Political turmoil, democracy, Pakistan, PTI government, PM Imran Khan
26 فروری 2021 (12:05) 2021-02-26

سب ہی جا نتے ہیں کہ ہمارے وزیرِ اعظم عمران کی ملک میں شجر کا ری کی جانب کس قدر تو جہ ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ جس ملک  کی اسی فیصد معیشت کا انحصا ر اس کی زرا عت پہ ہواس کے وا لی وارث کہا ں غا ئب ہیں؟ملک میں جمہوریت کے نام پر جو سیاسی خلفشار ہے، وہ کسی کی آ نکھ سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اس پر ہر شخص دل گرفتہ ہے۔ یہ بڑی المناک صورت حال ہے۔  بیروزگاری، مہنگائی نے عوام میں تحمل اور برداشت کے محاسن ختم کردیئے ہیں۔ جمہوریت بے عیب نہیں، داغ ندامت لیے زندہ ہے، انسانی فکر اور تخلیقی سوچ میں سنجیدگی کا عنصر کم ہوگیاہے، سیاست انحطاط پذیر ہے۔ پڑھے لکھے لوگ ٹی وی چینلز پر سیاسی گفتگو میں بلوغت، تفکر اور تدبر پر مبنی انداز بیاں کو ترستے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اچھی حکمرانی کے فقدان کے ساتھ ساتھ عوام اچھی گفتگو سے بھی محروم ہورہے ہیں۔ سیاسی مکالمہ دم توڑ رہا ہے، کس کس کی شکایت کی جائے۔ وقت آگیا ہے کہ اربابِ حکومت اس بحران اور اقدار کی شکست و ریخت کے عمل کو روکیں، عوام میں جذباتی ابھار بہت فروغ پا گیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سماجی مسائل او رمعاشی پالیسیوں کے بہتر نتائج سے مایوسی غریبوں میں فرسٹریشن کو بڑھاوا دیتی ہے۔ دال روٹی نہ ہو تو اخلاقیات کے سارے سنہرے اور دل نشیں لیکچر زہر لگتے ہیں۔ یہ بات حکمرانوں کے سوچنے کی ہے، غربت اور بیروزگاری مہنگائی سے مل کر سہ آتشہ بن جاتی ہے، پھر آدمی کسی بھی سماجی بدنظمی کا حصہ بن سکتا ہے۔عوام آج سوال کرتے ہیں کہ کیا ملکی جمہوریت عوامی احساسات اور جذبات سے لاتعلق ہوگئی ہے، اس کی رگوں میں عوام دوستی کی رمق باقی نہیں رہی اور خود ہی جواب دیتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار ارباب سیاست اور اشرافیہ ہے جنہیں عزت و دولت تو اس ملک نے دی مگر ان کی یہ دولت عوام کی خوش حالی اور آسودگی کے کام نہیں آرہی۔ملک کو جب پہلی بار جمہوریت نصیب ہوئی تو کیا اس میں مضمر خرابی کے ادراک میں حکومت نے کوئی دانستہ دیر کردی یا یہ وجوہ سسٹم کی ساخت او رجاری و ساری مس مینجمنٹ کی ہیں جس میں عوام سے کمٹمنٹ کا کوئی دریچہ نہیں کھل سکا۔ عوام افتادگان خاک تھے اور ویسے ہی رہے، دوسری وجہ سویلین اداروں کے عدم استحکام نے مضبوط جمہوری اداروں کی کونپلوں کو برگد، پیپل اور صنوبر جیسی بلندی عطا کرنے میں کوئی مدد نہیں دی، یہی تضاد عہد حاضر میں بھی موجود ہے۔ زرعی ملک میں کو ئی زرعی پالیسی نہیں، زرعی اصلاحات غائب ہیں۔ جمہوریت و آمریت کے دورانیے قوم کے سر سے گزرتے رہے، طرزِ حکمرانی کے استحکام، ارتقا اور عوام کی خدمت و آسودگی کے لیے جو نظام تشکیل پایا وہ بھی ’’کارواں گزر گیا غبار دیکھتے رہے‘‘ سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔ مبصرین او رتجزیہ کاروں کے مطابق اسمبلیاں بنتی ٹوٹتی رہیں، چہرے بدلتے رہے، نظام نہیں بدلا، عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پہلے بائیس خاندانوں کا ذکر اخبارات کی زینت بنتا تھا آج سینیٹرز منتخب ہونے کے لیے تھیلوں میں نوٹ بھر کر لانے کی خبریں ہیں، افسوس ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی۔ اصلاح کی فکر کون کرتا، سسٹم، حکمران، سب الجھن کا شکار، ارباب اختیار محو حیرت ہیں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔لیکن جمہوریت کسی جامد سیاسی نظام کا نام نہیں عوام کی عددی طاقت جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔ اسے گڈگورننس سے قابل رشک بنایا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضرورت ایک بڑے ’’شیک اپ‘‘ کی ہے۔ اس بڑی تبدیلی کی جو ملکی معیشت کے بنیادی تضادات کے خاتمہ سے شروع ہوسکتی ہے یا اس کا آغاز زرعی شعبے میں طبل جنگ بجانے سے ہوگا، حکمرانوں کو زرعی شعبے پر نظر مرکوز رکھنا ہوگی۔ ملک کے کسانوں، مزارعین اور ہاریوں کی زندگی میں تبدیلی نعروں سے نہیں ٹھوس عملی پروگراموں پر عمل درآمد سے لانا ہوگی۔یہ المیہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے انحطاط اور عوام کو جمہوری ثمرات سے محرومی کے غم وآلام سے نیم جاں کردیا ہے جبکہ سرحد کے اس پار بھارتی کسانوں کی تحریک نے مودی سرکار کی نیندیں اڑادی ہیں۔ اس تحریک نے ایک تسلسل اور عہد و عزم کے ساتھ اپنے مسائل بھارتی حکومت کے سامنے رکھے ہیں۔ پرجوش احتجاجی تحریک اور ریلیوں سے بھارتی سرکار 

سخت دبائو میں ہے، لیکن اس تحریک کا زمینی اور تاریخی و فکری پہلو قابل غور ہے۔ بھارتی اپوزیشن نے اس تحریک کو مسترد اور مطعون نہیں کیا، کسانوں کی قیادت سے بھارتی اپوزیشن قیادت نے رابطے استوار کیے، ان کے مابین بات چیت ہوئی، کئی مسائل پر اپوزیشن نے مودی حکومت کو شدید تنقید اور کسان دشمنی کا ذمہ دار قرار دیا۔ بھارتی حکومت کو آئینہ دکھایا کہ ایک طرف وزیراعظم نریندر مودی جمہوریت اور سیکولرزم کی رسوائیوں کا سبب بن رہے ہیں تو دوسری طرف وہ کسان قیادت کی جدوجہد کو سبوتاژ کرتے ہوئے انڈیا کو دنیا بھر میں بدنام کر رہے ہیں۔ کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتیں کسانوں کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت سکھوں اور کسانوں کو بھارتی جمہوریت سے کھرچ کر دور پھینکنا چاہتی ہے، مودی بحران پید اکر رہے ہیں، یہ رویہ غیرجمہوری اور غیر آئینی ہے۔ کسانوں کی 

تحریک دوسرے مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ کسان قیادت نے بی جے پی رہنمائوں کا سماجی مقاطعہ شروع کردیا ہے۔ مبصرین اور غیر جانبدار ماہرین کے مطابق بھارتی کسان اپنی دھرتی سے کمٹڈ ہیں۔ وہ اقتصادی طاقت کے حصول و تحفظ کی یقین دہانی، کموڈٹیز اور فارم سروسز ایکٹ دو ہزار بیس و بائیس کی منظوری کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کی تحریک پُرامن ہے مگر بھارتی حکومت اسے سختی اور بے رحمی سے کچلنے کا ہر ہتھکنڈا استعمال کر رہی ہے۔

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں کسانوں کی حالیہ تحریک اس اعتبار سے ہمارے انٹیلی جنشیا کے لیے چشم کشائی کا فکری سامان رکھتی ہے، حیرت ہے ملک کی کسان قیادتوں کا صائب ردّ عمل لینے کی کوئی حکومتی کوشش نہیں ہوئی ہے۔ شاید اس خیال سے بھی ارباب اقتدار محتاط ہیں کہ معاملہ دراصل بھارت کا ہے لیکن معاملہ بھارت کانہیں، کسان، مزارعین اور ہاری غذائی معیشت کے نگہبان ہیں۔ جبکہ غذائی سکیورٹی، قومی سالمیت اور معاشی بقا میں ان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے سیاستدان اور حکمران تحفظات کے باوجود اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتے، بھارتی کسانوں کی تحریک کے اثرات، اس کی انسانی اپیل ہمارے سیاسی رویے اور کسانوں کے مسائل کا تقابلی جائزہ ہماری سیاسی روش کا تعین کرے گی، اس کا پیغام ہمسائیگی کے عالمی اصولوں کے ساتھ مشروط ہے۔ آج کسان تحریک پر ہمارا سیاسی ردّ عمل عالمی انسانی اصولوں کی غمازی کرے گا، ہم دنیا بھر میں عوامی سیاسی اور دیگر اجتماعات کی اصولی حمایت کے حق کا استعمال بدستور جاری رکھ سکیں گے۔ہمارے کسان، ہاری اور مزارعے کب سے لب بستہ ہیں، ان کی کون سی حکومت نے فریاد سنی ہے۔ سندھ اور پنجاب کے کسان اور ہاری ہوں یا خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں، لسبیلہ، وندر، اتھل اور کراچی سے ملحقہ حب کے زرعی علاقے ہوں ، حکومت کو تمام زراعت پیشہ افراد کو جملہ سہولتیں بہم پہنچانی چاہئیں۔ گلوبلائزیشن کا دور ہے، ،بھارت میں کسان تحریک نے ایک فکری لکیر قائم کردی ہے ۔ انسانی بنیادوں پر اصولی یکجہتی ردّ نہیں ہوسکتی۔ ہمارے کسان، ہاری اور مزارعین کے سیاسی عزائم نہیں لیکن وہ اپنی زندگی کی تبدیلی اور مقامی تقدیر کے فیصلے تو کرسکتے ہیں۔ کل بھی کسان بھوک اور بیماریوں سے نڈھال تھا، وہ گنے کی کاشت لے کر، جائز قیمت کے لیے مڈل مینوں اور ملز انتظامیہ کی چوکھٹ پر منت سماجت کرتا ہے۔ اس کے اردگرد لہلہاتے ، سرسبز کھیت کھلیان ہیں مگر وہ خود اور اس کی بیو ی بچے قرونِ وسطیٰ کے دور میں رہتے ہیں۔ یہ حقیقت تو سب دیکھ ہی رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں زرعی شعبہ سے وابستہ افراد زراعت بیسڈ معیشت کے ثمرات سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہے، وہ لب بستہ نہیں رہ سکتے، ان کی آواز ارباب اختیار کو سننی چاہیے۔ 


ای پیپر