علم و ادب کی خدمات !
26 جنوری 2019 2019-01-26

یہ پروجیکٹ اوورسیز پاکستانیوں کی وطن عزیز سے محبت کا کھلااعتراف ہے اور ہمیں بہر حال اس اعتراف کو سراہنا اور ان خدمات کی داد دینی چاہیے۔ہم پاکستان میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں اتنا نہیں سوچتے جتنا یہ لوگ ہزاروں میل دور بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں ۔ یہ لوگ حالات سے مجبور ہو کر یا بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک چلے تو جاتے ہیں لیکن ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان کی سانسیں پاکستان کی یادوں سے آکسیجن کشید کرتی ہیں ۔یہ باہر بیٹھ کر ہر وقت یہی سوچتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں ۔ طلحہ زبیر خان بھی ایسی ہی ایک پاکستانی ہیں ، یہ عرصہ قبل پاکستان سے امریکہ شفٹ تو ہوئے لیکن ان کا دل اور دل کی دھڑکنیں پاکستان کے لیے دھڑکتی رہیں اور 2011میں یہ دھڑکنیں علم و ادب کے روپ ڈھل گئیں ۔ طلحہ زبیر خان اور ان کے دوست پاکستان کی تعلیمی صورتحال سے واقف تھے ،یہ پاکستان کے گورنمنٹ سکولوں کی حالت زار کے بارے میں بھی فکر مند رہتے تھے چنانچہ یہ2011میں اکٹھے ہوئے اور اپنے حصے کی شمع جلانے کے لیے علم و ادب کی بنیاد رکھ دی ۔انہوں نے آٹھ سال پہلے امریکا میں بیٹھ کر سرکاری سکولوں کی بہتری کے جس منصوبے کا آغاز کیا تھا آج یہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں میں علم وا دب کی سرگرمیاں جا ری ہیں اور اب تک اڑتیس ہزار تیس اسٹوڈنٹ اورتین سو اسی اساتذہ ان سے مستفید ہو چکے ہیں ۔یہ لوگ اب تک ایک سو ستاون پروجیکٹ مکمل کر چکے ہیں اور پندرہ پروجیکٹس پر کام جاری ہے ۔ علم و ادب کی ساری ٹیم اور ممبران بغیر کسی معاوضے کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ گورنمنٹ سکولوں کے انفراسٹکچر کی بحالی ، سٹوڈنٹ کونسلنگ، پرفارمنس ایوارڈ، سپورٹس، فرنیچر، صاف پانی کی فراہمی ، اساتذہ کی تنخواہ اور سائنس لیبارٹریز کے شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ علم و ادب کے موجودہ صدر عثمان اوپل صاحب ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں ۔ دسمبر کے آخری عشرے میں’’ علم و ادب ‘‘ کی طرف سے لاہور سمن آباد کے علاقے میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں میٹرک میں امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طلباء میں انعامات تقسیم کیے گئے ۔ عثمان اوپل صاحب امریکہ سے تشریف لائے تھے اور

پاکستان میں حسن شوکت کو آ رڈینیٹر کے فرائض سرا نجام دہے رہے تھے ،حسن شوکت ایک سلجھے ہوئے نوجوان ہیں ،دھیمے لہجے اور بااخلاق شخصیت کے مالک ہیں،انہوں نے مجھے بھی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ، یہ بڑی شاندار تقریب تھی ،سرکاری سکولوں کے باصلاحیت اور امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے کیش انعامات تقسیم کئے گئے ۔

یہ لوگ کتنا اہم اور شاندار کام کر رہے ہیں اس کے لیے آپ کو پاکستان کی تعلیمی صورتحال پر نظر ڈالنی ہو گی ، اس وقت پاکستان میں پرائمری سکولوں کی مجموعی تعداد 145829ہے جس میں سرکاری سکولوں کی تعداد 125573اور پرائیویٹ سکولوں کی تعداد 20256 ہے۔مڈل سکولوں کی کل تعداد 45680ہے۔ ہائی سکولوں کی تعداد 31740 ہے جس میں 12732سرکاری اور 19008 پرائیویٹ ہیں۔کالجز کی کل تعداد 5470 ہے جس میں سرکاری کالجوں کی تعداد 1865 اور پرائیویٹ کالجزکی تعداد 3605 ہے۔ ڈکری کالجز کی مجموعی تعداد 1418 ہے جس میں 1259 سرکاری اور 159 پرائیویٹ ہیں۔ یونیورسٹیز کی کل تعداد 163 ہے جس میں91سرکاری جبکہ 72 پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کی مجموعی تعداد 3746 ہے جس میں سرکاری اداروں کی تعداد 1123 اور 2623 پرائیویٹ ادارے ہیں۔ تربیت اساتذہ کے کل 209 ادارے ہیں جن میں سرکاری اداروں کی تعداد 156 اور پرائیویٹ اداروں کی تعداد 53 ہے۔اب آپ ان تعلیمی اداروں کی صورتحال ملاحظہ فرمائیں، صرف پنجاب کے بیس ہزار سرکاری سکول پانی، واش روم، بجلی، باؤنڈری وال اور استاد جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ ایک کروڑ تیس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے‘ سکولوں میں حاضری کی شرح صرف چونسٹھ فیصد ہے،صرف پچھلے آٹھ سالوں میں دس ہزار سکول بندہوئے اور تین سو سے زائد سکول نجی شعبے کے حوالے کیے گئے۔13فیصد سکول بیت الخلا، 14فیصد بجلی ،6فیصد چار دیواری ،15فیصد پینے کے صاف پانی اور 29فیصد اساتذہ کی کمی کا شکار ہیں۔ ملک کے مجموعی ناخواندہ بچوں کا 52فیصد پنجاب میں ہی، یہ اس صوبے کی صورتحال ہے جودیگر صوبوں کی نسبت ذیادہ ترقی یافتہ شمار ہوتا ہے اور پنجاب سپیڈ کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ یو این او کے پروجیکٹ ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کے تحت 2015 تک شرح خواندگی کو 88فیصد اور شرح داخلہ کو 100فیصد تک بڑھانا تھا مگر یہ اہداف 2019تک حاصل نہیں کیے جا سکے۔ پنجاب کے بعدخیبرپختونخواہ کے35فیصد سکول پانی، 48 فیصد بجلی، 35فیصد واش روم اور 27فیصد باؤنڈری وال سے محروم ہیں۔صرف فاٹا میں ہر سال 6 لاکھ بچے سکولوں میں داخل ہوتے ہیں اور ان میں سے 2 لاکھ 22 ہزاربچے سکول چھوڑ جاتے ہیں۔بلوچستان میں 50فیصد سکول پانی، 48فیصد واش روم، 79فیصد چاردیواری، 38فیصد بجلی اور 93فیصد سکول اساتذہ کی مطلوبہ تعداد کی ضرورت سے محروم ہیں۔سندھ میں 55فیصد سکول صاف پانی، 61فیصد واش روم، 48فیصد چاردیواری اور 17فیصد بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔مجموعی طور پر پاکستان میں سکول جانے کی عمر کے کل بچوں میں سے 44فیصد بچے سکول نہیں جاتے جن کی تعداد 2کروڑ 28لاکھ 40ہزارہے ،ان میں بچیوں کی تعداد 1کروڑ 21لاکھ 60ہزارہے جو کل بچیوں کی تعداد کا 49فیصد بنتی ہے۔ پنجاب میں سکول جانے والے بچوں میں سے 44فیصدیعنی ایک کروڑتیس لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، خیبرپختونخوا ہ کے34فیصد یعنی 23لاکھ 85ہزار، سندھ کے 52فیصدیعنی 64لاکھ 13ہزاراور بلوچستان کے 70فیصد یعنی 19لاکھ 12ہزاربچے سکول سے باہر ہیں۔ اسلام آباد کے 12فیصد ،گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے 47فیصد بچے سکول سے باہر ہیں۔اس سے بھی افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان خطے میں تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے۔ انڈیااپنی تعلیم پر جی ڈی پی کا 3.8فیصد ،بھوٹا ن6فیصد، نیپال 4.7فیصد جبکہ پاکستان صرف 2.5فیصد خرچ کرتا ہے۔یہ پاکستان کی تعلیمی صورتحال ہے ، ہونا تو یہ چاہئے تھے کہ پاکستان میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جاتی لیکن ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں ۔جب تک ہم تعلیم کے شرح بلند نہیں کرتے تب تک ہم دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکیں گے، تعلیم کے بغیر سی پیک یا کوئی اور معجزہ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا نہیں کر سکتا۔ ایسی صورتحال میں علم و ادب کی ٹیم جیسے لوگ جو خاموشی سے اپنے حصے کا چراغ جلا رہے ہیں وا قعی داد کے مستحق ہیں ۔ یہ ہزاروں میل دور رہ کر بھی اپنی مٹی سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ اپنے ملک کو بھی دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کے یہ جذبے اور خدمات واقعی قابل تحسین ہیں اور ہمیں بہر حال ان کی خدمات کا اعتراف اور ایسے لوگوں کو داد دینی چاہئے۔


ای پیپر