Political worker, deficit, Pakistani politics, PML-N, PPP, PTI
26 فروری 2021 (11:51) 2021-02-26

انتخابات میں ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات تو معمول کی بات ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ امیدوار انتخابات جیت جائیں تو موج میلے ان کے اور بے چارے کارکن بھنگڑے ڈالنے اور جیوے جیوے کے نعرے لگانے کے لئے مختص ہوتے ہیں۔ اگر ہار جائیں تو رنجیدہ ہونے کے لئے یہی بے چارے کارکن۔ گولی چل جائے تو اپنی جانیں یہی غریب لوگ گنواتے ہیں اور پھر پارٹی قائدین ان کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہو کر بے رحمانہ انداز میں اپنی پوائنٹ سکورنگ کرتے ہیں جیسا کہ ڈسکہ میں دیکھا گیا کہ ظلم کے پہاڑ ٹوٹنے والوں کے ساتھ کھڑے ہو کر سیاسی لیڈر کس بے دردی سے بیان بازی کر رہے تھے۔ جب کہ انتخابی مہم کے دوران انتخابی معرکہ نہیں جنگ قرار دینے والے لیڈر کچھ ہی دنوں بعد حلیف اور حریف ایک دوسرے سے شیر و شکر ہوتے ہیں۔ لیکن جن کی جانیں گئیں ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہو گا، خسارے میں ہمیشہ ورکر ہی رہتا ہے۔ ہمارے ملک میں جو سیاسی کلچر موجود ہے، اس کا خمیر وڈیرہ شاہی پر اٹھا ہوا ہے جہاں سیاسی رہنما وڈیرہ ہوتا ہے اور سیاسی کارکن ہاری خواہ وہ ملک کے اندر رہ رہا ہو یا ملک کے باہر۔

ضمنی انتخابات کے دوران اور اس سے پہلے حریف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے حلقے میں جس طرح مارکٹائی، دنگا فساد اور ہنگامہ آرائی کا ماحول قائم کیا اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کو نقصان بھی ہوا، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تبدیلی کے ہزار دعوؤں کے باوجود پاکستان کا سیاسی کلچر ہنوذ تبدیل نہیں ہوا۔ جو کچھ ہوا اس کا الزام حسبِ روایت دونوں فریق ایک دوسرے پر ڈال کر بری الذمہ ہو رہے ہیں جب کہ حقیقت یہی ہے کہ دونوں برابر کے قصور وار ہیں۔ ایک نشست کی کامیابی کے لئے اس قدر خون ریزی اور بد امنی یہ کیسی جمہوریت ہے؟ عوامی نمائندگی کے پر امن حصول کا جمہوری طریقہ تو یہ تھا کہ فریقین مناسب اندازمیں اپنی اپنی مہم چلانے کے بعد ووٹنگ کے دن فیصلہ عوام کی صوابدید پر چھوڑ کر ایک طرف ہو جاتے اور جو عوام فیصلہ کرتے اسے صدقِ دل سے قبول کر لیتے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک پر امن انداز میں انتخابی عمل ہونے دینے کا جمہوری اور تحمل کا کلچر پروان نہیں چڑھ سکا ہے اور جس کے پاس جتنی طاقت ہوتی ہے وہ اسی حساب سے زور زبردستی کے کے حربے آزماتا ہے۔ صرف وہی عوامی نمائندگی کا حقدار قرار پاتا ہے جس 

کے پاس طاقت مقابلتاً زیادہ ہوتی ہے۔ یوں تو یہ سارا دھونس دھاندلی اور وسائل کا بے جا استعمال روایت کے عین مطابق ہے لیکن اس قدر فعال الیکٹرانک میڈیا کی موجودگی میں ایسی ڈھٹائی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ہاں قاعدہ و قانون کی کوئی حیثیت اور خوف و احترام نہیں ہے۔ آج ملک سیاسی عدم استحکام اور زوال پذیری کی جس بد ترین صورتحال سے دوچار ہے اس میں سیاسی جماعتوں کے انہی شرمناک رویوں اور قانون کی پامالی کی ذہنیت کا ہی بنیادی کردار ہے۔ پاکستان کی گزشتہ چار دہائیوں کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک چیز کا بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے پاس سیاسی قیادت کا تقریباً عدم وجود رہا ہے۔ اس کی وجوہات بھی بہت سی ہیں۔ سیاسی نظام کو پنپنے کے مواقع بھی بہت کم دئیے گئے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک وجہ ہے ۔ قیادت کس چھلنی سے نکل نکل کر سامنے آ سکتی ہے وہ ہے صرف ایک مستند اور شفاف الیکشن، بدقسمتی سے ہم آج تک کوئی ایسا ادارہ تشکیل نہیں دے سکے جو مکمل غیر جانبداری سے انتخابات کرانے کی استطاعت رکھتا ہو۔ ہماری کسی بھی ملکی قیادت نے جاندار الیکشن کمیشن بننے ہی نہیں دیا۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے، ہر حکومت نے اس ادارہ کو استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اکثر اوقات اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لیے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس نے ہمارے سیاسی نظام کو ایک انتہائی کمزور کر دیا۔     

حالیہ دنوں میں ملک کے چاروں صوبوں کے آٹھ حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے ہیں۔ تین صوبوںمیں کوئی زیادہ بد امنی دیکھنے میں نہیں آئی صرف پنجاب کا این اے 75 کا ڈسکہ کا حلقہ ایسا تھا جہاں سارا دن فائرنگ کے واقعات ہوتے رہے ، اس فائرنگ سے دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کئی زخمی بھی ہوئے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جہاں بھی رانا ثناء اللہ پہنچ جاتے ہیں وہاں خون ریزی ہی کیوں شروع ہو جاتی ہے۔ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ لے لیں جہاں اتنی جانوں کا زیاں ہوا پھر فیصل آباد میں عمران خان کے جلسہ کا واقعہ لے لیں اور اس طرح کی مقامی سطح پر بہت سے واقعات ہیں جہاں جب بھی رانا ثناء اللہ کا نام آتا ہے تو ساتھ ہی سنگین بد امنی بھی آ جاتی ہے۔ پاکستان کی بڑی اپوزیشن جماعتیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں کے پاس احتجاجی ریلیاں نکالنے، جلسے کرنے، دھرنے دینے، لانگ مارچ کرنے اور پر جوش بیانات دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ وہ چونکہ حکومت میں نہیں ہیں ان کا مقصد محض حکومت گرانا ہے لہٰذا وہ پاکستان پر مرتب ہونے والے بھیانک نتائج سے بے پروا ہو کر ہر نوعیت کا جذباتی، نام نہاد، انقلابی اور انتہا پسندانہ مٔوقف اختیار کر سکتے ہیں۔ دلیل، منطق اور سچائی تو عرصے سے ہمارے ملک سے رخصت ہو چکی ہے۔ یہ تمام سفر ایک یا دو سال کا نہیں، بلکہ دہائیوں کا ہے۔ سیاسی کشمکش اور سیاسی اختلاف نے ہماری اخلاقی بنیادیں تک تباہ کر ڈالیں ہیں۔ سیاسی رہنماؤںکے ایک دوسرے پر حملوں کا مطالعہ کریں تو یقین فرمائیے کہ شرم آتی ہے۔ ذاتی کردار کشی، رکیک الزامات، شخصی لڑائی اور بغیر کسی حد و قید کے ایک دوسرے کو برباد کرنے کا جنون ہمارا قومی خاصہ نظر آتا ہے۔ انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے متعلق ایسی زبان استعمال کرنے کا رواج ڈال دیا جس سے جذباتیت کو ہوا ملتی ہے اور پھر کارکن مشتمل ہو کر ایک دوسرے پر حملے کرتے ہیں اس طرح خون ریزی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ بگاڑ ڈسکہ میں کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ 

پاکستان کی تاریخ میں حکمران اقتدار پر قبضہ جمائے رکھنے اور اقتدار سے باہر اقتدار حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر گزرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ یہ ہماری سیاسی تاریخ کا المیہ رہا ہے کہ ان کے مٔوقف صبح شام بدلتے رہتے ہیں۔ بد عنوانی ایک سماجی معمول بن چکا ہے۔ خود غرضی اور مفاد پرستی کی اخلاقیات غالب ہیں۔ تمام دوستیاں، رشتے ناتے، تعلقات اور محبتیں منڈی کے اس نظام کی خود غرضی اور خود پرستی کے زہر سے آلودہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ سچائی، دیانت داری اور انسانیت کا احساس کرنا ایک معاشرتی برائی بن چکا ہے۔ معاشرے میں مچے سنگین کہرام سے جس بے نیازی کا مظاہرہ ہوتا آ رہا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ در حقیقت ان میں سے ہر گروہ جب اقتدار میں آتا ہے تو اس کا واحد مقصد پہلے ٹولوں سے زیادہ شدید لوٹ مار کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام سیاست دانوں کے حالات کو سنبھال نہ سکنے کے بار بار کے تجربات سے دلبرداشتہ ہوتے جا رہے ہیں اور اب یہ بات برسرِ عام کی جانے لگی ہے کہ سیاست دان بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہر بار حالات کی کنی ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔ 


ای پیپر