Study, Hayat-e-Taiba, salvation, Pakistan, Riaz Chaudhry column
26 فروری 2021 (11:39) 2021-02-26

نبی اکرمؐ کوتمام جہانوں کیلئے حتیٰ کہ کائنات کے ذرے ذرے کیلئے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ایک طرف ظلم و استبداد کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف رحمتوں اور سخاوتوں کا ٹھاٹھیں مار تا ہوا سمندر ہے۔آپؐ کی رحمت نہ صرف مسلمانوں کیلئے تھی بلکہ اس سمندر رحمت سے مشرک اور کافر بھی سیراب ہوتے تھے‘ کائنات کی ہر چیز آپ کی رحمت سے فیضیاب ہوتی تھی۔ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی کہ یارسول اللہ آپؐ مشرکین پر بد دعا کریں، فرمایا میں لعنت کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیاہوں۔

یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ گزشتہ چند برس سے دانستہ یا نادانستہ طور پر مختلف ممالک میں آزادی اظہار کے نام پر مسلمانوں کی دل آزاری کی جا رہی ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر سے اہل ایمان نے ان عناصر کی نہ صرف بھر پور مذمت کی بلکہ اس کا موثر جواب د ینا ضروری سمجھا ہے۔ لہٰذا حکومتی سطح پر فیصلہ کیا گیا کہ ہر سال ربیع الاول میں ہفتہ شان رحمت اللعالمینؐ سرکاری سطح پر منایا جائے گا۔اس سلسلے میں صوبہ بھر کی درسگاہوں اور دیگر اداروں میں محافل نعت،محافل سماع، تقریری مقابلے اور دیگر تقاریب بھی منعقد کی جائیں گی۔

اب اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے طلبہ کے لئے رحمت اللعالمین ؐسکالرشپ کا جامع پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔جس کے تحت پنجاب میں انٹرمیڈیٹ اور بی ایس آنرزکرنے والے 14891 طلبہ کو مجموعی طور پر 41 کروڑ 70لاکھ روپے کے وظائف دیے جائیں گے اوراسے بتدریج بڑھا یاجائے گا۔ رحمت اللعالمینؐ سکالر شپ پروگرام کے اجرا کی پروقار تقریب میںعثمان بزدار نے رحمت اللعالمین ؐ سکالر شپ کی ویب سائٹ کا بھی افتتاح کرتے ہوئے 

کہا کہ نبی کریم ؐسے منسوب رحمت اللعالمینؐ سکالر شپ کا اجرا اعزاز ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہو ں جس نے ہمیں یہ توفیق دی۔ کوئی قلم ایسا نہیں جو نبی کریم ؐ کی شان لکھنے کا حق ادا کرسکے۔ زبان بھی سرور کائنات، شافع محشر،امام الانبیا، سیدالمرسلین، محسن انسانیت، احمد مجتبیٰ ؐکے اعلیٰ و ارفع مقام کو بیان کرنے سے قاصر نظر آتی ہے -’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ ہی عظمت رسولؐ کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی پاکؐ کی زبانی ہمیں درود سلام سکھا کر احسان عظیم کیا ہے ورنہ ہماری کیا بساط جو شان نبیؐ بیان کرسکیں ۔ نبی کریمؐ سے ہر مسلمان کی جذباتی وابستگی کو الفاظ میں بیان کرنا محال ہے۔

جہاں تک رحمت اللعالمینؐ سکالر شپ پروگرام کا تعلق ہے تو اگلے بجٹ میں اس کو ایک ارب روپے تک بڑھایا جائے گا۔ اس کادائرہ کار دیگر پروفیشنل ڈگری ہولڈرز تک وسیع کیا جائے گاجبکہ سکالر شپ 50 فیصد میرٹ پر ہونہار طلبہ کو اور 50 فیصد ضرورت مند اور نادار طلبہ کو دیئے جائیں گے ۔ ہونہار اور نادار طلبہ کے لئے سکالر شپ کے فنڈ میں بتدریج اضافہ کیاجائے گا ۔ہر سال اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔سرکاری کالجوں اور30 سرکاری یونیورسٹیوں کے طلبا وطالبات رحمت اللعالمینؐ سکالر شپ سے مستفید ہوں گے۔ سرکاری یو نیورسٹیوں میں بی ایس کرنے والے طلبہ کی پوری ٹیوشن فیس ادا کی جائے گی۔  انٹر میڈیٹ کرنے والے طلبہ کو ٹیوشن فیس کے ساتھ ساتھ سکالرشپ بھی دیاجائے گا ۔

 اس سلسلے میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ہائر ایجوکیشن پورٹل کا آغاز کر دیا گیاہے ۔سکالر شپ کے لئے شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے آن لائن سسٹم اور کوائف کی آن لائن تصدیق کا اہتمام کیا گیاہے۔سکالر شپ بینکوں کے ذریعے فراہم کئے جائیں گے۔طلبا وطالبات موبائل کے ذریعے ایپ پر اپلائی کرسکیں گے۔ حقدار تک حق پہنچانے کیلئے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے رحمت  اللعالمینؐ سکالرشپ دینے کا اہتمام کیاگیا ہے۔  رحمت اللعالمینؐ سکالرشپ سکیم میں حکومت پنجاب کے درجہ ایک سے چار تک کے ملازمین کے بچوں کا کوٹہ بھی مختص کیاگیاہے ۔  حضرت محمدؐکی شخصیت اور کردار کے اعلیٰ ترین پہلو دنیا عالم کے سامنے لانے کیلئے ہر ضلع کی ایک یونیورسٹی میں رحمت اللعالمین چیئر بھی قائم کی جائے گی اوراس چیئر کے تحت محققین کو پی ایچ ڈی کے لئے سکالر شپ دئیے جائیں گے۔یہ سکالر اپنی تحقیقات کے ذریعے سیرت النبیؐ کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق پیش کریں گے۔ اس جستجو کا محور عشق رسول ؐ کے تقاضوں کو نبھانا ہے۔رحمت اللعالمینؐ سکالرشپ نبی کریمؐ کی علم اور طالبعلموں سے محبت کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کاوش ہے۔

نبی کریم ؐنے ہمیشہ علم حاصل کرنے پر زور دیا ۔ آپ ؐ نے یہ بھی حکم دیا گیا کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے۔احادیث میں بار ہا اور قرآن مجید میں جگہ جگہ علم حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیاہے۔  اللہ تعالیٰ کے نبی ؐسے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ تشنگان علم کی پیاس کو بجھانے کے لئے تمام تر کوششیں کی جائیں، رکاوٹیں دور کی جائیں اور ممکنہ وسائل فراہم کئے جائیں۔آج اقوام عالم میں ان ممالک کا نام سربلند ہے جنہوں نے علم وتحقیق کو اختیار کیا ۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی اس فہرست میں مسلمان ملک کہیں نیچے پائے جاتے ہیں۔

تاریخ عالم میں نبی کریم کی سربراہی میں ریاست مدینہ جیسی شاندار اور بے مثال فلاحی مملکت نہ کبھی تھی اور نہ آئندہ آئے گی۔ ریاست مدینہ میں مساوات، برابری،سماجی انصاف اور احتساب کے اصولوں نے رعایا کو ہر قسم کی فکر سے آزاد کیا۔اسی ریاست مدینہ کے تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق رفاح عامہ کے اقدامات کئے گئے ہیں۔


ای پیپر