مائنڈ سیٹ ٹوٹ رہا ہے
26 جنوری 2019 2019-01-26

ہم نے پاکستان بنانے والی بنگالی سیاسی قیادت کو ایبڈو جیسے قوانین سے ختم کر دیا حالانکہ یہ قیادت اس وقت کی مقتدرہ کے ساتھ چلنے کو تیار تھی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نہ صرف کمانڈر انچیف تھے۔وزیر دفاع بھی تھے اور اس حیثیت میں کابینہ کے رکن تھے اور کابینہ اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے۔ میجر جنرل اسکندر مرزا نے چھ حکومتیں تبدیل کیں۔ چھ وزرائے اعظم کو تبدیل کیا لیکن سیاستدان اسکندر مرزا کو بھی برداشت کرتے رہے۔ یہی عالم گورنر جنرل ملک غلام محمد کا تھا۔ پاکستان بنانے والے سیاستدانوں کی یہ محب وطن نسل اس وقت کی مقتدرہ کے ساتھ چلنے کو ملکی ترقی، اتحاد اور دفاع کے لیے ضروری سمجھتی تھی لیکن فیلڈ مارشل ایوب خان نے سیاستدانوں کی اس نسل کو سیاست سے نااہل کر دیا۔ نتیجے میں جو خلا پیدا ہوا اسے شیخ مجیب الرحمن نے پورا کیا اور نتیجہ سب نے دیکھا بلکہ یوں کہنا چاھیے۔ شیخ مجیب الرحمن بھی ملک توڑنے یا تقسیم کرنے کے حق میں نہ تھا جب شیخ مجیب الرحمن کو جیل میں ڈالا گیا تو یہ اس وقت ہوا کہ عوامی لیگ کی قیادت انتہا پسندوں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ ہمارے ازلی دشمن نے اس سیاسی ابتری سے فائدہ اٹھایا اور ملک دولخت ہو گیا لیکن ہم باز نہیں آئے۔ ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگایا جس نے ایٹمی پالیسی سے مقتدرہ کو مضبوط کیا۔ ایک متفقہ آئین سے ملک کی بنیادوں کو کھڑا کیا۔ اسلامی امہ میں اتحاد قائم کیا اور پہلی بار تیل کا ہتھیار استعمال ہوا۔ ہم نے بے نظیر بھٹو کو قتل کیا جس نے میزائل ٹیکنالوجی سے مقتدرہ کو مضبوط کیا۔ ایک خاتون وزیراعظم کے طور پر دنیا میں پاکستان کا ایک لبرل امیج قائم کیا۔ اپنے اوپر اور اپنے خاندان کے ساتھ ہوئی تمام زیادتیوں اور مظالم کے باوجود مقتدرہ کے ساتھ چلنے کو راضی ہوئیں۔ اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دیا۔ جنرل مشرف کو قبول کیا لیکن ہم نے ان کو زندہ رہنے نہیں دیا۔ ہم نے مقتدرہ کے پرانے دوست نواب اکبر بگٹی کو شہید کیا جس نے ہمیں گوادر بندرگاہ لے کر دی۔ یہ بندرگاہ اگرچہ وزیراعظم فیروز خان نون کے زمانے میں حاصل کی گئی لیکن نواب اکبر بگٹی بطور وزیر دفاع اس گفتگو اور ڈیل کے ایک اہم ممبر تھے۔ بلوچستان کے گورنر رہے۔ بلوچستان کے چیف منسٹر رہے لیکن ہم نے انہیں وہاں مارا جہاں انہیں معلوم بھی نہ ہو سکا۔ ہم چار مرتبہ نوازشریف کو جیل پھینک چکے ہیں۔ جلاوطن کر چکے ہیں۔ جتنا ممکن تھا اسے رسوا کر چکے ہیں۔ تا حیات سیاست سے نااہل کر چکے ہیں۔ اس کی بیٹی کو سلاخوں کے پیچھے ڈال چکے ہیں۔ وہ نوازشریف جس نے ایٹمی دھماکہ کیا۔ سی پیک لایا۔ لڑاکا طیارے اور ٹینک لایا اور مقتدرہ کو مضبوط کیا۔ اور ملک کو ترقی اور مضبوطی کے راستے پر ڈالا لیکن ہمارے انتقام کی آگ ابھی بھی نہیں بجھ رہی۔ ہم آصف علی زرداری کی جوانی جیل میں برباد کر چکے ہیں جو آج بھی مقتدرہ کو اکاموڈیٹ کرنے کے لیے تیار

ہے ۔ ہم نے مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی کو اسمبلی نہیں آنے دیا۔ اے این پی دہشت گردی کے ہاتھوں ختم ہو گئی۔ ہم نے اپنی ہی پروردہ متحدہ کے حصے بخرے کر دیے۔ ہم شہبازشریف کو مسلسل آزمائش میں ڈال رہے ہیں۔ یہ وہ سیاسی قیادت تھی جو مقتدرہ کی ہمنوا تھی۔ مقتدرہ کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتی تھی لیکن ہم نے ان کو ختم کرنا جاری رکھا کیونکہ یہ قیادت جواب میں احترام مانگتی تھی لیکن ہم یہ احترام دینے کو تیار نہیں تھے۔ اب جو خلا پیدا ہو رہا ہے ۔ اسے جو سیاسی قیادت پورا کرے گی۔ اس کی جھلکیاں بلوچستان، فاٹا ، کے پی کے، سندھ اور پنجاب میں نظر آ رہی ہیں۔ تحریک تحفظ پشتون کے منظور پشتین کی مثال سامنے ہے ۔ وہ آپ سے احترام نہیں مانگیں گے۔ سوشل میڈیا پر چرچا ہے ۔ حقائق سے آگاہی ہو رہی ہے ۔ شعور آ رہا ہے ۔ بیداری کی لہر چل رہی ہے ۔ آپ فرنٹ پر کھیل رہے ہیں اور یہی آپ نے غلطی کی ہے ۔ درمیان سے ریت کی وہ بوریاں اٹھا دی ہیں جو روائتی طور پر آپ کے ہمنوا سیاستدانوں کی شکل میں آپ کو تحفظ دیتی تھیں۔ براہ راست فائرنگ سے بچاتی تھیں۔ جو نئی سیاسی قیادت جنم لے رہی ہے ۔ وہ آپ کے کنٹرول میں نہیں ہو گی اور یہی وہ تبدیلی ہے جو وقت لے کر آ رہا ہے ۔ اگر آپ پروسیس کو فطری بہاؤ پر چلنے دیتے۔ تب بھی یہی ہونا تھا۔ آپ کو سول سپریمیسی تسلیم کرنا پڑنی تھی لیکن آپ خوفزدہ ہو گئے اور آپ نے پروسیس کو مکمل اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ وقت کی طنابیں کھینچنے کی کوشش کی۔ تاریخی قوتوں کے بہاؤ کو اپنی مرضی کی سمت دینے کی پلاننگ کی۔ آپ بھول گئے۔ وقت کسی کے کنٹرول میں نہیں اور آپ کی اس جلد بازی نے اس وقت کی رفتار بڑھا دی ہے ۔ آپ کب تک یہ کھیل کھیلیں گے۔ ایک دن سانس پھول جائے گا۔ سول سپریمیسی کا سورج طلوع ہو گا اور یہ آپ کی اپنی کوششوں سے ہو گا۔ آخر ایک دن اس ملک کو ایک سکیورٹی اسٹیٹ سے ویلفیئر اسٹیٹ میں تبدیل ہونا ہے ۔ آپ نے وہ سیاسی قیادت ہی ختم کر دی جو آپ کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتی تھی اور عام لوگ بہت تیزی سے شعور کی منزلیں طے کر رہے ہیں۔ ستر سالہ مائنڈ سیٹ ٹوٹ رہا ہے ۔


ای پیپر