Joe Biden, US President, Saudi Arabia, King Salman, Khashoggi, murder report
26 فروری 2021 (14:10) 2021-02-26

ریاض: سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبد العزیز کا امریکی صدر جو بائیڈن سے ٹیلی فونک رابطہ ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

عرب میڈیا کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جوبائیڈن کو منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی ۔ دونوں ممالک نے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے خطے اور دنیا میں سلامتی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا۔

شاہ سلمان نے خطے کے اہم امور اور مشترکہ مفادات کی پیشرفت پر بھی بات چیت کی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں اس لیے سعودی فرمانروا چاہتے ہیں کہ موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ بھی اُن کے تعلقات اچھے رہیں۔ لیکن ٹرمپ کے مقابلے میں جوبائیڈن کی عرب نواز پالیسیاں بالکل مختلف ہیں ، ٹرمپ نے جہاں عرب ممالک کو اپنے دور حکومت میں خوب نوازا ، بائیڈن انتظامیہ نے آتے ہی حوثی باغیوں سے متعلق تمام فوجی اقدامات واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے ، جوبائیڈن انتظامیہ نے جہاں حوثی باغیوں کیخلاف طاقت کے استعمال کو روکنے کا کہا ہے وہیں امریکہ نے حوثی باغیوں کو دہشتگردوں کی لسٹ سے نکالنے کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔

واضح رہے سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کیخلاف امریکہ سمیت 8 ملکوں کا اتحاد بنایا تھا اور ان کیخلاف جنگی اقدامات جاری رکھے ہوئے تھے لیکن نو منتخب امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب پر بجلیاں گراتے ہوئے اس اتحاد سے باہر نکلنے کا اعلان اور یمن کے حوثی باغیوں کو دہشتگردوں کی لسٹ سے بھی نکال دیا ہے ،اس کے بعد قوی امکان ہے یمن پر لگائی گئی پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی ۔

امریکی محکمہ خارجہ کے حکام کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی تحریک سے متعلق یہ فیصلہ سابق امریکی انتظامیہ کے آخری وقتوں کے فیصلے کی وجہ سے انسانی بحران کے نتائج کی وجہ سے ہے جس کے حوالے سے اقوام متحدہ اور انسانی گروپوں نے بھی واضح کیا تھا کہ اس سے دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا ہوگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے یمن کو سب سے بڑے انسانی بحران کا شکار ملک قرار دیا ہے جس میں 80 فیصد عوام ضرورت مند ہیں۔


ای پیپر