Master plan, Pakistan, poor performance, PM Imran Khan, PTI Government
26 فروری 2021 (12:08) 2021-02-26

پی ڈی ایم کے بیانیہ نے رنگ تو دکھایا ہے ۔ ملک چلانے کا ’’ ماسٹر پلان‘‘ تو عمران خان حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث پہلے ہی پٹ چکا ہے ۔ سیاسی مخالفین کو ملیا میٹ کرنے کی خواہش بھی دھری کی دھری رہ گئی۔ آزاد میڈیا کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں بھی کمی لانا پڑی۔ اس طرح عدالتی محاذ پر بھی کچھ شخصیات کو ‘‘ سدھارنے ‘‘ کے لیے جو دعوے کیے جارہے تھے وہ پورے نہیں ہو سکے ۔ اب یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اعمال کی خود ذمہ دار ہے۔ یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ کسی ادارے کو اب اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ حکومت پر کون ، کیسے نکتہ چینی کررہا ہے ۔ آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کے قیام کے بعد چھ ماہ کے لیے صرف اور صرف مثبت خبریں دینے کی جو ہدایت جاری کی گئی تھی ۔ وہ اڑھائی سالوں کے بعد واپس لے لی گئی۔ اگر اس دعوے کو درست مان لیا جائے تو ایسا کرنا کسی پر احسان نہیں بلکہ منصوبہ سازوں کی اپنی مجبوری ہے ۔ جو مسلسل اس بات کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے کہ حکومتی ترجمانوں مراد سعید ، شہباز گل ، فیاض چوہان وغیرہ وغیرہ کو الٹا سیدھا مواد فراہم کرکے اپوزیشن جماعتوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرائی جائے اور مخالفوں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہ دیا جائے ۔ وسا ئل کے اندھا دھند استعمال اور ضرورت سے زیادہ زور لگانے کے باوجود یہ چال کامیاب نہیں ہوسکی ۔ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر آنے والے شدید ردعمل نے سب کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کے مصداق سٹیک ہولڈرز اس یقین دہانی پر آسانی سے اب اعتبار کرنے کے موڈ میں نہیں ۔ ظاہر ہے اس کی ٹھوس وجوہات ہیں ۔ ماضی قریب میں اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتوں کو مختلف اوقات میں لارے لگا کر زبردست رگڑا لگایا گیا۔ ایک فریق نے اس لڑائی میں خواتین تک کو نہیں چھوڑا مریم نواز کو بار بار جیل میں ڈالا تو اسٹیبلشمنٹ سے تعاون پر آمادہ نہ ہونے پر آصف زرداری کو ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا۔ ابھی چند ہفتے پہلے ہی مولانا فضل الرحمن پر دبائو ڈالنے کی خاطر ان کے داماد کو نیب کی جانب سے نوٹس بھجوایا گیا۔ مولانا نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر بات ہماری عورتوں تک آگئی تو پھر ردعمل بھی ایسا ہوگا کہ دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔ اس انتباہ کے بعد نیب کے نوٹس نجانے کہاں گم ہوگئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پی ڈی ایم کا تیز دھار بیانیہ تحریک کے آغاز میں ہی کام کرگیا۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں سے الگ الگ رابطے کرکے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ فریقین کے درمیان بد اعتمادی کی گہری خلیج کے سبب کوئی صلح صفائی تو نہ ہوسکی البتہ وقفے وقفے سے سیز فائر ہوتا رہا۔ طاقتور حلقوں نے اس عارضی جنگ بندی کا بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ سو بدگمانی میں اور اضافہ ہوا۔ ادھر ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتے دیکھ کر خود حکمران طبقات کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ چند ماہ پیشتر ایک اہم اجلاس کے دوران چار افسروں نے کھل کر رائے دی کہ حکومت کی خراب کارکردگی کے باعث سرپرستی کرنے والوں کی ساکھ بھی خراب ہورہی ہے۔ کیونکہ عوام میں یہ تاثر ہے کہ اس حکومت کو مسلط کیا گیا ہے۔ اس تاثر کی نفی ہونی چاہیے۔ اس کانفرنس کے بعد بھی بڑی حد تک پیار کا وہی سلسلہ چلتا رہا۔ کیونکہ خیال یہی تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اختلافی آوازوں میں کمی آجائے گی مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ شاید اب صورتحال پوائنٹ آف نو ریٹرن کی جانب جارہی ہے۔ پی ڈی ایم کا بیانیہ اور حکومتی نااہلی موجودہ نظام کو سہارا دینے والوں کے لیے دوہری مصیبت بن چکے جس سے چھٹکارا آسان نہیں۔ ایسا نہیں کہ طاقتور حلقے مکمل طور پر حکومت سے الگ ہو چکے ہیں ۔ اس وقت بھی کچھ کے مفادات اسی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ یہ بھی سوچتے ہونگے کہ جب نمائشی حکومت کا پردہ چاک ہوگیا تو اصل کرداروں سے جواب طلبی بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر ان چند عہدیداروں کی اس خواہش 

کے باوجود اب وہ پہلے والی فضا نہیں رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس نئی صورتحال میں حکومت خود کو کیسے سنبھالتی ہے۔ یہ حقیقت سب کو نظر آرہی ہے کہ پی ڈی ایم نے اپنی سرگرمیوں کی رفتار کم کرکے انداز بھی بدل لیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کی پہلے جیسی حمایت کے حوالے سے اداروں کے اندر بحث کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ آئی ایم ایف سے قرضے کی حالیہ قسط کے اجرا کے بعد عوام پر جو بوجھ پڑنے والا ہے وہ عوامی غم وغصے کی لہرمیں اضافہ کرے گا۔ اسی لیے پی ڈی ایم موجودہ نظام سے جان چھڑانے کے لیے فی الحال آصف زرداری فارمولے پر نظریں گاڑے ہوئے ہے۔ اسی فارمولے تحت سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو سینٹ کے الیکشن میں مشترکہ امیدوار بنایا گیا۔ دلچسپ بات تو ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے میدان میں آنے سے حکومتی صفوں میں جو کھلبلی مچی وہ کسی طور پر کم نہیں ہورہی۔ خوف و خدشات کے سائے دراز ہوتے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے اتحادیوں ق لیگ، جی ڈی اے، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی( باپ ) نے ساتھ نہیں چھوڑا مگر حکومت کے تمام چھوٹے بڑے عہدیداروں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ ایسے میں جب یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ نظر آرہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے تو حکمرانوں کی حالت اور پتلی ہو جاتی ہے۔ حکومت اور پی ڈی ایم کے درمیان لگی بازی میں اپوزیشن اتحاد کے پاس ایک نہیں دو ٹرمپ کارڈ ہیں۔ سینٹ الیکشن میں مطلوبہ نتائج مل گئے تو حکومت کا جھٹکا ہو جائے گا۔ ایسا نہ ہوا تو لانگ مارچ اور دھرنا حکومت کو ادھ موا کر ڈالے گا۔ بیڈ گورننس ، معاشی بحران ، نا اہلی کے سبب حکومتی مشینری پہلے ہی کام کرنے سے گریزاں ہیں۔ اعلیٰ سرکاری افسر یہ سمجھتے ہیں کہ اس نظام میں ان کی نوکریاں محفوظ ہیں نہ عزت - اپنے کام سے کام رکھنے والے ایک سینئر بیوروکریٹ کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے مایوس بیٹھے دیکھ کر وجہ جاننا چاہی تو بزدار صاحب کی ’’ خوبیوں‘‘ کا ذکر کرنا شروع کردیا ، پھر ساتھ ہی یہ رائے دی کہ اگر وفاق میں تبدیلی آجائے تو پنجاب میں بزدار سے بھی کام چل سکتا ہے کیونکہ خرابی کی اصل جڑ اسلام آباد میں ہے۔ یہ سوچ کسی ایک افسر تک محدود نہیں بلکہ افسر شاہی کے بڑے حلقے کی رائے کی عکاسی کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اسٹیبلشمنٹ کا خود کو غیر جانبدار ظاہر کرنا اپوزیشن کی تحریک کے لیے جلتی پر تیل کام دے سکتا ہے۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کی کوشش یہی ہوگی کہ خود کو حکومت سے الگ ظاہر کرکے اسی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس حکومت کے آنے کے بعد قومی حوالے  سے بعض بڑے اقدامات کیے جاچکے ہیں۔ مگر ان کا بوجھ اٹھانے پر کوئی تیار نہیں۔ اس موڑ پر حکومت کی صورت میں سامنے پڑا پردہ ہٹ گیا تو ان سے بھی جواب طلبی کی جا سکتی ہے جن کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہیں کرتا۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں پہلے ہی ان ایشوز کے حوالے سے سلگتے ہوئے سوالات اٹھا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف سیاسی چالیں آصف زرداری خود چل رہے ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ حکومت کو بتدریج کمزور کرکے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ویسے کچھ غیر متوقع واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ تو کہا ہی جارہا ہے کہ پنجاب میں حکومتی جماعت کے کئی ارکان ناراض ہیں۔ سندھ اور بلوچستان سے بھی اسی طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ مگر بڑا جھٹکا وزیر اعظم عمران خان کے دورہ پشاور کے موقع پر لگا جب پہلے سے طے شدہ ملاقات کے دوران 20 سے زیادہ ارکان اسمبلی غیر حاضر ہوگئے۔ جو لوگ ملاقات میں موجود تھے ان کے چہروں پر بھی خوشگوار تاثرات نہیں تھے ۔ سرکاری طور پر جو فوٹیج اور تصاویر جاری کی گئیں وہ کشیدہ ماحول کی عکاسی کر رہی تھیں۔ اگلے ہی روز پی ٹی آئی میں شامل سندھ اور بلوچستان کے دو سابق وزرائے اعلیٰ لیاقت جتوئی اور سردار یار محمد رند وزیر اعظم عمران خان پر برس پڑے۔ ایک طرف ملک کے اندر کھینچا تانی جاری ہے تو دوسری جانب بیرون ملک سبکی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے تازہ دورہ سری لنکا کو ہی دیکھ لیں۔ ان کے کولمبو پہنچنے سے پہلے ہی پارلیمنٹ سے خطاب کا پروگرام منسوخ کردیا گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق سری لنکا کی حکومت کسی بھی صورت میں بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔ یہ اندازہ لگایا گیا کہ پاکستانی وزیر اعظم کو پارلیمنٹ سے خطاب کا موقع دیا گیا تو وہ مسئلہ کشمیر پر بات کرسکتے ہیں سو سرے سے پروگرام ہی ختم کردیا گیا۔ ان دنوں کو رونا وبا کے باعث انتقال کرنے والے سری لنکن مسلمانوں کے جسد خاکی اسلامی تعلیمات کے مطابق سپرد خاک کرنے کی بجائے نذر آتش کردئیے جاتے ہیں ۔ عمران کے دورے سے پہلے تاثر دیا گیا کہ اب مسلمانوں کو تدفین کی اجازت ہوگئی۔ مگر حیرت انگیز طور پر دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی حکومتی بیان جاری ہوگیا کہ کو رونا سے جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کو نذر آتش کرنے کی پالیسی جاری رہے گی۔ تیسرا اہم واقعہ یہ ہوا کہ پاکستانی وزیر اعظم سے سری لنکا کے مسلم ارکان پارلیمنٹ کی طے شدہ ملاقات بھی کوئی معقول وجہ بتائے بغیر منسوخ کردی گئی۔ باقی رہ گئیں بڑے بڑے معاہدوں سے متعلق مفاہمت کی یاداشتیں تو ان کی حیثیت وہی ہے جو پی ٹی آئی کے انتخابی منشور حوالے آج کل پوری قوم دیکھ رہی ہے بلکہ بھگت رہی ہے ۔ اصل اور سنگین مسئلہ تو ہمیں اپنے سب سے بڑے دوست اور برادر ملک کے حوالے درپیش ہے ۔ تقریباً دس سال تک بڑے تعلیمی اداروں میں انگریزی پڑھانے والے ایک پاکستانی پروفیسر کو نیا کنٹریکٹ لیٹر جاری کرکے اچانک منسوخ کردیا گیا۔ ایک لیڈی ڈاکٹر کی ملازمت ختم کرتے ہوئے اسے بتایا گیا کہ ہمیں آپ کے ملک کے حوالے زیادہ حوصلہ افزائی نہ کرنے کی ہدایت مل چکی ہے۔ بہر حال اب تک تو پیش رفت اتنی ہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ’’ مثبت خبریں ڈاکٹرائن‘‘ کی ناکامی تسلیم کرلی ہے۔ دیکھتے ہیں باقی غلطیوں کا اعتراف کب تک کیا جاتا ہے۔ کیا بھی جاتا ہے یا نہیں۔ کیا پاکستان کے 22 کروڑ عوام دائرے میں ہی سفر کرتے رہیں گے۔


ای پیپر