجئے ۔اب سن2018ہے اور4Gکا دور ہے ۔ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کے اس دور میں تشہیر کا میعار بھی 4Gجیسا مبہم اور ’دلآویز‘ہے۔ گزشتہ رات ناچیز لاہور ڈیفنس میں لانگ ڈرائیو کے لئے نکلا تو ایک سگنل پراسی کمپنی کے 4Gپیکیج پر مبنی سائن بورڈکو آویزاں دیکھا جس نے کسی دور میں نرگس فخری کی نیم برہنہ تصاویرکو اخبارات کے فرنٹ پیج پراپنے پراڈکٹ کی تشہیر کے لئے لانچ کیا تھا ۔ یہ سائن بورڈ4Gپیکیج سے کہیں زیادہ چست پھٹے ہوئے لباس میں ملبوس ماڈل کے کسی اور’ پیکیج‘کی تشہیر پر مبنی دکھائی دے رہا تھا ۔میں اور میرا ڈرئیور کافی دیر تک اس اشتہار میں پروڈکٹ کو ڈھونڈتے رہے ۔ میرا ڈرائیور عمر رسیدہ اور جہاں دیدہ ہے ۔ اس نے ایک طائرانہ سی نگاہ اس سائن بورڈ پر ڈالی اور بولا ’ صاحب ! آپ تو ٹی وی میں ہیں ۔ یہ اس طرح کے سائن بورڈز سے ہم کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کس طرح کے لوگ ہیں ‘۔ میرے پاس میرے ڈرائیور کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا ۔گھر واپس آیا تو میری ملازمہ کی بیٹی جو کسی طور متوسط طبقے سے تعلق نہیں رکھتی ، اپنی ماں سے ویسی ٹی شرٹ اور پھٹی ہوئی جینز کا مطالبہ کررہی تھی جیسی سائن بورڈ پر ماڈل نے زیب تن کر رکھی تھی ۔ میں رات بھر اس بات کو سوچتا رہاکہ کمرشل میڈیا ہماری نسلوں کوکس سمت میں ایجوکیٹ کر رہا ہے ۔کہیں ہم ضرورت سے زیادہ De-Sensitizedتو نہیں ہو چکے ہیں ۔ کیاہمارے لئے بے باکی ، عریانی اور modernizationمیں کوئی فرق نہیں رہا ۔برانڈز کی آڑ میں ہم تختہ مشق کیوں بنتے جا رہے ہیں ۔ بظاہر ہم ترقی کر رہے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ پستی کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں ہمیں اپنے احساس اور شعور کو جگانا ہوگا ۔ اچھے اور برے میں تمیز اور تفریق کو مقدم رکھنا ہوگا ۔ ورنہ دنیا کی گم ہوتی قومیتوں میں ہمارا نام تک نہیں رہے گا۔اس تحریر کے بعد شاید میرے پڑھنے والوں میں سے کئی مجھے بغیر داڑھی والا مولوی ڈکلئیر کر دیں ۔ مجھے اس سے بھی فرق نہیں پڑتا ۔میری طرف سے پوری قوم کو باجی سے 4Gتک کا یہ سفر مبارک ، لیکن اس سفر کے شغل سے باہر نکلیں تو کچھ دیر کے لئے سوچئے گا ضرور۔ طالب دعا


ای پیپر